Loading
ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X اور اس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ گروک کے خلاف یورپ میں دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آئرلینڈ ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے یورپی یونین کے سخت ڈیٹا تحفظ قوانین کے تحت ایلون مسک کے چیٹ بوٹ کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
آئرش ریگولیٹر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ تحقیقات اس بات پر مرکوز ہوں گی کہ آیا پلیٹ فارم نے یورپی صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔
ایلون مسک کے چیٹ بوٹ گروک پر الزام تھا کہ وہ صارفین کی درخواستوں پر غیر رضامندانہ اور جنسی نوعیت کی ڈیپ فیک تصاویر تیار کر رہا تھا جن میں بعض مبینہ طور پر بچوں سے متعلق بھی تھیں۔
یورپی قوانین اور ممکنہ جرمانے
آئرلینڈ کی ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن اس معاملے میں یورپی یونین کے جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (GDPR) کے تحت جانچ کرے گی۔ چونکہ X کا یورپی ہیڈکوارٹر ڈبلن میں واقع ہے، اس لیے آئرش ریگولیٹر کو پورے بلاک میں نفاذ کا اختیار حاصل ہے۔ قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر گراہم ڈوئل کے مطابق ادارہ کئی ہفتوں سے X کے ساتھ رابطے میں ہے، جب میڈیا رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی کہ صارفین گروک کو حقیقی افراد کی جنسی نوعیت کی تصاویر بنانے پر اکسا رہے ہیں۔
اسپین، فرانس اور برطانیہ میں بھی کارروائیاں
دوسری جانب اسپین کی حکومت نے X سمیت Meta اور TikTok کے خلاف بھی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ یہ پلیٹ فارمز بچوں کی ذہنی صحت، وقار اور حقوق پر حملہ کر رہی ہیں۔ اسپین پہلے ہی 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کی کوششوں کا اعلان کر چکا ہے۔
اسی دوران فرانس میں رواں ماہ X کے پیرس دفاتر پر چھاپے مارے گئے اور ایلون مسک کو تفتیش کے لیے طلب کیا گیا۔ برطانیہ کے ڈیٹا پروٹیکشن اور میڈیا ریگولیٹرز نے بھی الگ تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔
گروک اور xAI
گروک، مسک کی اے آئی کمپنی xAI کی تیار کردہ پروڈکٹ ہے، جس کے جوابات X پر عوامی طور پر نظر آتے ہیں۔ گزشتہ ماہ عالمی سطح پر اس وقت شدید ردِعمل سامنے آیا جب گروک نے لوگوں کو “برہنہ” یا شفاف لباس میں دکھانے والی تصاویر بنانے کی صلاحیت ظاہر کی۔ بعد ازاں کمپنی نے کچھ پابندیاں لگائیں، مگر یورپی حکام کے نزدیک یہ اقدامات ناکافی ہیں۔
پس منظر
یاد رہے کہ X پہلے ہی یورپی کمیشن کی جانب سے اس بات کی الگ تحقیقات کا سامنا کر رہا ہے کہ آیا پلیٹ فارم غیر قانونی مواد، بالخصوص بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یورپی ڈیجیٹل قوانین پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔
حکام کے مطابق آنے والے ہفتوں میں ان تحقیقات کے نتائج یہ طے کریں گے کہ X اور گروک پر مزید پابندیاں یا بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے یا نہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل