Loading
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
واقعی ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے زمانہ کس تیزی سے بدلا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ سب سے بڑی تباہی جو معاشرے پر نازل ہوئی ہے وہ بڑوں کا ادب ہے۔ آج کی نسل اپنے بزرگوں کو اہمیت نہیں دیتی، نہ ان کا لحاظ کرتی ہے۔ اگر گنتی کے چند گھروں میں یہ روایت زندہ ہے تو صرف اس حد تک کہ دادا یا دادی کے ہاتھ میں اگر موبائل ہے اور وہ اس پر کچھ ڈھونڈ رہے ہیں تو دس سالہ پوتا یا پوتی فوراً کہے گی ’’لائیں مجھے دیں فون، بتائیں آپ کیا تلاش کر رہے تھے؟‘‘ بس موبائل فون کیا ہاتھ میں آیا کہ بچے بھی علامہ بن گئے۔
ہم نے اپنے بچپن میں دیکھا کہ دونوں بڑے بھائیوں کو جو ہم سے دس اور بارہ سال بڑے تھے، انھیں ہمارے والد بارہا کہتے تھے کہ مسجد میں سب کو سلام کیا کرو، محلے کے بزرگوں کی خیر خبر رکھا کرو، غریبوں سے محبت کرو۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ ہم نے اپنے گھر میں ہمیشہ یہ دیکھا کہ والد اور بھائی جب گھر آتے پہلے دادی کو سلام کرتے، پھر والدہ کو۔ ہماری دادی بہت سخت گیر تھیں، سبھی دادی کا احترام کرتے خاص کر ہماری والدہ اور والد۔ دادی اکثر امی پر غصہ نکالتی تھیں۔
انھیں سخت سست بھی کہہ لیتی تھیں لیکن وہ جواب نہیں دیتی تھیں، نہ وہ والد صاحب سے کبھی شکایت کرتیں، ایک بار میری شادی شدہ بہن جو مجھ سے اٹھارہ سال بڑی تھیں، انھوں نے امی سے کہا کہ’’ آپ دادی جان کو جواب کیوں نہیں دیتیں؟ بعض وقت تو وہ آپ کو بلاوجہ ڈانٹتی ہیں۔ ‘‘تو والدہ نے جواب دیا کہ ’’ بیٹا! ان کی کوئی دوسری اولاد تو ہے نہیں، انھیں ہمارے اور ہمیں ان کے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو جواب دے کر گھر کا ماحول کیوں خراب کروں؟‘‘ پھر بہن سے کہا کہ’’ دیکھو تمہاری ساس بہت نیک اور سادہ خاتون ہیں، انھیں کبھی شکایت کا موقع نہ دینا، تمہارے پانچ دیور اور دو جیٹھ ہیں، ان سے ہمیشہ نرمی اور محبت سے پیش آنا۔‘‘ یہی وجہ تھی کہ میری بہن سسرال کی آنکھوں کا تارہ بنی رہیں۔ یہ وہ دور تھا جب بہوئیں سعادت مند ہوتی تھیں کیونکہ انھیں میکے سے تربیت ہی ایسی ملتی تھی، زمانے نے ایک اور چال چلی اور سعادت مند بہوئیں ناپید ہو گئیں۔ اب ہر بیٹے کی ماں اور باپ پریشان کہ شادی ہوتے ہی میکے سے تربیت ملی کہ پہلی رات ہی میاں کو قابو کر لینا اور انھوں نے اس پر عمل بھی کیا وہ یوں کہ:
کھول میاں مکھنا، میں گھر سنبھالوں اپنا
بیٹوں کے گھر بستے گئے اور ماں باپ تنہا ہوتے گئے، بچوں کی موجودگی میں شوہر بھی بیوی کے ہاتھوں مجبور اور بیوی شیر کہ اپنی ماں کے پاس گئے تو بچوں کو چھوڑ کر میکے چلی جاؤں گی، ایک بیٹے نے تو بیوہ ماں سے یہاں تک کہہ دیا کہ’’ اب میں آپ سے نہیں مل سکتا کہ بچے میری مجبوری ہیں۔‘‘
ایک اور تبدیلی یہ آئی کہ زندگی کا پورا ڈھنگ بدل گیا، یوں لگتا ہے جیسے نسل انسانی کی توجہ کسی اور طرف چلی گئی، جینے کے طور طریقے بدل رہے ہیں اور اس نئے ڈھب میں کبھی دل بہلانے کو حیلے بہانوں سے جن چیزوں سے انسان کچھ دیر کو خوش ہو لیتا تھا وہ سب ختم ہو گئے۔ اب رہ گیا صرف موبائل۔ کتنی ہی تفریحات ہمارے دیکھتے دیکھتے ختم ہو گئیں، سب سے پہلے لیجیے سینما کو جس کا اب وجود نہ رہا، انڈیا سے فلمیں آنی بند ہو گئیں اور پاکستان میں ان کا جنازہ نکل گیا، پھر وی سی آر آیا اور لوگ گھر بیٹھ کر انڈین فلمیں دیکھنے لگے لیکن گھر میں قید ہو گئے۔ سینما کا اپنا ایک چارم ہوتا ہے باہر جانا، سینما ہال میں فلم دیکھنے کے دوران چلغوزے اور ڈرائی فروٹ کھانا، گرمیوں میں نسروانجی کا ملک شیک پینا آج تک یاد ہے۔
دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ وہ زمانے کہاں گئے، وہ تفریح کہاں گئی، جو کچھ دیر کو انسانی ذہن کو سکون بخشتی تھی۔ پھر وہ میلے ٹھیلے، وہ سرکس کہاں گیا؟ جس میں شیر کی کھال اور عورت کے سر والی ’’حسن بانو‘‘ کو ٹکٹ لے کر دیکھنے میں بڑی فینٹسی تھی۔ کبھی کبھی دھوکے اچھے لگتے ہیں آپ کو ماورائی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ والد صاحب اور بھائی بتاتے تھے کہ حسن بانو ایک لڑکی ہے وہ صرف گردن نکال کر کھڑی ہوئی ہے اور کھال اوپر سے شیر کی لگا دی ہے لیکن ہمارا دل یہ حقیقت قبول کرنے کو تیار نہ تھا، وہ سرکس ناپید ہو گئے جس کے کنویں میں لوگ موٹرسائیکل چلایا کرتے تھے اور موت کے کنویں میں بے خوفی سے گھومتے رہتے، جوکر بھی چلا گیا اور وہ ٹرینر جو ایک طرف سے دوسری طرف زمین سے دس فٹ اوپر لگے بانسوں پر سے ادھر سے ادھر چھلانگیں لگاتے تھے کہ لوگوں کی چیخیں نکل جاتی تھیں۔
ہماری والدہ اور والد اس زمانے کو یاد کرتے تھے، جب تھیٹر تھا، یہ گنگا جمنی تہذیب کا زمانہ تھا، کتنی ہی تھیٹریکل کمپنیاں شہر شہر جا کر تھیٹر دکھاتی تھیں، زیادہ تر تھیٹریکل کمپنیاں پارسیوں کی تھیں، احسن، بیتاب، طالب بنارسی اور آغا حشر کاشمیری تھیٹر کے بڑے نام تھے۔ اور مقامی طور پر چھوٹی چھوٹی منڈلیاں ’’زندہ ناچ گانا‘‘ جگہ جگہ جا کر اپنا فن دکھاتی تھیں۔ اسی طرح والدہ بتاتی تھیں کہ کراچی میں بھی شروع شروع میں یعنی 1950 میں نٹ اور نٹنیاں بھی اپنا کمال دکھاتے تھے۔ دو بانس ایک طرف اور دو بانس دوسری طرف زمین میں گاڑ کر ان میں رسی باندھ کر اس پر چلا کرتے تھے اور کبھی گرتے نہیں تھے۔ اس کے علاوہ ہر علاقے میں روایتی میلے ٹھیلے بھی ہوتے تھے کہیں عرس، کہیں محفل سماع، کہیں مشاعرے اور ادبی محفلیں منعقد ہوتیں، شہروں میں امن و امان تھا لوگ دیر رات تک سرکس اور تھیٹر اور سینما دیکھتے تھے راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔
ہماری امی اس زمانے کو بہت یاد کرتی تھیں جب وہ دلی میں رہتی تھیں اور تقسیم کا خونیں انقلاب نہیں آیا تھا۔ ان کے گھر کے قریب ہی ایک ہندو فیملی رہتی تھی، ہولی پر پکوان بھیجتے اور دیوالی پر مٹھائی۔ ہمارے دونوں بھائی اس ہندو فیملی کے بچوں کے ساتھ دیے جلا کر دیوار کی منڈیر پر قریب قریب رکھتے جاتے۔ عید بقر عید پر ہماری والدہ پکوان بھیجتیں، وہ لوگ مٹن بریانی بہت شوق سے کھاتے تھے، برے وقت میں ایک دوسرے کے کام آتے تھے۔ اس دور کے بعد ہمسائیگی بالکل ختم ہو گئی ہے۔ ایک دوسرے سے دروازے ملے ہوئے ہیں لیکن ایک دوسرے کے حال سے بے خبر۔ پھر ہماری زندگیوں میں ریڈیو آ گیا، اب ہر گھر میں ریڈیو آ گیا اور بناکا گیت مالا جیسے شاندار موسیقی کے پروگرام اور ادھر اسٹوڈیو نمبر 9 سے لازوال اور بہترین ڈرامے۔ ساٹھ کی دہائی میں غیر ملکی ادب پاروں پر بہترین ڈرامے نشر ہوئے۔ ایک پتلی تماشہ بھی ہوتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے گھر چارپائیاں کھڑی کرکے اسٹیج بنا لیا اور ہاتھوں میں ڈوریاں پتلیوں کو نچاتے اور آوازیں خود نکالتے۔ لیکن ہم اس نعمت سے محروم رہے۔ عثمان پیرزادہ اور عمران پیرزادہ نے محدود پیمانے پر پتلی تماشہ دکھایا، لیکن اس کی پہنچ عام آدمی تک نہیں تھی۔ ریڈیو کے ساتھ ہی گراموفون کی جگہ ریڈیو گرام آ گئے لیکن گراموفون کا اپنا ہی مزہ تھا۔ ہزوائس وائس کے سیاہ توے پر کتے کی تصویر۔ عجیب دن تھے گراموفون پر موسیقی سنتے تھے۔ اس حد تک تو امن تھا اور بڑی امی جمی رہتی تھیں۔
پھر یکایک ہم سب کی زندگیوں میں ٹیلی وژن آ گیا جس نے بڑا غضب ڈھایا، لوگ اس کی اسکرین سے چپک گئے۔ لوگ اپنے گھروں میں بند ہو گئے۔ لوگوں کے آنے جانے، لوگوں سے ملنے جلنے کے آداب بدلنے لگے۔ اب کھانا اس وقت کھایا جائے گا جب نو بجے کا خبرنامہ آئے گا کہ بعد میں ڈرامہ آئے گا۔ اسکرین پر نظریں گاڑے رہنا ہر جوان، بوڑھوں اور بچوں کی عادت بن گیا۔ زندگی کیا تھی اور کیا ہو گئی۔ اب لوگوں کا آنا برا لگنے لگا، زندگی کیا تھی اور کیا ہوگئی، ہم خود اس رو میں بہہ گئے۔ ہمارے بزرگ اگر قبروں سے اٹھ کر آکے ہمیں دیکھیں تو اپنا سر پیٹ لیں۔ ایک اور بڑی کمی جو ہم پر وارد ہوئی ہے وہ یہ کہ وہ جو ایک دوسرے کے گھر کوئی پکوان بھیجنے کا چلن اب یہ نہیں رہا۔ بدلتی رت کے پکوان غائب ہوگئے اب کاہے کو کانوں میں یہ گیت رس گھولے گا۔
اماں میرے باوا کو بھیجو ری کہ ساون آیا
بیٹی تیرا باوا تو بڈھا ری کہ ساون آیا
دلہنوں نے گھونگٹ نکالنا ختم کر دیا ہے اور دلہوں نے منہ پر رومال رکھنا۔ نہ آرسی مصحف کلی خوبصورت رسم۔ اب دلہن کا چہرہ پہلے بیوٹی پارلر والے دیکھتے ہیں پھر فوٹوگرافر اور مہمان۔ زمانہ اس قیامت کی چال چل رہا ہے اسے دیکھ کر وحشت ہوتی ہے۔
اور اب ایک اور مصیبت گلے پڑ گئی جس میں ہر چھوٹا بڑا متاثر ہے۔ وہ ہے موبائل فون۔ ساری دنیا موبائل کی اسکرین میں سمٹ آئی ہے۔ ایک ہی گھر میں لوگ اجنبی ہو گئے، ہر شخص بچے، بڑے بوڑھے سب کے ہاتھوں میں موبائل اور ایک دوسرے سے بے نیاز۔ رویوں میں فرق آگیا، مکالمہ نہیں ہوتا۔ یا الٰہی یہ کیسا غضب ہو گیا۔ موبائل ہر ایک کی ضرورت ہے لیکن اس نے اکیلا کر دیا ہے۔ بقول اقبال۔
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل