Wednesday, February 25, 2026
 

افغانستان اور دہشت گردی

 



وزیراعظم میاں شہباز شریف کا دورہ قطر خاصی اہمیت کا حامل ہے۔قطر کئی اعتبار سے مشرق وسطیٰ ‘جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے امور میں اسٹریٹیجک نوعیت کے معاملات میں بھی شریک رہا ہے۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں عرصہ دراز تک افغان طالبان کا دفتر قائم رہا ہے اور دوحہ میں ہی افغان طالبان کے نمائندوں اور امریکی نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میںدوحہ معاہدہ عمل میں آیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ہی افغان طالبان کا کابل پر کنٹرول ہوا اور وہ افغانستان میں اپنا اقتدار قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ گو ان امور میں پاکستان بھی شریک رہا ہے جب کہ دیگر ممالک کا بھی کچھ نہ کچھ کردار رہا ہے ‘یہ حقیقت ہے کہ یہ سارے معاملات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہی طے ہوئے ہیں۔ قطر کے پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات بھی ہیں۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو وزیراعظم کا دورہ قطر خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ اخباری اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران پاکستان اور قطر نے دو طرفہ اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط کرنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے دوحہ میں قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر مملکت دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن الثانی نے ملاقات کی ہے جس میں دفاع اور سیکیورٹی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان جاری تعاون پر اظہاراطمینان کیا اور دفاعی تعاون مزید مضبوط اور تعاون کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کے عزم کااعادہ کیا۔ملاقات میں علاقائی امور بالخصوص ایران اور افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔  افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے ،عالمی قیادت اس صورت حال سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ افغانستان دہشت گردی کا ایپی سینٹر بن چکا ہے ،افغانستان میں مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والے گروہ بھی آپریٹ کر رہے ہیں ‘قوم پرستی کے نام پر دہشت گردی کرنے والے گروہ بھی موجود ہیں جب کہ جرائم پیشہ گینگز اور مافیاز بھی اس ملک میں آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں جو گروہ برسراقتدارہے ‘ اس کے اقتدار کا سارا دارومدار ان دہشت گرد گروہوں کے مرہون منت ہے۔ یہ دہشت گرد گروہ سرمائے کا غیرقانونی نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہیں جس کے ذریعے عالمی بلیک مارکیٹ سے جدید اسلحہ خریدا جاتا ہے ‘پٹرولیم مصنوعات بھی اسی پیسے سے خرید کر افغانستان منتقل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے طالبان حکومت کے زیر نگرانی کام کرنے والے ادارے ،اور گروہ کی نقل و حمل ممکن ہو رہی ہے۔ دہشت گرد گروہ بھی اپنی ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور تنخواہیں ‘اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی ذرائع سے کمائی گئی دولت سے پورا کرتے ہیں۔ ادھراگلے روز خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میںشکردرہ روڈ پر فتنہ الخوارج کے پولیس موبائل پر بزدلانہ حملے میں ڈی ایس پی اور 4 اہلکاروں سمیت 6 افراد شہید اور 3 اہلکار زخمی ہوگئے۔ دہشت گرد تسلسل سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں،دہشت گردوں نے سانحہ کرک کی طرز پرکوہاٹ میں بھی پولیس کی گاڑی کو آگ لگا کے ایک زخمی پولیس اہلکار کو زندہ جلا کے شہید کیا ۔دہشت گردی کی اس واردات میں پولیس کی زیرِ حراست ملزم بھی مارا گیا ، ڈی ایس پی لاچی اسد محمود اور ریڈر وہاب علی جھلس کر جب کہ ڈرائیور مدثر، اہلکار سید عامر عباس، سب انسپکٹر انار گل، اور راہگیر سمیع اللہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس ٹیم زیرِ حراست ملزم کو تفتیش کے لیے لے جا رہی تھی۔ دہشت گردی کے اس واقعے کے علاوہ جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے اعظم ورسک میں نامعلوم افراد نے گورنمنٹ گرلز اسکول کو بارودی مواد سے تباہ کر دیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اسکول کی عمارت مکمل طور پر ناقابل استعمال ہو گئی ،ادھر جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے پولیس کانسٹیبل عطاء اللہ کو شہید کر دیا۔ایک جانب یہ صورت حال ہے تو دوسری جانب پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جھڑپیں سرحدی علاقوں بازار ذخہ خیل، وراغہ، مارو سر اور شاکوٹ میں ہو رہی ہیں ، دونوں جانب سے بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔  ان سطور کے لکھے جانے تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم بتایا جا رہا ہے کہ صورتحال کشیدہ اور سیکیورٹی فورسز الرٹ ہیں۔پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے طورخم اور تیراہ میں ’بلااشتعال‘ فائرنگ کی ہے۔بی بی سی کے مطابق منگل کو ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے اس فائرنگ کا فوری جواب دیا اور ’طالبان کی جارحیت‘ کو روک دیااورکسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ افغانستان کی اشتعال انگیزیاں نئی نہیں ہیں‘ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے ‘پاکستان کے لیے اس وقت بھارت اور افغانستان ایک ہیں اور متحد ہو کر انٹی پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ ہونے کے بعد طالبان حکومت اور دہشت گرد مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ افغانستان کی طالبان رجیم کی اعلانیہ جنگ کا مکمل قومی عزم اور ملی یگانگت سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور ایسا کیا بھی جا رہا ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسزکودہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مکمل عوامی تائید حاصل ہے۔ادھر میڈیا میں ذرائع پاک فورسزکے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں ایف سی قافلے پر حملہ آور جوانوں کو جلایا جانا،کوہاٹ میں ڈی ایس پی اسد محمود کی شہادت اور بھکر میں خودکش حملہ، افغانستان کی طرف سے ریاست پاکستان کے خلاف ایک کُھلی جنگ ہے۔ پاکستان کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی روکنے کی مسلسل ڈیمانڈ اور اس پر عمل درآمد کے بجائے، افغان طالبان رجیم کی پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف یہ جنگ اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر افغانستان اور ہندوستان کی سرپرستی میں ہونے والی اس دہشت گردی کا مقابلہ کریں۔قومی سلامتی ، وقار اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری سیاست اور اجتماعی و انفرادی مفادات سے مقدم ہے۔ انسانیت اور اسلام کے دشمن خوارج کی سرکوبی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ادھر روسی وزارتِ خارجہ کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں 20ہزار سے23ہزار دہشت گردوں پر مشتمل ملیشیا موجود ہے جن میں نصف سے زائد غیر ملکی ہیں۔افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق داعش خراسان کے تقریباً3ہزار جب کہ ٹی ٹی پی کے 5 سے 7 ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ ٹی ٹی پی افغانستان سے پاکستان میں حملوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ القاعدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں،افغانستان القاعدہ کے لیے علاقائی روابط اور تربیت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے، القاعدہ کے تربیتی مراکز غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور ارزگان سمیت مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔داعش خراسان، افغانستان کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں مضبوط نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہے۔ اس کا طویل المدتی ہدف وسطی ایشیا تک پھیلاؤ ہے۔رپورٹ میں افغانستان میں مصنوعی منشیات کی تیاری میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ منشیات افغانستان سے بیرونِ ملک سب سے زیادہ اسمگل کی جا رہی ہیں۔ان دہشتگرد گروہوں کی وجہ سے افغانستان میں سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال تاحال پیچیدہ ہے جو خطے کے امن و استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ افغانستان میں طالبان رجیم کی مخالفت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔افغانستان کے ہمسائے ہی دہشت گردی سے تنگ نہیں ہیں بلکہ افغانستان کے عوام بھی دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے ڈیفیکٹو اقتدار سے تنگ ہیں۔ افغانستان میں بسنے والی مختلف قومیتیں‘لسانی اور ثقافتی اکائیاں ملک میں طالبانائزیشن کے سخت خلاف ہیں اور وہ افغان ملت کے تصور کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔اس حوالے سے افغانستان میں جدوجہد بھی جاری ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل