Loading
اسرائیل کی حالیہ جنگجوئی کے نتیجے میں مقبوضہ مغربی کنارے کے مزید رقبے پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا ہے اور اب اس نے اعلان کیا ہے کہ اس علاقے کو ’’ اسٹیٹ کی ملکیت کی زمین‘‘ قرار دیا جاتا ہے یعنی یہ متنازعہ علاقوں کی اسرائیلی آبادکاری کے لیے فضا ہموار کر رہا ہے۔ ایک بار اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو اسرائیل اپنی ناجائز مقبوضہ زمین میں توسیع کرے گا اور اس زمین پر اسرائیلی بستیاں بسانے کا اسے اختیار حاصل ہو جائے گا۔ وہ اس ’’ نومقبوضہ‘‘ علاقے کو بھی اپنے دائرہ اختیار میں لینے کی راہ پرگامزن ہے، اس طرح وہ اس علاقے میں جدید یہودی بستیاں بسا کر فلسطین کے علاقے پر اپنے غیر قانونی تسلط کو قانونی شکل دینے کے لیے کوشاں ہے۔ اس طرح وہ اس امریکی امن منصوبے کے زیر سایہ، مسٹر ٹرمپ کی آشیرواد کے ساتھ اس علاقے کو اپنے تسلط میں لا کر فلسطین کے اصل باسیوں کو ان کے حق سے محروم کرنا چاہتا ہے۔ فلسطین کی سرزمین سے اہل فلسطین کو محروم کرنے کی اس سفاکانہ سازش کو امریکا کی خاموش حمایت حاصل ہے۔
ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں اس خطرے کا اظہارکیا تھا کہ امریکا غزہ کی تباہی کا باعث بنا ہے، اس نے غزہ کے پورے علاقے کو جس میں مغربی کنارے کا بڑا حصہ شامل ہے، کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے۔ اسرائیل ان پر حملے کرتا رہا، عمارتوں کو کھنڈروں میں تبدیل کرتا رہا۔ مکینوں کو بے مکان بناتا رہا اور امریکا اس ساری کارروائی میں اس کا ہم نوا نہیں سرپرست بنا رہا۔
نو سو چوہے کھا کر جب بلی حج کو جانے لگی اور صدر ٹرمپ نے اہل غزہ پر ترس کھا کر غزہ کی تعمیر نو کا بیڑا اٹھایا اور خود بخود امن منصوبے کے سربراہ اور صدر بن بیٹھے۔ ان کی صدارت کے دوران اور منصوبے کے اعلان کے باوجود اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں اور اس دوران بھی اہل فلسطین کا خون ارزاں بنا دیا گیا۔
مغربی کنارے کے پڑوسی مسلم ممالک دم سادھے اور دم دبائے اس ساری کارروائی کو دیکھتے رہے مگر ان میں اتنی طاقت نہ تھی نہ اتنا دم تھا کہ وہ چوں کر سکیں۔ ان کی اس کمزوری سے اسرائیل نے پورا فائدہ اٹھایا۔ اہل فلسطین کو تنہا کرکے اپنی من مانی کرتا رہا۔ ایسے ماحول میں امن و آشتی کی بات دیوانے کا خواب بن کر رہ گئی۔
مگر امریکا بہادر کی ڈپلومیسی نے ’’ روح ہٹلر‘‘ کو شرماتے ہوئے طاقت کا جو ننگا ناچ ناچا گیا تھا، اس کی گت اور تال پر امن کے گیت گائے جانے لگے۔ امریکا نے امن کے قیام کا اعلان کرکے متعدد ممالک کو اپنا ہم نوا بنانا شروع کیا۔
بے چارے مسلم ممالک کی تو سانسیں رکی ہوئی تھیں، انھوں نے اس ’’ دام ہم رنگ زمین‘‘ کو جانتے، پہچانتے ہوئے بھی اس میں پھنس جانے میں عافیت سمجھی۔
لیکن صدر ٹرمپ بھی بخوبی واقف تھے کہ یورپی ممالک کے علاوہ یہ نیم جان مسلم ممالک کسی گنتی شمار میں نہیں آتے۔ انھیں خطرہ ترکیہ اور پاکستان سے تھا۔ چنانچہ انھوں نے ان دونوں ملکوں پر بھی جال پھینکنا شروع کیا۔ پاکستان کو قابو کرنے کے لیے انھوں نے بڑا ’’ سائنٹفک‘‘ نسخہ استعمال کیا۔ انھوں نے پاکستانی قیادت کی بیدار مغزی اور راست روی کی تعریف کرنا شروع کی اور موقع بہ موقع ہر نہج اور ہر مرحلے پر وہ پاکستانی قیادت کی مدح سرائی کرتے رہے۔ جب پاکستان کو اس امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی تو ایک طرف قیادت نے اس میں شمولیت کے مضمرات اور خطرات کا کسی قدر اندازہ کر لیا مگر ایک عالمی طاقت کی فرمائش کو ٹھکرانا بھی ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔ اس لیے ہچکچاہٹ کے ساتھ ہی سہی، انھوں نے اس امن منصوبے میں شامل ہونے کی منظوری دے دی۔
پاکستان کی ہچکچاہٹ کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ اس نے اپنی شمولیت کو چند مطالبات سے مشروط کر دیا تھا اور اب جب کہ اس امن منصوبے کے اصل خد و خال واضح ہو گئے ہیں تو مسلم ممالک کے ایک گروپ نے اسرائیل کی توسیع پسندی کے اس منصوبے پر اپنے عدم اعتماد کا اظہارکیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دراصل مقبوضہ علاقے کو ’’ سرکاری زمین‘‘ قرار دینے کا مطلب اس پر اپنا مکمل قبضہ کر کے نئی یہودی بستیاں بسانے کا منصوبہ ہے جو ان کے نزدیک قطعاً قابل قبول نہیں۔
جن ممالک نے اس منصوبے کے خلاف آواز اٹھائی ہے اس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، اردن، انڈونیشیا اور قطر شامل ہیں۔ گویا مسلم دنیا کے بااثر ممالک اس ملوکیت پسندانہ اقدام کی مخالفت پرکمر بستہ ہوگئے ہیں۔ ان ممالک نے اسرائیلی اقدام کے مضمرات کو سمجھنے میں دیر تو لگائی ہے مگر عقل اب آ گئی ہے اور دیر آید درست آید کے مصداق ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان ممالک کی مخالفت اسرائیل کو اس کی توسیع پسندی سے روک بھی سکے گی یا نہیں۔ کیونکہ امن منصوبے کے خالق امریکا کی خاموش حمایت بہرحال اسرائیل کے ساتھ ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل