Loading
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سات مقدمات میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی 50, 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرلیں جبکہ احتجاج کیس میں بھی بشری بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی گئی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے بانی پی ٹی آئی کی چھ اور بشری بی بی کی ایک ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کی۔
بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی، آزادی مارچ ، اقدام قتل، توڑ پھوڑ ، جلائو گھیرائو اور توشہ خانہ کی جعلی رسیدوں کے مقدمات درج ہیں جبکہ بشری بی بی کے خلاف بھی توشہ خانہ جعلی رسیدوں تھانہ کوہسار میں درج مقدمے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر دلائل دیے گئے۔
استغاثہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں دونوں ضمانت کے حقدار نہیں اس لیے انکی ضمانت کی درخواستیں خارج کی جائیں۔
وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ میرے اور عدالت کے کیرئیر میں ایسی ضمانت کی درخواستیں پہلی ہونگی جن میں اتنی تاخیر ہو، 63 التوا اس کیس میں ریاست کو دیئے گئے ہیں 30 ایسے مواقعوں پر عدالت نے جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی کو پیش کرنے کا حکم دیا مگر پیش نہیں کیا گیا، 5 مرتبہ سپرٹنڈنٹ جیل کو شوکاذ نوٹس جاری ہوئے۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میڈیکل بنیادوں پر نہیں میرٹ پر عدالت سے ضمانت مانگ رہے ہیں، اس سے قبل بانی پی ٹی آئی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی نو مئی کے علاؤہ کبھی کوئی درخواست مسترد نہیں ہوئی، کچھ کیسز سرکار ڈرانے کیلئے بناتی ہے جس میں فرد جرم کبھی عائد نہیں ہوئی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستیں ضمانتیں منظور کر لیں۔
دوسری طرف احتجاج اور توڑ پھوڑ کے الزام کے تحت درج تھانہ رمنا کے مقدمہ بھی بشری بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عامر ضیا نے 50 ہزار کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت کی درخواست منظور کی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل