Loading
بھارتی شہر لکھنؤ میں ڈرم قتل کیس میں مزید پیشرفت سامنے آگئی جس میں بیٹے نے باپ کو گولی مار کر قتل کیا اور لاش کے ٹکڑے کرکے چھپانے کی کوشش کی۔
بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق لکھنؤ میں ڈرم قتل کیس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس کی تازہ تحقیقات سے ہولناک حقائق سامنے آئے ہیں۔
پولیس کے بقول نوجوان اکشَت پرتاپ سنگھ نے اپنے والد منویندر سنگھ کو جھگڑے کے بعد گولی مار کر قتل کیا پھر لاش کو ٹکڑے کرکے مختلف مقامات پر پھینکنے کی کوشش کی۔
پولیس نے تفصیلات بتائیں کہ یہ واقعہ 20 فروری کو صبح تقریباً 4:30 بجے پیش آیا جب 21 سالہ اکشَت نے اپنے والد کے کمرے میں جا کر انہیں لائسنس یافتہ رائفل سے گولی مار دی تھی۔
مرنے کے بعد اکشَت نے باپ کی لاش کو تیسری منزل سے نیچے گراؤنڈ فلور منتقل کیا جہاں اس نے لاش کے دونوں ہاتھ، دونوں ٹانگیں اور سر کو الگ کر دیا۔
پھر اس نے باپ کی لاش کے ٹکڑوں کو نیلے رنگ کے بڑے ڈرم میں بند کیا جب کہ کچھ اعضا کو قریب سدراونا کے علاقے میں پھینک دیا اور سر کہیں اور ٹھکانے لگایا گیا جو اب تک نہیں مل سکا۔
ایک رپورٹ کے مطابق اکشَت نے 10 لیٹر کی کیروسین بھی خریدی تاکہ لاش کو جلانے کی کوشش کی جا سکے لیکن پولیس کی تفتیش نے اسے ناکام کردیا۔
قتل کی حیران کن وجہ سامنے آگئی
ابتدائی تحقیقات اور مقتول کے خاندان کے بیانات کے مطابق بیٹے اکشَت اور ان کے والد کے درمیان پروفیشنل و تعلیمی اختلافات تھے۔
والد اپنے بیٹے پر مقابلتی امتحان میں کامیابی کے لیے دباو ڈالتے رہتے تھے جب کہ اکشَت اپنے والد کے کاروبار پیتھالوجی لیب اور شراب کی دکانوں کے کاروبار میں جلد شامل ہونا چاہتا تھا جس پر اکثر تکرار ہوتی تھی۔
یہ اختلافات اس وقت گھمبیر ہوگئے جب گھر سے تقریباً 50 لاکھ نقدی اور زیورات چوری ہوگئے۔ اکشَت نے چوری کا الزام پہلے ایک ملازمہ پر لگایا تھا لیکن بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ چور اکشت ہی تھا۔
دونوں باپ بیٹے میں تکرار ہوئی اور والد نے پستول تان لی اور خوب ڈانٹ ڈپٹ کی جس کے بعد معاملہ رفع دفع ہوگیا لیکن پھر رات گئے اکشت نے والد کے کمرے میں داخل ہوکر اسی پستول سے قتل کردیا۔
پولیس پوچھ گچھ کے دوران اکشَت نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ سب غلطی سے ہو گیا اور قتل غیر ارادی تھا۔ قتل کے بعد خوف زدہ ہوگیا اس لیے لاش چھپانے کی ناکام کوشش کی۔
یاد رہے کہ اکشَت نے گرفتاری سے قبل خود تھانے جاکر اپنے والد کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی اور بتایا تھا کہ والد دہلی گئے ہوئے ہیں اور ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔
پولیس نے آلہ قتل یعنی رائفل، موبائل فونز اور دیگر شواہد قبضے میں لے لئے ہیں جسے فرانزک لیب بھیج دیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل