Loading
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کو دوسرا انجکشن 25 فروری کو لگے گا اور اگر لیزر آپریشن کی ضرورت پڑی تو وہ بھی کیا جائے گا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ گزشتہ روزعمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ اڈیالہ جیل کے اندر حکومتی ہدایات کے مطابق مکمل شفافیت کے ساتھ کرایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر ضروری سہولت موقع پر فراہم کی تاکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی کا سوال پیدا نہ ہو، خصوصی طور پر Slit Lamp، OCT Scan مشین اور مکمل سہولیات سے لیس ہیوی ایمبولینس جیل کے اندر پہنچائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پمز کے ڈاکٹر عارف اور شفاء اسپتال کے ڈاکٹر ندیم قریشی نے فزیکل معائنہ کیا جبکہ سینئر ماہرین ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر مرزا کانفرنس کال پر موجود رہے اور بیرسٹر گوہر کو بھی تمام پیش رفت سے آگاہ رکھا گیا۔
طارق فضل چوہدری نے لکھا کہ ’ابتدائی رپورٹ کے مطابق سوجن میں واضح کمی آئی ہے، بینائی میں بہتری آ رہی ہے جبکہ معائنے کے دوران آنکھ میں کوئی بڑی پیچیدگی سامنے نہیں آئی ہے‘۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے خاندان کو بھی باقاعدہ مطلع کیا کہ وہ معائنے کے دوران موجود رہ سکتے ہیں تاہم خاندان کی جانب سے کوئی نمائندہ نہیں آیا، اس کے باوجود تمام کارروائی آزاد ماہرین کی نگرانی میں کی گئی۔
طارق فضل چوہدری نے لکھا کہ عمران خان کو ایک انجکشن لگ چکا ہے جبکہ دوسرا 25 فروری کو لگایا جائے گا، ماہرین کی رائے میں Vabysmo ایک متبادل ہو سکتا ہے مگر فی الحال Eylea جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اتوار کی دوپہر عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ اڈیالہ جیل کے اندر حکومتی ہدایات کے مطابق مکمل شفافیت کے ساتھ کرایا گیا۔ حکومت نے ہر ضروری سہولت موقع پر فراہم کی تاکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی کا سوال پیدا نہ ہو۔
خصوصی طور پر Slit Lamp، OCT Scan مشین اور مکمل سہولیات سے لیس ہیوی…
— Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) February 16, 2026
انہوں نے کہا کہ جبکہ موجودہ علاج کے مثبت نتائج سامنے آرہے، اگلا مرحلہ angiogram ہے، جس کے بعد اگر ضرورت ہوئی تو لیزر ٹریٹمنٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ قیدی کی حیثیت کے باوجود عمران خان کو تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو معیاری علاج مہیا کرے اور عمران خان کے معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی گئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل