Loading
سانحہ گل پلازہ کے تحقیقاتی کمیشن کی پہلی سماعت ہوئی جس میں 23 متاثرین نے بیانات قلم بند کروادیئے، لوگ بیان دیتے ہوئے روپڑے اور انہوں ںے امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، عینی شاہدین نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا آگ بجھانے کے لیے جدید آلات ہی نہیں تھے، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، سانحے میں سراسر غلفت کا مظاہرہ کیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی پہلی سماعت جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے دفتر میں ہوئی۔ اس موقع پر کمیشن کے ممبران اور متاثریں موجود تھے۔ کمیشن کی کارروائی سے قبل شہدا کے لیے دعا کی گئی۔ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل نے سانحے میں جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے ملاقات کی۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں۔ چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے۔ ہمیں شہادتوں کا بہت افسوس ہے۔ ٹریبونل کا مقصد مستقبل میں ایسے واقعات یا جانی نقصانات کی روک تھام ہے۔ مالی نقصان کاازالہ ہوجاتا ہے جانی نقصان کا نہیں ہوتا۔ آپ کے لیے کچھ سوالات تیار کئے ہیں۔ آپ کی معاونت چاہتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو یہاں دیدیں، چاہیں تو ہائی کورٹ آجائیں وہاں بھر دیا جائے۔ بہت سے لواحقین یہاں نہیں ہیں۔ چاہیں گے کہ تمام لواحقین اپنے بیانات دیں۔ تاکہ تمام حقائق تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ ہم عوام حکومت سب سے معلومات مانگ رہے ہیں۔ چاہتے ہیں ریسکیو ورکرز تک بھی رسائی ملے۔ تمام معلومات کی بنیاد پر جوابات تیار کرنے ہیں۔
جاں بحق شہری عبدالحمید کی والدہ شہناز نے کہا کہ میری بیٹے سے فون پر بات ہوئی کہ رات تک گھر آجائیں گے ساڑھے 10 بجے بات ہوئی تو پتہ چلا آگ لگ گئی ہے بیٹے نے کہا کہ بس نکل رہا ہوں مجھے پتہ چلا کہ جس بچے نے اسے نوکری پر لگوایا تھا اس کو بچانے کے لئے عبد الحمید رک گیا تھا ہمیں ٹکڑوں میں لاش ملی۔
جاں بحق شہری کے بھائی عبدالعزیز سے جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ آپ نے گل پلازہ میں کیا دیکھا؟ عبد العزیز نے بیان میں کہا کہ ساڑھے 10 بجے میں وہاں پہنچا، فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی پہنچی تھے ہماری آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہورہا تھا۔ جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ ایمبولینسز موجود تھیں؟ عبد العزیز نے کہا کہ ایمبولینسزحادثے کے مقام پرموجود رہیں لیکن اندر کوئی نہیں گیا۔ کمیشن کے سربراہ نے سوال کیا کہ کس چیز سے آگ بجھا رہے تھے؟ عبد العزیز نے جواب دیا کہ پانی یا کیمیکل تھا لیکن آگ نہیں بجھ نہیں رہی تھی آگ پر قابو ہوا تو عمارت گرنا شروع ہوگئی۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ کیا دروازے کھلے تھے؟ عبد العزیز نے کہا کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ دروازے بند تھے۔ صدر کہہ رہے کہ دروازے کھلے تھے۔ کمیشن کے سربراہ نے پوچھا آپ نے کیا دیکھا دروازے کھلے تھے یا بند تھے؟ عبد العزیز نے کہا کہ دروازے بند تھے۔
جاں بحق شہری عارف کے والد حفیظ نے کہا کہ عقبی حصے میں دھواں اس قدر شدید تھا کہ ریسکیو والے بھی اندر نہیں جاسکتے تھے اندر سے بچاؤ بچاؤ کی آوازیں آرہی تھیں، دھواں تھا تو نظر نہیں آرہا تھا اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں نے کوشش کی تو لوگوں سے کہا گیا کیوں خود کشی کرنا چاہتے ہو، عمارت گرنے والی ہے۔ 23 جنوری کو ڈی این اے کی مدد سے شناخت ہوئی تو ایدھی سے میت وصول کی۔ قانونی ماہرین نے پوچھا کہ جب آپ پہنچے تو کتنی گاڑیاں تھی؟ حفیظ نے بتایا کہ 2 گاڑیاں عقبی اور ایک فرنٹ پر موجود تھی۔ اندر سے ہلکے پھلکے دھماکوں کی آوازیں آرہی تھیں۔
جاں بحق عامر کے بھائی احسان کہا کہ سوا 10 بجے جب آگ لگی تو رابطہ ہوا تھا یہی بتایا کہ مارکیٹ میں آگ لگ گئی ہے آگ لگنے کے بعد امید نہیں تھی کہ کچھ بچا ہوگا۔ 29 جنوری کو ڈی این اے میچ ہوا تو بس تابوت بنا ہوا دیدیا۔ بھائی نے بتایا تھا کہ اوپر جانے کی کوشش کی لیکن دھواں بہت تھا۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو موجود تھے لیکن پانی کی قلت تھی۔ 2 گھنٹے بعد ٹینکر آیا۔ ریسکیو آپریشن صبح شروع کیا گیا۔
جاں بحق حیدر علی کے والد ہادی نے کہا کہ مجھے انتظامیہ نے بیٹے کے بارے میں کہا کہ وہ یہاں کام نہیں کرتا تھا مجھے سی پی ایل سی سے کال آئی کہ ڈی این اے میچ ہوگیا ہے غریب آدمی ہوں کہاں کہاں خوار ہونگا۔ یہ آگ معمولی آگ نہیں تھی، 10 سے 15 منٹ میں آگ نے عمارت کو لپیٹ میں لے لیا اس کی تحقیقات کی جائیں۔ روتے روتے محمد ہادی نے کہا کہ مجھے بہت پریشان کیا جارہا ہے۔
کمیشن کے روبرو جاں بحق حنیف کے بیٹے فہیم نے کہا کہ بھائی بھی عمارت میں موجود تھا، بلال نے عمارت سے چھلانگ ماری۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ ابھی طبیعت کیسی ہے؟ کیا وہ بات کرنا چاہیں گے؟ اگر کچھ روز میں وہ چاہیں تو ہمارے پاس آجائیں، اگر وہ چاہیں تو ہم انکے پاس چلے جائیں گے۔ فہیم نے کہا کہ اندر بہت اندھیرا تھا۔ 10 منٹ میں تنویر پاستا نے لائٹ بند کروا دی تھی۔ پانی کی کمی کا سامنا تھا۔
جاں بحق سلیم کے بیٹے محمد روحا نے کہا کہ آگ کے بعد افرا تفری مچی ہوئی تھی ادارے صرف نام کے تھے۔ پروفیشنل لیول کا کام نہیں کررہے تھے۔ ایک ہفتے تک موجود رہا ہوں۔ شروع میں ایک گاڑی پھر پونے گھنٹے بعد دوسری گاڑی آئی۔ لوگوں سے سنا کہ گاڑی میں ڈیزل نہیں، کوئی منصوبہ بندی کے ساتھ کام نہیں کررہا تھا، مسجد کی طرف ایک شخص کھڑکی سے لائٹیں مار رہا تھا۔ اتنے اداروں کے باوجود اسکو بچا نہیں سکے۔ لائٹیں بند، راستے بند، نہ ریسکیو کے انتظامات، سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ورثا کو دھکے مارے گئے، ہمارے پیارے اندر پھنسے تھے اور ہمارے ہی ساتھ برا رویہ اختیار کیا۔ خود سےلوگ نکلے اداروں نے کسی کو نہیں نکالا۔
عمر نبیل کے بھائی راحیل نے کمیشن کے روبرو کہا کہ سوا 11 بجے گل پلازہ پہنچا، ایک اسنارکل اور 2 فائر ٹینڈرز موجود تھے، عقبی راستے سے دوسرا اسنارکل پہنچا۔ عقبی راستے میں رکاوٹوں کی وجہ سے اسنارکل کو مشکلات تھیں۔ بھائی کی ہم زلف سے بات ہوئی، بتایا کہ کسی کراکری کی دکان میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دھواں بہت زیادہ ہے، سانس لینے میں مشکل تھی۔ فائر بریگیڈ موجود تھی آلات موجود نہیں تھے۔ اسنارکل بھی صرف پانی ڈالنے کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔ آگ خود بجھی ہے۔ فائر بریگیڈ کو خود نہیں پتہ تھا کس نوعیت کی آگ ہے۔ میزانائن فلور پر پہلے دھواں بھرا۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نکلے۔ بلڈنگ کے اندر اعلان کا انتظام تھا لیکن اعلان نہیں کیا گیا۔ 30 منٹ میں لوگوں کو باہر نکالا جاسکتا تھا۔
دبئی کراکری والے کے بھائی نے کہا کہ فیملی موجود ہے ان کو چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔ زیادہ تر دکانیں اینٹوں سے بند تھیں۔ دھواں باہر نکلنے کی کوئی جگہ نہیں۔ فائر بریگیڈ والے صرف دیواروں پر پانی مار رہے تھے، دکانوں میں کھڑکیوں کو سامان سے بند کیا ہوا تھا۔ ریسکو کرنے والا عملہ ناکارہ تھا اسے کچھ پتا ہی نہیں تھا۔
ایک شہری نے کہا کہ میرا نام قیصر ہے میری اہلیہ راحیلہ، سالی کائنات اور بیٹے وہاں تھے۔ جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کیا کرنے گئے تھے وہ وہاں اس پر قیصر نے بتایا کہ شاپنگ کرنے گئے تھے، رات 9 بجے بات ہوئی آخری لیکن اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ جب آگ کا پتا لگا تو وہاں پہنچا میں نے دیکھا کہ گل پلازہ کے آگے سائیڈ اور پیچھے سائیڈ پر آگ تھی۔ میں انتظامیہ سے کہا کہ یہاں آگ نہیں لگی ہے رمپا پلازہ والی گلی سے دیوار توڑ دی جائے لوگ نکل جائیں گے لیکن ہماری نہیں سنی گئی اور آگ پھیل گئی۔ فائر بریگیڈ نے بھی پانی صرف دیواروں پر مارا پانی اندر نہیں جارہا تھا۔ تین دن گزر کے بعد میری امید دم توڑ گئی کہ کوئی زندہ ہوگا بس۔ میں نے کہا اداروں سے کہ ہمارے پیاروں کی لاشیں ہیں نکال دیں۔ آگ کی وجہ سے بلڈنگ بھی گرگئی جو زندہ بھی تھے وہ بھی مرگئے۔ میں نے اداروں سے سے کہا آپ کے پاس مشنری ہے جو لوگوں کو نکال سکیں۔ مجھ سے کہا گیا ریسکیو اداروں نے کہ ہمارے پاس جدید مشینری موجود ہے۔ لیکن ریسکیو اداروں کے پاس کوئی مشینری موجود نہیں۔
روتے روتے قیصر نے کمیشن کو بتایا کسی افسر نے بات سننا گوارہ نہیں کی ہماری حکومت آگ لگنے کے بعد صرف آگ بجھنے کا انتظار کرتی ہے ہمارے پاس مشینری نہیں کہ ہم لوگوں کو نکال سکیں، میرے گھر کے 3 لوگ چلے گئے اور کسی نے کچھ نہیں کیا مجھ سے افسر نے کہاں کہ سم لوکیشن لے کر آؤ اپنے پیاروں کی۔ روتے ہوئے قیصر نے کہا کہ ہمارے ادارے لوکیشن نہیں نکال سکتے وہ مجھ سے کہہ رہے ہیں؟ یہ کیسا ظلم ہے کیسا نظام ہے؟ کمیشن کے سربراہ نے پوچھا کہ آپ سے یہ کس نے کہاں نام بتائیں۔ قیصر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نہیں بتاؤں گا مجھے بہت دھمکیاں مل رہی ہیں میں نے اللّہ کی رضا کے لیے سب کچھ چھوڑ دیا۔
خاتون صائمہ عمران نے بتایا کہ میرا بڑا بیٹا انس وہاں موجود تھا میرے بیٹے کی کال آئی کہ یہاں آگ لگ گئی ہے میرا دم گھٹ رہا ہے میں نے دوبارہ رابطہ کیا لیکن رابطہ نہیں ہوسکا، میں نے اپنے چھوٹے بیٹے اویس کو کہا کہ بھائی سے رابطہ کیا، اویس نے بتایا کہ امی بھائی کی کال آئی تھی وہ بول رہا تھا کہ اس کا دم گھٹ رہا ہے۔ اس دوران خاتون کمیشن کے سامنے رو پڑیں۔ روتے روتے خاتون نے کہا کہ میں نے بیٹے اویس سے کہا کہ بیٹا تم بچاؤ اسے، اویس نے کہا کہ امی میں رمپا پلازہ سے داخل ہونے کی کوشش کررہا ہوں۔ اویس نے کہا کہ امی راستہ نہیں مل رہا کالا دھواں ہے میں نے بیٹے سے کہا کہ بیٹا شرٹ اتار کر گیلا کرکے چہرے پر مارو اور جاؤ بھائی کو بچاؤ۔
روتے روتے خاتون نے کہا کہ میرا بیٹا حافظ بن رہا تھا اس ماہ رمضان اس نے قرآن سنانا تھا۔ میں 9 دن تک اپنی بہو کے ساتھ وہاں موجود رہی، لیکن اداروں نے کچھ نہیں کیا مرنے چھوڑ دیا میرے بچے کو۔ خاتون زارو قطار رو رو کر دہائیاں دینے لگیں، میرے بیٹے نے کہا کہ امی یہاں فائربریگیڈ کے پاس پانی بھی نہیں ختم ہوگیا ہے۔ میرا بیٹا اویس اپنی مدد آپ کے تحت اپنے بھائی کو بچانے کی کوشش کرتا رہا۔ اویس نے تین بار بتایا امی اندرسےعمارت بہت گرم ہے بھائی نے کیسے برداشت کیا ہوگا۔ جب میرا اویس آیا تو وہ بھی جھلسا ہوا تھا اتنی تپش تھی وہاں۔ ہمارے اداروں کے پاس مشینری نہیں ہے صرف لوگوں کے مرنے کا انتظار کرتے رہے۔ ایک اور بیٹا اویس نکل گیا تھا۔ کسی نے مدد نہیں کی۔ریسکیو اداروں کو اندر داخل ہونا چاہیئے تھا۔ میرا بچہ تو شہید ہوگیا۔ اوروں کے بچوں کو بچالو۔ میرے بیٹوں نے خود لائٹیں خرید کر اندر جاکر سرچ کیا۔
شہری عبدالحمید نے کہا کہ میرا بیٹا محمد عارف آنکھوں کے سامنے مرگیا، میں سورہا تھا مجھے کال آئی میرے بیٹے کی کہ آگ لگ گئی ہے۔ میرا بیٹا وہاں نوکری کرتا تھا 10 بجکر 21 منٹ پر کال آئی۔ پونے 11 بجے میں وہاں پہنچا میں نے اپنے بیٹے سے بات کی کہ بیٹا تمہاری قسمت ہوگی تو بچ جاؤ گے اور مجھے یقین تھا کہ بیٹا بچ جائے گا۔ میں نے اس سے کہا کلمہ پڑتے رہو۔ روتے ہوئے انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ جب آگ پھیلی تو میں سمجھ گیا میرا بیٹا نہیں بچے گا مجھے چکر آگئے اور میں گر گیا بے بے ہوش ہو گیا۔
خاتون مہناز نے کہا کہ بڑا بیٹا حیدر علی شاپ پر کام کرتا تھا اور چھوٹا بیٹا اسکول جاتا تھا لیکن سب چھوڑ کر وہ بھی کام پر لگ گیا میرے 2 بیٹے تھے اور دونوں ہی چلے گئے میں نہیں کہوں گی کہ آگ لگی یا لگائی گئی ہے 12 سو دکانیں ہیں بھگدڑ مچ گئی جس کہ وجہ سے لوگوں کو نکلنے کا موقع نہیں ملا، پونے 10 بجے تک مجھے نہیں پتا تھا پڑوسی بلال کی اہلیہ نے بتایا کہ آگ لگ گئی ہے۔ 2 بجے تک بیٹے کے نمبر پر کال جارہی تھی اس بعد کال نہیں گئی۔ میرے بچے چلے گئے خاتون کمیشن کے سامنے رو پڑیں۔ روتے روتے انہوں نے کہا سو نہیں پاتی بچے یاد آجاتے ہیں۔
ایک شہری ثناء اللہ نے کہا کہ میری حاملہ بہن عائشہ جاں بحق ہوئی ہے۔ ثناء اللہ چیخ کر رویا اور کہا بھائی تو بہنوں کے محافظ ہوتے ہیں لیکن میں بے بس تھا یہ کیسے ادارے ہیں ہماری ایس او پیز کیا ہیں۔ میں اپنی بہن کا محافظ نہیں بن سکا۔ 9 دن تک میرے پیارے جلتے رہے۔ متاثرہ شخص کمیشن کے سامنے بات کرتے ہوئےغم سے نڈھال ہوگیا۔
شہری عبد الحفیظ نے کہا کہ میرا داماد محسن جاں بحق ہوا جب آگ لگی تو فائر بریگیڈ افسر نے کہا کہ یہ ہی پانی ہے اور یہ ہی ڈیزل ہے، آپ پانی اور ڈیزل کا انتظام کرو ہم نے کیا اس کی پوری ذمہ داری سندھ حکومت پر آتی ہے حکومت نے ہمارے بچوں کا قتل کیا ہے۔ کم از کم فائر بریگیڈ کو اتنا تو فعال کریں کہ ان کے پاس پانی تو بھر پور موجود ہو۔ جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ یہ آپ کو کس نے کہا؟ انہوں نے کہا کہ مجھ سے فائر بریگیڈ والوں نے کہا کہ پانی کا بندوبست کریں اس رات پانی نہیں تھا ان کے پاس پورے پاکستان کو خبر تھی فائر بریگیڈ کو خبر نہیں تھی فائر بریگیڈ نے کہا ہمارے پاس یہی پانی ہے حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے لوگوں کی جانیں نہیں بچائی جاسکیں، دنیا میں نہیں آخرت میں انہیں پکڑیں گے۔ پیسوں کی کوئی اوقات نہیں ہے۔ فائر بریگیڈ کے پاس پانی اور ڈیزل کے پیسے تو ہوں۔ انڈسٹریل میں بھی یہی صورتحال ہے اپنا پانی دیتے ہیں فائر بریگیڈ کو۔ رشوت خور افسران بیٹھائے ہیں۔ ایک گھنٹے تک فائر بریگیڈ نہیں تھی کہا کہ ہمارے پاس یہی پانی ہے آپ پانی کا بندوست کریں۔ پالیسی بنانے والوں کا کام ہے سہولیات فراہم کریں۔ ہم نے انڈسٹریل ایریا میں پانچ 5 لاکھ روپے کا پانی دیا ہے۔ جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ فائر بریگیڈ کے کس افسر نے آپ سے کہا۔ عبد الحفیظ نے کہا کہ فائر بریگیڈ کے افسر تھے جس کا کہنا تھا کہ پانی نہیں ہے ہمارے پاس آپ بندوبست کرو ہمارا فجر تک رابطہ تھا محسن سے۔
جاں بحق ہوئے 6 افراد کے رشتہ دار جمیل نے کہا کہ پچ سکھانے ہیلی کاپٹر آسکتا ہے تو انسانی جان بچانے کیوں نہیں آسکتا؟ کیوں اعلانات نہیں کیے کہ چھت پر پہنچیں، اسنارکل سے چھت پر پہنچا جاسکتا تھا ہم دھکے کھاتے رہے، کہا جاتا رہا کہ دستاویز بنواؤ۔ اپنے گھر کے 6 افراد کو دفن کیا ہے۔ میرا پورا سسرال ختم ہوگیا۔ تالا ڈالا ہے گھر پر۔ ڈی سی آفس میں 5، 5 گھنٹے بٹھایا جاتا ہے۔ پتہ نہیں اب بھی کچھ ہوگا یا نہیں۔ ہمارے پیارے تو جل گئے۔ ذمہ داران آخرت کی آگ میں جلیں گے۔ ہم تھک چکے ہیں۔
جاں بحق سعد کے والد سعید نے بتایا کہ 10 بج کر 20 منٹ پر بیٹے سے بات ہوئی، اس نے کہا بس دکان بند کرکے پہنچ رہا ہوں اسکے 15، 20 منٹ بعد میرے بڑے بیٹے کی کال آئی کہ گل پلازہ میں آگ لگ گئی، میرا بیٹا 2 بار لوگوں کو بچا کر لایا تیسری دفعہ اندر گیا تو واپس نہیں آیا، رات ساڑھے 3 بجے مجھے میرے بیٹے نے کال کی تھی۔ میں ایک ہی دفعہ ساڑھے 11 بجے گل پلازہ آیا تھا۔
شہری زاہد فاروق نے بتایا کہ میرا بھتیجا چرچل اس سانحے میں چلا گیا، متاثرین کے لیے ون ونڈو آپریشن ہونا چاہیے۔ متاثرین کو مختلف جگہوں پر بلایا جاتا ہے۔ 6، 6 گھنٹے تک انتظار کرایا جاتا ہے۔ کمیشن سے درخواست ہے کہ تمام معاملات کو آسان بنایا جائے۔ لواحقین کی داد رسی کے لیے ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولت دی جائے۔
نوید کے بھائی جمیل نے کہا کہ اعلانات کیے جاتے تو لوگوں کو محفوظ رکھا جاسکتا تھا، حادثات کے بعد انتظامیہ کو ہوش آتا ہے۔ دکھانے کے لئے آگ بجھانے کا سامان رکھا جاتا ہے۔ چلانا کسی کو نہیں سکھایا جاتا۔ کسی مارکیٹ میں آگ لگنے کے بعد کیا کرنا ہے کسی کو نہیں پتا۔ راستے تنگ ہوتے ہیں، آگاہی ہی نہیں ہوتی۔ ہماری فائر فائٹر صرف دیواروں پر پانی مارتے رہے۔ کمیشن کی کارروائی ختم ہونے پر 33 شہیدوں کے 23 رشتہ داروں کے بیانات قلمبند کیئے گئے۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ کمیشن کو انتظامیہ کی جانب سے 64 لواحقین کی فہرست فراہم کی گئی ہے، کمیشن کی جانب سے متاثرین کے لیے سوال نامہ تیار کیا ہے، متاثرین سے گزارش ہے کہ سوال نامہ بھرنے کے بعد کمیشن کے سیکریٹریٹ یا ڈی سی ساؤتھ کے آفس میں جمع کرادیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل