Loading
کراچی کے اسپتالوں میں مسکیولواسکیلیٹل ٹیومرز کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
بچوں میں عام طور پر ہڈیوں کے ٹیومرز پائے جاتے ہیں، جن میں اکثر درد ہوتا ہے لیکن بیرونی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ جبکہ بالغ افراد میں گوشت اور پٹھوں کے ٹیومرز زیادہ عام ہیں، جن میں ابتدائی طور پر درد نہیں ہوتا مگر سوجن ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار جناح اسپتال کے ماہر امراض ہڈی و جوڑ ڈاکٹر سجاد بگھیو نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کے دوران کیا، انہوں نے کہا کہ میں ہڈیوں اور نرم ٹشوز کے ٹیومرز کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں، جنہیں مسکیولواسکیلیٹل ٹیومرز کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں ہڈی، پٹھوں، چربی اور دیگر نرم ٹشوز کے کینسر شامل ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے لوگ اکثر انہیں نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اگر ہاتھ، پیر یا ٹانگ میں ایسی سوجن ہو جو مسلسل بڑھتی رہے، ایک ماہ سے زیادہ برقرار رہے یا سوجن ہو مگر درد نہ ہو، تو یہ خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔
اسی طرح ہڈیوں میں ایسا درد جو خاص طور پر رات کے وقت زیادہ ہو یا عام درد کی دواؤں سے ٹھیک نہ ہو، تشویشناک ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر معمولی چوٹ لگنے سے ہڈی ٹوٹ جائے تو یہ بھی اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ ہڈی میں پہلے سے کوئی بیماری یا کینسر موجود ہے۔ ایسی علامات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور فوری طور پر ماہر آرتھوپیڈک یا آنکولوجی سرجن سے رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ دیسی علاج پر انحصار کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہمارے پاس ان کیسز کے ماہر ڈاکٹرز کی کمی ہے،لیکن پھر بھی تمام ڈاکٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ اگر اگر زرا بھی شک ہو تو بائیوپسی سے پہلے کوئی علاج نہیں ہونا چاہئے اور بائیوپسی سے پہلے کیس کی پوری تحقیق ہونی چاہئے، ہمیں شک ہوتا ہے تو سب سے پہلے ایکس رے اور ایم آر اے سمیت دیگر ٹیسٹ اور بائیوپسی کرواتے ہیں۔ یہ سب مراحل کے بعد ہم علاج کی جانب بڑھتے ہیں،جس سے ہمیں بیماری کی موجودگی اور شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔
مزید برآں شدید کیسز میں پہلے ہم کیمو تھراپی اور ریڈیو تھراپی سے بیماری کو سکھیڑدیتے ہیں اور اس کے بعد ہم مریض کی سرجری کرتے ہیں،گوشت اور پٹھوں کے ٹیومر بالغ میں عام ہیں یہ اکثر بغیر درد کے ہوتے ہیں جبھی ان پر توجہ نہیں دی جاتی،لیکن گوشت اور پٹھوں کے ٹیومرز میں سوجن ظاہر ہونے لگ جاتی ہے،جبکہ بچوں میں ہڈیو کے ٹیومرز زیادہ ہوتے ہیں جن میں وہ درد کی شکایت بھی کرتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل