Wednesday, February 18, 2026
 

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: آسٹریلیا کا پہلے راؤنڈ میں باہر ہونا پاکستان کیلیے خوش بختی کی علامت؟

 



ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کا سپر ایٹ مرحلہ آغاز کے قریب ہے۔ سپر ایٹ مرحلے کی آٹھ میں سے سات ٹیمیں فائنل ہوچکی ہیں جبکہ آٹھویں ٹیم کا فیصلہ آج پاکستان اور نمیبیا کے میچ پر منحصر ہے۔ بارش کی صورت میں ایک ایک پوائنٹ اور میچ ہونے کی صورت میں پاکستان کو لازمی فتح درکار ہے۔ پاکستان کی شکست امریکی ٹیم کو سپر ایٹ کا پروانہ تھما دے گی۔ حیرت انگیز طور پر فیورٹس میں شامل آسٹریلوی ٹیم پہلے راؤنڈ میں ہی باہر ہوگئی ہے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ جب جب آسٹریلوی ٹیم آئی سی سی میگا ایونٹ کے ابتدائی راؤنڈ میں باہر ہوئی تب تب پاکستان ٹیم ایونٹ کی فاتح رہی۔ کیا واقعی ایسا ہے یا پھر یہ پاکستانی شائقین کرکٹ کی خوش فہمی ہے؟ آیئے ذرا تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان ٹیم نے اپنا واحد آئی سی سی ورلڈکپ 1992 میں جیتا جس میں آسٹریلوی ٹیم راؤنڈ روبن میں ہی باہر ہوگئی تھی۔ پاکستان ٹیم نے اپنا واحد ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2009 میں جیتا جس میں آسٹریلوی ٹیم گروپ مرحلے میں بغیر کوئی کامیابی حاصل کیے ہی باہر ہوگئی تھی۔ پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی کا واحد ٹائٹل 2017 میں جیتا اور حیرت انگیز طور پر آسٹریلوی ٹیم اس ایونٹ میں بھی گروپ مرحلے سے آگے نہیں جاسکی تھی۔ ایسے میں پاکستانی شائقین کرکٹ نے یہ خوش فہمی پال لی ہے کہ آسٹریلوی ٹیم کے گروپ مرحلے میں باہر ہونے کے بعد اب یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ پاکستان جیتے گا۔ یہ ایک اتفاق ضرور ہے کہ جب پاکستان نے میگا ایونٹ جیتا تب آسٹریلوی ٹیم گروپ مرحلے میں باہر ہوگئی تاہم حیقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر پاکستان کی جیت آسٹریلیا کے ابتدائی مرحلے میں باہر ہونے سے جڑی ہوتی تو آسٹریلوی ٹیم 1979 اور 1983 کے ورلڈکپ میں بھی گروپ مرحلے سے آگے نہیں جاسکی تھی تاہم دونوں ایونٹس میں پاکستان کو سیمی فائنل میں شکست ہوگئی تھی۔ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ 2013 کی چیمپئنز ٹرافی میں آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ خود پاکستان بھی گروپ مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل