Wednesday, February 18, 2026
 

غزہ؛ اسرائیلی فوجی نے تاریکی میں ساتھی اہلکار کو دشمن سمجھ کر گولیوں سے بھون ڈالا

 



غزہ میں حماس کے خلاف ملٹری آپریشن کے لیے جانے والی اسرائیلی فوج کی دو ٹیموں کے درمیان رات کے اندھیرے کے باعث آپس میں ہی مڈبھیڑ ہوگئی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ علی الصبح تقریباً جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے قریب ’یلو لائن‘ کے علاقے میں پیش آیا۔ جہاں اسرائیلی فوج کی دو ٹیمیں حماس کے تعمیر کردہ ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے معمول کی کارروائی پر روانہ ہوئی تھیں۔ اس دوران ایک ٹیم کے اہلکار نے سامنے سے آنے والی ایک اور ٹیم کو رات کی تاریکی کی وجہ سے دشمن کے حملہ آور سمجھا اور گولی چلادی۔ اسرائیلی فوجی کے اہلکار کی فائرنگ سے دوسری ٹیم کا ساتھی اہلکار اسٹاف سارجنٹ 21 سالہ اوفری یافے شدید زخمی ہوگیا تھا۔ ترجمان اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اوفری یافے کو شدید زخمی حالت میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ دوران علاج چل بسا۔ اسرائیلی فوج نے اس واقعے کی مزید تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ غزہ میں برّی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے 472 اسرائیلی فوجیوں میں سے 80 آپس کی فائرنگ یا دیگر حادثاتی واقعات میں مارے گئے جبکہ 2 ہزار کے قریب زخمی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ ان حادثات کی وجوہات میں رابطے کا فقدان، شدید تھکن اور حفاظتی ضوابط پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا شامل ہیں۔ خیال رہے کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد غزہ میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 5 ہوچکی ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل