Thursday, February 26, 2026
 

نی ایندرتال ، ایک نظریہ

 



1856میں Fossilsپر کام کرنے والے ماہرین کی ایک ٹیم جرمنی کی ایک وادی نی ایندر میں کام کر رہی تھی کہ اسے ایسی باقیات ملیں جوانسانی باقیات سے ملتی جلتی تو تھیں لیکن انسانی نہیں تھیں۔ماہرین کو سب سے پہلے Skull cap n Femer bone ملی۔ٹیم ممبران یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہ کون سی انسانی نوع کی باقیات ہیں۔کھدائی کرنے والے ماہرین نے اپنی دریافت کو دنیا کے ماہرین حیاتیات سے شیئر کیا تو سب اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ باقیات موجودہ نوع انسانی سے ہٹ کر ایک دوسری نوع کی ہیں۔چونکہ یہ باقیات جرمنی کی وادی نی ایندر میں دریافت ہوئی تھیں اس لیے اسے نی ایندرتال Neanderthals کہا گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ باقیات تقریباً ساڑھے 3لاکھ سال پرانی ہیں اور یہ کہ یہ نوعِ انسانی اب معدوم ہو چکی ہے۔ ہومو سیپینHomo sapien انسان کے زمین پر آباد ہونے سے پہلے ہومو ارک ٹسHomo Erectus کا دور آیا۔اس سے پہلے زمین پر زندگی تھی۔بے شمار قسم کے جانور اور چرند پرند تھے۔زمین ان کی مختلف آوازوں سے نغمہ زن تھی جب سیدھا کھڑا ہو کر چلنے والی پہلی مخلوق ہومو ارک ٹس نمودار ہوئی۔ہومو ارک ٹس کی پہلی نوع شاید نی ایندرتال ہی تھی۔ بہت ابتدا میں یہ زمین پر تو چلتے پھرتے اور شکار وغیرہ کرتے تھے لیکن کوئی سٹرکچر کوئی عمارت بنانے کی ابھی نہیں سوجھی تھی اس لیے یہ درختوں پر رہتے تھے۔انسانوں کی ہی ایک اور نوع ہومو فلورنس تھی۔انڈونیشیا کے ایک جزیرے فلورنس سے انسانی باقیات کے جو ڈھانچے ملے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ انسانی نوع کی ایک تیسری قسم تھی۔بہت قدیم زمانے میں آباد یہ نوعِ انسانی بہت چھوٹے قد کی تھی۔ان کا عمومی قد تین سوا تین فٹ تھا،ان کی کھوپڑیاں بھی چھوٹی تھیں۔یہ نوع بھی اب مکمل طور پر معدوم ہو چکی ہے۔یورپی ماہرینِ حیاتیات نے بغیر کسی ثبوت کے ایک نظریہ گھڑ لیا ہے کہ انسان بندر یا ایپسApesسےEvoluteہوکر موجودہ انسانی شکل و صورت میں آیا اس لیے یہ ضروری ہے کہ یہ ارتقا Evolutionافریقہ میں ہوا ہو حالانکہ اگر اس قسم کا کوئی ارتقا ہوا ہے تو وہ کیوں اور کب بند یا ختم ہو گیا۔پچھلے 8سے10ہزار سال کی انسانی تاریخ تو معلوم ہے۔ اس لمبے عرصے میں کوئی ایک بھی ایسا واقعہ صفحہء شہود پر نہیں ملتا جس میں کسی نے کسی بندر یا ایپ کو انسان میں ڈھلتے دیکھا ہو۔ افریقہ سے انسان نے ترقی کر کے ایشیا اور یورپ میں قدم رکھا۔ابھی حال ہی میں صدر ٹرمپ نے سابق صدر اوباما اور ان کی اہلیہ مشال کا مذاق اُڑاتے ہوئے انھیں بن مانس کی شکل میں پیش کیا۔امریکی اور یورپی مائنڈ سیٹ ہے کہ کالی یا بھدی چیز نے افریقہ میں جنم لیا تھا۔نی ایندرتال کے بارے میں بھی یہی کچھ کہا جاتا ہے کہ وہ افریقہ میں نمودار ہوئے لیکن پھر وہاں سے نکل کر دوسرے برِ اعظموں میں پھیل گئے۔ ماہرینِ حیاتیات کا اندازہ ہے کہ کوئی چار لاکھ سال پہلے نی ایندرتال نمودار ہوئے۔سائنس دانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ زمین پانچ مرتبہ برفانی دور یا Ice Ageسے گزری ہے۔پہلی مرتبہ ہماری زمین 2.6بلین سال پہلے برف سے ڈھک گئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ سب سے سخت برفانی دور 720سے635لاکھ سال پہلے تھا۔نی ایندرتال سخت ترین کپکپاتی سردی جھیلنے والی نوعِ انسانی تھی۔وہ سخت ترین آب و ہوا کو بخوبی جان گئے اور اس میں زندہ رہنا سیکھ گئے تھے،آخری برفانی دور میں پوری زمین پر عمومی درجہء حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔سطحِ سمندر بھی موجودہ سطح سے کوئی 100فٹ نیچے تھی۔جبرالٹر یعنی جبل الطارق کی پہاڑیوں میں ایسی کئی غاریں ہیں جہاں نی ایندرتال بسے ہوئے تھے۔اب سمندر ان غاروں کے دہانوں تک پہنچا ہوا ہے لیکن اس وقت یہ سوفٹ نیچے تھا۔نی ایندرتال یہاں سمندر کی تہہ جو اس وقت خشک زمین تھی وہاں چلتے پھرتے،شکار کرتے اور گزر بسر کرتے تھے۔ نی ایندر تال زمین پر سب سے لمبے عرصے یعنی کوئی چار لاکھ سال آباد رہے۔یہ 42ہزار سال پہلے بالکل معدوم ہو گئے۔یہ اپنے دور میں یورپ،مغربی و وسطی ایشیا اور سائیبیریا میں آباد رہے۔ان کا جسم بہت مضبوط،، طاقتور اور گٹھا ہوا تھا لیکن ان کا قد زیادہ سے زیادہ سوا پانچ فٹ تک تھا۔ان کی ناک چوڑی تھی جو سرد ہوا کو گرم کرنے میں ممدو معاون تھی۔ نی ایندرتال کی کھوپڑی قدرے بڑی جب کہ دماغ کا سائز بھی بڑا تھا۔موجودہ نوعِ انسانی اور نی ایندرتال کے DNAکا موازنہ کیا جائے تو یہ97.5 فی صد ایک جیسا ہے۔ایک اندازے کے مطابق موجودہ یورپی آبادی میں4فیصد اور ایشیائی آبادی میں اڑھائی سے تین فیصد نی ایندرتال DNAہے۔سیدنا امام جعفرؑ اور امام ابنِ تیمیہ نے رائے ظاہر کی ہے کہ موجودہ نوعِ انسانی سے پہلے کم از کم دو نوعِ انسانی مکمل طور پر معدومی کا شکار ہو چکی ہیں۔واﷲ اعلم۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل