Wednesday, February 25, 2026
 

بے چارا سچ گیا پانی میں

 



کسی کا ایک خوبصورت شعر ہے سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں کیا کمال کی شے ہے یہ جھوٹ بھی۔بلکہ یوں کہیے کہ یہ وہ سکہ ہے جو ہر ملک،ہرشہر،ہربازار،ہر مارکیٹ اور ہر دکان میں چلتا ہے بلکہ یہ واحد سکہ ہے جو ہر دور ہر زمانے میں بھی چلتا ہے اور نہ کبھی پرانا ہوا ہے نہ کھوٹا ہوا ہے تاریخ میں بھی چلتا ہے اور جغرافیے میں بھی چلتا ہے، تاریخ اور جغرافیہ کا حدود اربعہ وجہ تسمیہ جنرل نالج، معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان میں بھی رواں دواں ہے۔ دین ومذہب،صنعت وتجارت اور کھیتوں کھلیانوں میں بھی چلتا ہے، گلی کوچوں اور بالاخانوں، چوباروں میں چلتا ہے، چوروں ڈاکوؤں میں بھی چلتا ہے اور ان کے مخالفوں یعنی کوتوالوں، قاضیوں اور قوانین اور دساتیر میں بھی چلتا ہے صرف ڈالروں میں چلتا نہیں ہے بلکہ دوڑتا ہے اور سیاست میں تو ڈالر سے بھی زیادہ چلتا ہے جب کہ جمہوریت میں یہ صرف پیروں سے ہی نہیں چلتا بلکہ’’پروں‘‘ سے اڑتا ہے گوروں،کالوں زردوں میں سرخوں اور سبزوں میں مطلب جدھر دیکھیے جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا یہ ہی یہ ہے۔یکساں طور پر محوخرام رہتا ہے مطلب یہ کہ ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں اگر آپ ہمیں کوئی ایک ایسی جگہ بتائیں جہاں یہ مقبول عام سکہ نہ چلتا ہو تو ہم آپ کو’’کولمبس‘‘قرار دیں گے اور اس کے مقابل اس کا سوتیلہ بھائی سچ۔ آخ تھو ۔خود اس پر بھی اور اس منہ پر بھی۔جس سے یہ نکلے پشتو میں اسے ماں کی گالی کہا گیا ہے اور سچ کہا گیا ہے بلکہ ماں بہن کے علاوہ پوتی دادی بیوی، خالہ پھوپھی ،چچی ممانی کی بھی گالی ہے۔اب اگر آپ کسی کو گالی دیں گے تو کیا ’’سردار‘‘ خوش ہوگا شاباشی دے گا؟نہیں بلکہ لٹھ لے کر آپ کے پیچھے دوڑے گا ۔ اور جھوٹ زباں پہ بارخدایا یہ کس کا نام آیا کہ میرے نطق نے بوسے مری زبان کے لیے اور بوسے کی قابل ہے بھی وہ زبان۔جس سے یہ امرت یہ آب حیات یہ شیروشکر اور یہ امرت دھارا نکلتا ہو اس میں یار جیسی خاصیت بھی ہے ہر غنچہ کہ گل دگرے غنچہ نہ گردد قرباں زلب یار گہے غنچہ گہے گل ویسے تو بہت سارے علما و فضلا دانا دانشوروں اور سالکوں نے اس کی مدح سرائیاں کی ہیں قصیدے لکھے ہیں لیکن ایک صاحب نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کوئی جھنکار ہے نغمہ ہے صدا ہے ؟ کیا ہے تو کرن ہے کہ کلی ہے کہ ضیا ہے،کیا ہے نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے تو تسلی ہے دلاسہ ہے دعا ہے کیا ہے اگر یہ اپنی صنف بدل لے اور مذکر سے مونث ہوجائے تو اسے حسینہ عالم،مس ورلڈ،مس یونیورس بلکہ مس کاسموس بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ویسے تو ہر ہر جگہ ہر ہر مقام پر اس کا بول بالا ہے لیکن سنا ہے کہ ایک مملکت ناپرساں عالی شان میں اس کی بہت چلن اور آؤ بھگت ہے بلکہ اس مملکت کا اصل حکمران کہیے تو بجا ہوگا کہ یہ وہاں کا آئین بھی ہے قانون بھی یہ ہے سماج بھی ہے رواج بھی اور سرتاج بھی ہے۔ سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد اس مملکت میں اس کے ہزار رنگ ہزار روپ ہیں تیری آنکھوں میں کئی رنگ جھلکتے دیکھے سادگی ہے کہ چھچک ہے کہ حیا ہے کیا ہے ہم نے ایک دانا دانشور سے پوچھا کہ مملکت ناپرسان عالی شان میں اس کثیر الفوائد کثیرالجہت اور کثیرالمقاصد اور کثیرالاستعمال نعمت کی اتنی زیادہ پذیرائی کی وجہ کیا ہے تو فرمایا کہ اس کی ایک الگ کہانی ہے۔کہ جب یہ مملکت وجود میں آئی جس میں ہر طرف ہر جگہ ہر مقام پر مواقع ہی مواقع تھے تو یہ مژدہ جاں فزا جھوٹ اور سچ نام کے دو سوتیلے بھائیوں نے بھی سنا جو ایک گاؤں میں رہتے تھے اور آپس میں دونوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ اس نئی مملکت میں جاکر روزگار ڈھونڈا جائے چنانچہ چل پڑے۔چلتے چلتے راستے کے کنارے ایک تالاب دکھائی دیا تو جھوٹ نے سچ سے کہا بھائی کیوں نہ اس تالاب میں ڈوبکیاں لگاکر فریش ہوا جائے، سچ نے کہا ٹھیک ہے پھر دونوں نے ایک درخت کے نیچے کپڑے اتارے اور تالاب میں اتر گئے۔ دونوں نہانے لگے تیرنے لگے۔ڈبکیاں لگانے لگے اور مستیاں کرنے لگے، تھوڑی دیر بعد سچ نے دیکھا کہ جھوٹ دکھائی نہیں دے رہا ہے، اس نے پورے تالاب پر نظر دوڑائی لیکن جھوٹ دکھائی نہیں دیا، تشویش ہوئی کہ کہیں ڈوب تو نہیں گیا۔کافی انتظار کے بعد جب کنارے کی طرف دیکھا تو جھوٹ کے کپڑے پڑے ہوئے تھے لیکن سچ کا لباس ندارد تھا پھر کافی دیر بعد اس کی سمجھ میں آگیا کہ جھوٹ اپنا ہاتھ کرگیا ہے وہ سچ کا لباس پہن کر بھاگ گیا ہے۔بیچارا سچ سن ہوکر رہ گیا کہ اگر جھوٹ کا لباس پہن کر جاؤں گا تو لوگ مجھے جھوٹ سمجھیں گے اور ایسے ہی ننگا لنگوٹ نکلوں گا تو لوگ دیوانہ سمجھ کر پتھر ماریں گے۔ دوسری طرف جھوٹ سچ کے لباس میں مملکت ناپرسان کی راج دھانی اکرام آباد پہنچ گیا تو اس کی زبردست پذیرائی کی گئی لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔اہلاً و سھلاً و مرحبا۔تو ہوا جلوہ گر مبارک ہو۔ اسے سرآنکھوں پر بٹھایا گیا اور جھوٹ مزے اڑانے لگا۔مسند پر بٹھادیا گیا اور سارے لوگوں نے اس کی بیعت کرلی خاص طور پر سیاست دانوں، پارٹیوں اور لیڈروں نے تو اسے ہم پیالہ و ہم نوالہ بنالیا۔ اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ کیا بیچارا سچ کبھی تالاب سے نکل پائے گا یا پانی میں اس کی’’جل سمادھی‘‘ ہوجائے گی؟

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل