Loading
ریاست کے بیانیہ سے انحراف کرنے والے ہمیشہ مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ جب دنیا بھر میں بادشاہتیں قائم تھیں تو بادشاہ کے بیانیے کو قبول نہ کرنے والے افراد سخت سزا کے مستحق ہوتے تھے۔ عمومی طور پر ان افراد کو غدار قرار دے کر پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تھا۔
بادشاہ بہت سے افراد کو زندان خانہ میں بھیج کر بھول جاتے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ زندان خانہ میں جان دے دیتے تھے یا برسوں قید رہتے تھے۔ مغل بادشاہوں نے اپنے آباؤ اجداد کی اس طرح پیروی نہیں کی کہ غداروں کے سروں کے مینار بنائے جائیں مگر سب سے سخت موت کی سزا کو برقرار رکھا۔ مغل بادشاہوں کے دشمن ان کے قریبی رشتے دار بھی ہوتے تھے۔ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے حکم پر اس کے والد شاہجہاں کو زندگی بھر قید میں رکھا اور بھائی دارا شکوہ اور مراد بخش کو اندھا کر کے پھانسی دیدی گئی تھی۔
جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد ہزاروں لاکھوں افراد کو پھانسیاں دی گئیں۔ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو ایک تھال پیش کیا گیا۔ اس تھال میں ان کے بیٹوں کے کٹے ہوئے سر تھے مگر پھر جب کمپنی نے ہندوستان میں جدید نظام نافذ کیا۔ پولیس اور عدالتی نظام قائم ہوا تو اب سیاسی مخالفین کو سزا کے طور پر بحیرۂ ہند کے جزیرہ انڈیمان بھیج دیا جاتا تھا۔ اس اجاڑ جزیرے میں جانے والے وہیں مرکھپ جاتے تھے۔
جب 20 ویں صدی شروع ہوئی تو ہندوستان میں سیاسی جماعتیں مزدوروں،کسانوں اور دانشوروں کی تنظیمیں قائم ہوچکی تھیں۔ انگریز حکومت نے ایک محدود اختیارات کا بلدیاتی نظام بھی قائم کیا تھا۔ اس صدی کے پہلے عشرے میں آزادی کی تحریک ایک نئے انداز میں شروع ہوئی۔ خلافت تحریک ،کانگریس سودیشی تحریک اور عدم تعاون کی تحریکیں چلائی گئیں۔
ان تحریکوں میں لاکھوں ہندوستانیوں نے گرفتاریاں دیں اور سیکڑوں افراد نے سرکاری ملازمتوں سے استعفے دیے۔ اب انگریز حکومت نے 1894 میں Prision Act نافذ کیا۔ اس قانون میں جیلوں کے انتظام اور قیدیوں کے حقوق کا پہلی دفعہ تعین ہوا۔ جب تعلیم یافتہ افراد سیاسی تحریکوں میں رضاکارانہ طور پر جیلوں میں گئے تو فرسودہ جیل قوانین اور قیدیوں کے حقوق کا معاملہ اخبارات اور عدالتوں کا ایجنڈا بن گیا۔ انڈین لیجسلیٹو کونسل میں سیاسی قیدیوں کے حالتِ زار پر سوال اٹھائے گئے جس پر انگریز حکومت نے 1919-1920 میں جیلوں میں اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی اور اس کمیٹی کی سفارشات پر جیل مینوئل میں بنیادی تبدیلیاں ہوئیں۔
گزشتہ صدی کے 45 برسوں کے دوران کانگریس ، جمعیت علمائے ہند، کمیونسٹ پارٹی اور دیگر انقلابی تنظیموں کے تمام رہنما جیل گئے۔ ان میں مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لعل نہرو اور ان کی اہلیہ کیٹی، مولانا ابو الکلام آزاد اور مولانا حسرت موہانی جیسے جید رہنما شامل تھے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو جب 1935 میں نظربند تھے تو ان کی اہلیہ کملا کو ٹی بی کا مرض ہوا۔ اس کے علاج کے لیے انھیں سوئٹزر لینڈ لے جایا گیا۔ حکومت نے پنڈت جواہر لعل نہرو کو اپنی اہلیہ کے پاس جانے کے لیے پے رول پر رہا کیا۔ جب ’’ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘‘ کے روحِ رواں کانگریس کے اہم رہنما احمد نگر قلعہ میں نظربند تھے تو مولانا ابو الکلام آزاد کی اہلیہ بیمار ہوگئیں مگر مولانا ابو الکلام آزاد کی ملاقاتیں بند تھیں۔
ان کی اہلیہ کی بیماری کے بارے میں انھیں خط کے ذریعے اطلاع دی گئی۔ اسی طرح ان کی اہلیہ کے انتقال کی اطلاع بھی خط کے ذریعے دی گئی مگر جب مولانا ابو الکلام آزاد رہا ہوئے تو انھیں تمام خطوط ملے۔ اسی طرح آزادی کے ہیرو بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو جیل مینوئل کے مطابق کوئی سہولت نہیں دی گئی۔ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے جیل میں ناقص سہولتیں اور خراب خوراک کے خلاف 15 جون 1929کو بھوک ہڑتال شروع کی۔ اس 63 دن کی ہڑتال میں ان کے ساتھی جتن نارتھ داس انتقال کرگئے۔
پاکستان بننے کے بعد انگریز دور کے جیل کے قوانین برقرار رہے۔ اب برسر اقتدار حکومتوں نے سیاسی منحرفین کو بغاوت اور امن و امان کی دفعہ 144 جیسے قوانین کی خلاف ورزی اور حتیٰ کہ دشمن کا ایجنٹ ہونے کے الزام میں گرفتارکرنا شروع کیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد خان عبد الغفار خان ولی خان خدائی خدمت گار تحریک کے کارکنوں، بلوچستان سے عبدالصمد اچکزئی، پنجاب اور سندھ سے کمیونسٹ پارٹی، مزدور کسان تنظیموں اور طالب علم رہنماؤں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع ہوا۔ معروف صحافی اور ادیب حمید اختر نے جیل کے حالات پر اپنی معرکتہ الآراء کتاب ’’ کال کوٹھری‘‘ تحریر کی۔ اس کتاب نے ملک کی جیلوں کی ناگفتہ بہ حالات کو آشکار کیا۔ حمید اختر نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ سینئر صحافی حسن عابدی ملتان جیل کی ایک کھولی میں بند تھے۔
ایک کبوتر ان کی کھولی کی کھڑکی پر بیٹھ جاتا تھا۔ حسن عابدی اس کبوتر سے ہم کلامی کرتے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے عابدی صاحب کے سامنے اس کبوتر کو ذبح کردیا تھا۔ حکومت نے 1956 میں سابق انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کی قیادت میں جیل اصلاحات کی سفارشات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی۔ اس کمیٹی کی سفارش پر انگریز دورکے فرسودہ جیل مینوئل میں معمولی تبدیلی ہوئی مگر قیدیوں پر تشدد، خطرناک قیدیوں کو بیڑیاں لگانے اور قیدیوں کو بند وارڈ کرنے کا سلسلہ جاری رہا اور پاکستان کی تمام جیلوں میں قیدیوں کے حالات انتہائی خراب رہے۔ ایوب خان کا دور ایک جبرکا دور تھا۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں کو جیلوں میں بند کرنا عام سی بات تھی۔ اس دور میں سیاسی قیدیوں پر لاہورکے شاہی قلعہ میں بدترین تشدد ہوتا تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما حسن ناصرکو شاہی قلعہ میں تشدد کر کے ہلاک کردیا گیا تھا۔
اسی دور میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو ڈیفنس پاکستان رولز (D.P.R) کے تحت گرفتار کیا گیا، وہ کئی ماہ تک ساہیوال جیل میں نظربند رہے۔ بھٹو دور میں پھر جیلوں میں اصلاحات ہوئیں۔ خواتین اورکم عمر ملزم بچوں کے بارے میں قانون میں تبدیلی ہوئی مگر سیاسی قیدیوں کے ساتھ جیلوں میں بدترین سلوک ہوا۔ جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد لاہور جیل میں بدترین جسمانی تشدد کا شکار ہوئے، جب نیشنل عوامی پارٹی اور پیپلز پارٹی کے منحرفین کے خلاف حیدرآباد جیل میں بغاوت کا مقدمہ چلا تو ان قیدیوں کو خاصی بہتر سہولتیں فراہم کی گئیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں صحافیوں، مزدورکارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کو جیلوں میں کوڑے مارے گئے۔ کمیونسٹ پارٹی کے کارکن نذیر عباسی کو تشدد کر کے ہلاک کیا گیا۔ ان کے ساتھ سہیل سانگی، پروفیسر جمال نقوی، شبیر شر اور کمال وارثی کو لانڈھی جیل میں 18 ماہ تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔
پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو 8 ماہ تک سکھر جیل کی ایک بیرک میں بند رہیں۔ اس بیرک میں چھپکلی کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔ بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تو جیلوں کے حالاتِ کار کو بہتر بنانے کے لیے جامع اصلاحات نافذ کی گئیں۔ ان کے پہلے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا مگر ان اصلاحات سے جیلوں کے حالات میں خاطرخواہ تبدیلیاں نہیں آئیں۔ نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں سیاست دانوں کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کرنے کی روایت کی تجدید ہوئی۔
صدر آصف زرداری تقریباً 10 سال تک کرپشن کے الزام میں پنجاب اور سندھ کی جیلوں میں بند رہے مگر انھوں نے آدھی مدت اسپتالوں میں گزاری۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور شہباز شریف وغیرہ گرفتار ہوئے۔ آصف زرداری نے لانڈھی جیل میں ان کی میزبانی کی۔ آصف زرداری جب اڈیالہ جیل میں بند تھے تو مسلم لیگ ن کے رہنما ان کے مہمان رہے مگر میاں نواز شریف جنرل پرویز مشرف سے سمجھوتہ کر کے سعودی عرب چلے گئے۔
ان کے باقی ساتھی بعد میں جیلوں سے رہا ہوئے۔ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت 2008ء میں قائم ہوئی تو سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں کا سلسلہ رک گیا تھا۔ جب میاں نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بنے تو سندھ میں نیب نے پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا۔ تحریک انصاف کی حکومت میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف سمیت مسلم لیگ کے بیشتر رہنما گرفتار ہوئے مگر پھر میاں نواز شریف جیل میں سخت بیمار ہوگئے اور تاریخ میں پہلی دفعہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر انھیں لندن جانے کی خصوصی اجازت دی گئی۔
موجودہ دور میں 9 مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ سمیت بہت سے رہنما جیلوں میں بند ہیں۔ ان میں ڈاکٹر یاسمین راشد بھی شامل ہیں جوکینسر کی مریضہ ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر تحریک انصاف کے صدر اور بانی کی آنکھ کی بیماری کی رپورٹ شائع ہوئی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ گئی ہے۔ اب حکومت نے معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ بنانے کا فیصلہ کیا ، اگرچہ یہ فیصلہ دیر سے کیا گیا مگر یہ ایک مناسب فیصلہ ہے۔
1857 سے تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ کسی بھی دور میں مخالف بیانیہ رکھنے والے سیاسی رہنماؤں، دانشوروں اور صحافیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں رہا۔ دنیا بھر کے جدید ممالک میں جمہوری کلچر انتہائی مضبوط ہے۔ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں حکومت کے بیانیے کو رد کرنے والے رہنماؤں کے ساتھ اتنے ہی احترام کا سلوک ہوتا ہے، جتنا سربراہِ حکومت کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان ممالک کی ترقی کی ایک بڑی وجہ تنقید کے ادارے کا احترام ہے مگر ہم اس شعبے میں بھی پسماندہ ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل