Loading
تہران: ایران میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کی سکیورٹی پالیسی میں اہم کردار ادا کرنے والے رہنما علی لاریجانی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
67 سالہ علی لاریجانی اس وقت سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ہیں اور امریکا و اسرائیل کے خلاف سخت بیانات دے رہے ہیں۔ حالیہ امریکی۔اسرائیلی حملوں کے بعد انہوں نے کہا کہ ایران امریکا اور صہیونی حکومت کو ایسا سبق سکھائے گا جو یاد رکھا جائے گا۔
لاریجانی کو ایرانی اسٹیبلشمنٹ کا تجربہ کار اور نسبتاً عملی سوچ رکھنے والا چہرہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ ماضی میں ایران کے جوہری مذاکرات کار بھی رہ چکے ہیں اور 2008 سے 2020 تک پارلیمنٹ (مجلس) کے اسپیکر رہے۔ انہوں نے 2015 کے جوہری معاہدے کی پارلیمانی منظوری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ان کا تعلق ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے والد ایک معروف عالمِ دین تھے جبکہ ان کے بھائی بھی عدلیہ اور دیگر اہم اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
لاریجانی نے ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، جس میں انہوں نے جرمن فلسفی کانٹ پر مقالہ لکھا۔
انہوں نے 2005 میں صدارتی انتخاب لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے، بعد ازاں 2021 اور 2024 کے انتخابات میں انہیں گارڈین کونسل نے نااہل قرار دے دیا۔ تاہم اگست 2025 میں صدر مسعود پزشکیان نے انہیں دوبارہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا۔
مبصرین کے مطابق موجودہ بحران میں لاریجانی ایران کی جنگی اور سفارتی حکمت عملی کے تعین میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں اور انہیں عبوری قیادت کے اہم ستونوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل