Thursday, February 26, 2026
 

مودی کا دورئہ اسرائیل: پاکستان کے لیے باعث تشویش؟

 



آج بروز جمعہ ، بتاریخ 27فروری2026، جب یہ کالم شائع ہوگا، بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی، اپنے سرکاری دو روزہ دَورئہ اسرائیل سے واپس اپنے ملک آ چکے ہوں گے ۔اُن کا یہ دَورہ 25اور26فروری کے دو ایام پر محیط تھا۔ یہ دَورہ ایسے ایام میں ہُوا ہے جب مغربی ایشیا پر خطرات کے کئی بادل منڈلا رہے ہیں ۔ جب امریکہ اپنے سامراجی مذموم مقاصد کی تکمیل اور حصول کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے کے لیے پر تول رہا ہے ۔ایرانی مذہبی انقلابی قیادت بھی اپنے تئیں اپنے موقف اور اپنے مبینہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ڈٹی ہُوئی ہے ۔ امریکہ کے مقابل ایران کا ڈَٹ جانا خود امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کو حیران اور ششدر کررہا ہے ۔ مودی جی نے ایسے ایام میں اسرائیل کا دَورہ کیا ہے جب چند دن قبل ہی امریکی صدر نے واشنگٹن میں ’’ بورڈ آف پیس‘‘ کے پہلے عالمی شہرت یافتہ اجلاس کی صدارت کی ہے ۔ اِس اجلاس میں مودی کو بھی مدعو کیا گیا تھا ، لیکن اُنھوں نے خود شریک ہونے کی بجائے اپنے ایک نمایندہ کو واشنگٹن بھیج دیا ۔ یہی اسلوب اسرائیلی وزیر اعظم ، نیتن یاہو، نے اختیار کیا ۔بورڈ آف پِیس کے پہلے اجلاس میں بھارتی شرکت کو ’’آبزرور‘‘ کا درجہ دیا گیا۔ اسرائیل اور بھارت گٹھ جوڑ خاصے گہرے بھی ہیں اور کسی سے مخفی بھی نہیں ۔ مودی جی ایسے ایام میں اسرائیل کے دَورے پر گئے ہیں جب ایک ہفتہ قبل ہی اسرائیل میں متعین امریکی سفیر ( Mike Huckabee) نے امریکی صحافی(Tucker Carlson) کو انٹرویو دیتے ہُوئے یہ لاف زنی اور دریدہ دہنی کی ہے کہ’’اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ کر لے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ اسرائیل کو یہ حق بائبل نے دیا ہے ۔‘‘ بین الاقوامی قوانین کی توہین کرتے اِس بیان کی پاکستان سمیت تمام عالمِ اسلام نے سخت الفاظ میں بیک زبان ہو کر مذمت کی ہے ۔ اِس بیان نے ایک بار پھر اسلام مخالف امریکی و اسرائیلی گٹھ جوڑ کی قلعی کھول دی ہے ۔وائیٹ ہاؤس نے ابھی تک اپنے سفیر کے مذکورہ بالا بیان کی تردید کی ہے نہ مذمت ؛ چنانچہ اِس پس منظر میں پاکستان کو نریندر مودی کے دَورئہ اسرائیل پر بجا طور پر تشویش ہُوئی ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اِس تناظر میں 24فروری کو پاکستانی سینیٹ میں ایک متفقہ قرار داد بھی منظور ہُوئی ہے جس میں واضح الفاظ میں کہا گیا :’’ یہ ایوان بھارت، اسرائیل گٹھ جوڑ اور صہیونی توسیع پسندانہ عزائم( امریکی سفیر کے مذکورہ بالا بیان کے حوالے سے) کی مذمت کرتا ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم اسرائیل کا دَورہ کررہے ہیں ۔ اِس پر بھی ہمیں تشویش ہے ۔ جس دن بھارت و اسرائیل (مودی کے دَورے کے بعد) میں نیا اتحاد تشکیل پائے گا، یہ سینیٹ اور حکومت اِس کا ڈَٹ کر مقابلہ کریں گے۔‘‘ اِس بیان کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مودی کے دَورئہ اسرائیل پر پاکستان کو واضح تشویش ہے ۔ یہ تشویش ہونی بھی چاہیے کہ اِس دَورے سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم ، نیتن یاہو، نے کھل کر کہا تھا:’’مودی میرا عزیز دوست ہے ۔ نریندر مودی کے اسرائیل آنے سے ہم دونوں ملک ایک نئے ،متنوع اور تزویراتی اتحاد میں پروئے جائیں گے ۔‘‘اور ہُوا بھی ایسا ہی ہے ۔ مودی کے اِس دَورے کے دوران بھارت اور اسرائیل کے درمیان جو مبینہ اسٹریٹجک معاہدے اور ایم او یوز ہُوئے ہیں ، عالمِ اسلام اور خاص طور پر پاکستان کو اِن پر تشویش ہے ۔ حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام اس لیے بھی مودی کے دَورئہ اسرائیل پر مشوش ہیںکہ غیر مبہم الفاظ میں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں آئے روز دہشت گردی کی جو خونی ، المناک داستانیں رقم ہو رہی ہیں، اِن کے عقب میں مقتدر افغان مُلّا طالبان اور بھارت کے اتحاد کی کارفرمائی ہے۔آگے بڑھ کر ہمارے ایک سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے اگلے روز مین اسٹریم میڈیا اسکرین پر یہ بھی کہا ہے کہ ’’ پاکستان کے خلاف طالبان کے افغانستان، نریندرمودی کے بھارت اور نیتن یاہو کے اسرائیل کا گٹھ جوڑ سب پر آشکار ہو چکا ہے ۔‘‘ پاکستان کے خلاف صہیونی اسرائیل و بھارت کا اتحاد (مئی 1999میں) اُس وقت بھی کھل کر سامنے آیا تھا جب اسرائیل نے کارگل میں پاکستانی مجاہدین و سیکیورٹی فورسز کا ہلاکت خیز مقابلہ کرنے کے لیے ہنگامی طور پر بھارت کو اپنے مخصوص میزائل فراہم کیے تھے ۔پاکستان کے خلاف یہ اتحاد اُس وقت بھی پھر کھل کر سامنے آیا تھا جب مئی2025 کی چار روزہ جنگ ( جس میں پاکستان نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا تھا)میں اسرائیل نے اپنے جدید ترین جنگی ڈرونز بھارتی فوج کو فراہم کیے تھے۔ 24فروری2026 کو ’’عرب نیوز‘‘ میں ( مودی کے دَورئہ اسرائیل کے حوالے سے) جو تفصیلی رپورٹ شائع ہُوئی ہے، اِس میں بھی اِن اسرائیلی جنگی ڈرونز کا ذکر کیا گیا ہے ۔ ’’عرب نیوز‘‘ نے اپنی مذکورہ بالا رپورٹ میں یہ بھی لکھا:’’ بھارتی وزیر اعظم بدھ ( 25اور26 فروری) کو جس اسرائیلی دَورے پر جا رہے ہیں، یہ تجارت ، کاروبار اور دفاع کے اعتبار سے نہائت اہم ہے ۔ اسرائیل دراصل بھارت کا اہم ترین ٹریڈ و ڈیفنس پارٹنر ہے۔ مودی کے اسرائیلی دَورے کا مطلب یہ ہے کہ بھارت مشرقِ وسطیٰ میں توازن کے ساتھ اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات کو بڑھا رہا ہے ۔‘‘ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ’’عرب نیوز‘‘ کی جانب سے بھارت کی اِس غیر معمولی تعریف کے کیا معنی ہیں؟ صرف پاکستان ہی کو نریندرمودی کے دَورئہ صہیونی اسرائیل پر تشویش نہیں ہے ، بلکہ خود بھارت کی اپوزیشن نے بھی کھلے الفاظ میں مودی کے اِس دَورے کی مخالفت کی ہے ۔ مثال کے طور پر کانگریس کے سیکریٹری جنرل ( جئے رام رامیش) نے مودی کے اسرائیل روانہ ہونے سے قبل کہا:’’ مودی جی کا دَورئہ اسرائیل کھلی منافقت ہیں۔ ماضی قریب میں بھارت اور مودی فلسطین کی کھلی حمائت کر چکے ہیں ۔ اب جب کہ اسرائیل پچھلے دو برسوں میں ایک لاکھ کے قریب اہلِ غزہ کو قتل کر چکا ہے، مودی کا اسرائیلی دَورہ چہ معنی دارد؟ مودی نے اِس دَورے سے ثابت کر دیا ہے کہ اُنھوں نے فلسطین اور فلسطینیوں سے ناتہ توڑ لیا ہے ۔‘‘ جئے رام رامیش نے مزید کہا:’’ بھارت اور مودی جی ایران سے بھی دوستی اور تعاون کا دَم بھرتے رہے ہیں ۔ اب جب کہ امریکہ اور اسرائیل اکٹھے ہو کر ایران پر میزائل برسانے کی تیاریاں کررہے ہیں، ایسے حساس لمحات میں مودی جی کا اسرائیل جانا ہرگز مناسب نہیں ہے ۔‘‘ لیکن نریندر مودی اپنے ہم وطن سیاسی حریفوں اور عالمی دوستوں کے طنزو تعریض اور نصیحتوں کے برعکس پندار کا صنم کدہ ویران کرتے ہُوئے اسرئیل پہنچے ۔ اُن کے دَورے سے فلسطین اور ایران کو بھی سب سے بڑا دھچکا اور دکھ پہنچا ہے۔ مگر ہندو بنیا سب سے پہلے اپنے مفاد دیکھتا ہے۔ مودی کا اسرائیل کے ساتھ ذاتی مفاد یہ بھی ہے کہ اُن کے ارب پتی قریبی دوست ( گوتم اڈانی ، جو بی جے پی اور آر ایس ایس کی بھرپور مالی امداد کرتے ہیں) اسرائیل کی ایک اہم ترین بندرگاہ(حائفہ) چلاتے ہیں۔ بھارت و اسرائیل کی دو طرفہ تجارت کا گراف بھی 4ارب ڈالر کو چھُو رہا ہے ۔ رُوس اور فرانس کے بعد اسرائیل وہ ملک ہے جو بھارت کو سب سے زیادہ جدیدترین دفاعی سازوسامان فراہم کررہا ہے ۔عالمی دفاعی معاملات پر کڑی نظر رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ ادارے SIPRI (اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پِیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ)کا دعویٰ ہے کہ پچھلے تین برسوں کے دوران بھارت نے دُنیا بھر سے جتنا بھی اسلحہ و دفاعی سازوسامان خریدا ہے، اِس کا13فیصد اسرائیل سے آیا ہے ۔ بھارت و اسرائیلی سفارتی تعلقات بھی پرانے اور گہرے ہیں ۔ آزادی کے ایک سال بعد ہی جواہر لعل نہرو نے اسرائیل کو بطورِ مملکت تسلیم کر لیا تھا۔ مگر باقاعدہ سفارتی تعلقات آج سے 33سال قبل  (1992کے دوران) معرضِ عمل میں آئے ۔ پاکستان دشمن نریندر مودی نے وزیر اعظم بنتے ہی اسرائیل سے ہر قسم کے تعلقات کو آگے بھی بڑھایا اور اِنہیں مضبوط بھی کیا ۔ مودی جی پہلے بھارتی وزیر اعظم ہیں جنھوں نے 2017 میںاسرائیل کا سرکاری دَورہ کیا ۔ اُس سے اگلے سال صہیونی اسرائیلی وزیر اعظم ، نیتن یاہو، نے بھارت کا سرکاری دَورہ کیا ۔ رواں برس بھارت اپنے ہاں ’’عرب لیگ‘‘ سے تعلق رکھنے والے وزرائے خارجہ کی کانفرنس بھی کروا چکا ہے ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل