Saturday, February 28, 2026
 

حوا کی بیٹیاں اور آٹھ مارچ (آخری حصہ)

 



یہاں پڑھنے والی اورگھروں سے تربیت حاصل کرنے والی لڑکیاں، بہترین بیٹی، بہترین ماں اور منکوحہ کے روپ میں نظر آتی ہیں۔ اسلام نے عورت کو بے شمار حقوق سے نوازا ہے، اسے عزت و احترام عطا کیا ہے، اسے وراثت میں حصہ دیا ہے، اسے اپنی زینت چھپانے کا کہا ہے تاکہ وہ محفوظ رہے، جنگل کے بھیڑیے اس کی عصمت و حرمت کو داغ دار نہ کرسکیں۔ اس پر معاشرہ انگلی نہ اٹھائے، دور سے دیکھ کر لوگ کہیں ہاں! یہ اسلام کی بیٹی ہے، یہ اپنے گھر کی ملکہ ہے، شہزادی ہے، اس سے کوئی اونچی آواز سے بات نہیں کر سکتا۔ اس کی خوشی اور وقارکو قائم رکھنا مردوں کا فرض ہے، انھیں وہ مکمل حقوق جو اللہ نے عطا فرمائے ہیں اور اس کے نبی ﷺ نے اپنی زندگی کا نمونہ بن کر دکھایا ہے۔ 14 شعبان کی رات جب آپ ﷺ جنت البقیع تشریف لے جاتے ہیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ میں کسی کا حق غصب کروں، چونکہ اس دن اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی باری حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ کے حجرہ مبارک میں تھی۔ جنت کی سردار فاطمۃ الزہراؓ اپنی بیٹی کی ہر لمحہ خبرگیری کرتے ، عزت و محبت سے سرفراز کرتے۔ علامہ اقبال نے کہا ہے: ’’مسلمان عورتوں کے لیے بہترین اسوہ حسنہ حضرت فاطمۃ الزہراؓ ہیں۔ کامل عورت بننا ہو تو آپ کو حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی زندگی پر غورکرنا چاہیے۔ ان کے نقش قدم پر چلنے کی سعی کرنا چاہیے۔‘‘ دنیا کے تمام مذاہب نے عورت کو کم تر جانا، وہ کسی بھی قیمت پر مرد اور عورت کو برابری کا درجہ دینے کے لیے تیار نہیں بلکہ ہندومت اور بدھ مت کے پیروکاروں نے عورت کو ناقص العقل اور اس کے جسم کو پاپ کا مترادف ٹھہرایا۔ اس پر ظلم کے پہاڑ توڑتے رہے، اس پر بہتان باندھتے رہے۔ دین اسلام نے اسے تحفظ اور عزت عطا فرمائی، اس کی تکریم اور اس کے حقوق کے لیے ایک مکمل سورۃ سورہ النساء نازل ہوئی، اس سورۃ کے ذریعے اسے جہاں بے شمار سہولتیں اور آسانیاں مہیا کی گئیں، وہاں وراثت کا حق بھی تفویض کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرما رہے ہیں وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔ اتنا بڑا مرتبہ اور مرد کے ذمے اس کی حفاظت کا پیغام نازل ہو گیا، دونوں ایک دوسرے کی عزت و وقار کے ضامن ہیں۔ مرد اور عورت جب ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں، ضروریات زندگی اور خوشحالی کے لیے دونوں مل جل کر کام کرتے ہیں، اپنا گھر سجاتے اور سنوارتے ہیں، تب ہی محبت کے پھول مہکتے ہیں۔ علامہ نے اسی حوالے سے کہا ہے: وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں شرف میں بڑھ کر ثریا سے مشت خاک اس کی کہ ہر شرف سے اسی درج کا درِ مکنوں قرآن پاک نے اسے سکون و راحت، رحمت و دلکشی کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ اسلام نے عورت کو اعلیٰ مقام سے نوازا اور تمام وہ حقوق دیے ہیں جو اس کا بنیادی حق ہے۔ اسے اپنی پسند سے شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی مثال ہمارے سامنے ہے، انھوں نے اپنے لیے مبارک اور عظیم ترین ہستی حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں نکاح کا پیغام بھیجا اور ایک بہترین اور وفا پرست بیوی کا کردار نبھایا۔ اسلام خواتین کے لیے جہاد کی نفی نہیں کرتا ہے۔ بے شمار صحابیات نے جنگوں میں حصہ لیا، زخمیوں کی مرہم پٹی کی، انھیں پانی پلایا اور دوسرے وہ امور انجام دیے جن کی ضرورت پیش آتی ہے۔ آج کا دور فتنوں کا دور ہے، مرد و زن کا اپنے برے اعمال کی وجہ سے معاشرتی ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے، اسی وجہ سے قاتل آزاد ہے، قانون سے بالاتر وہ قتل کرکے بھی چند گھنٹوں میں رہا کر دیا جاتا ہے، اس کی خاص وجہ رشوت دے کر فیصلہ اپنے حق میں لکھوا لیا جاتا ہے، ہمارے ملک کے مشہور شاعر فضا اعظمی نے عورت کی بے چارگی کی ترجمانی اس طرح کی ہے کہ آئینی سقم کی وضاحت ہو جاتی ہے۔ یہاں قانون سازی کے عمل کا حق ہے قاتل کو یہ وہ دستور ہے جس میں سزا دیتے ہیں بسمل کو یہاں مجرم کو بٹھاتے ہیں کرسی عدالت پر یہاں حق سر نگوں ہوتا ہے، شہ ملتی ہے باطل کو یہ وہ دنیا ہے جس میں فتح طاقت ور کی ہوتی ہے یہاں انصاف کی تربت پہ مدھم شمع جلتی ہے افسوس اس امر کا ہے کہ عورت نے بے جا آزادی حاصل کرکے اپنے لیے مسائل کے پہاڑ کھڑے کر لیے ہیں۔ وہ دن رات دفاتر اور کارخانوں میں معاش کے لیے ملازمت کرتی ہے اورگھر کے کام بھی خود ہی انجام دیتی ہے۔ اس دہری مشقت کے بعد بھی اسے سکون اور چادر اور چار دیواری کا تحفظ حاصل نہیں ہے، اسے غیر کسی صورت میں اسے سکون و آرام حاصل نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں عورت کے تحفظ کے لیے جو تنظیمیں بنائی گئی ہیں وہ بھی اس کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ وہ ہر روز قتل ہوتی ہے کبھی شوہر اور سسرال کے ہاتھوں تو کبھی سربازار عورت کا ہر صورت میں استحصال کیا گیا ہے وہ جس گھر کے لیے اپنی زندگی کو بے سکون بناتی ہے اپنی اولاد کو بہتر سے بہتر تعلیم کے مواقع فراہم کرتی ہے وہی اولاد اسے محتاج خانوں میں چھوڑ آتی ہے۔ ان حالات میں حقوق نسواں کے تحفظ کے لیے حکومت اور عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنے کی سخت ضرورت ہے، ہوٹلوں اور کلبوں میں اس کا دن منانے اور زبانی جمع خرچ کرنے سے کچھ حاصل نہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل