Thursday, April 16, 2026
 

مذاکرات کا اگلا دور جلد ممکن ہے

 



ایران ماضی کی ایک بڑی سپر پاور اور امریکا حالیہ غالب قوت ہے۔ماضی کی سپر پاور ایران کی ریاستی زندگی کو اتنا لمبا عرصہ ہو گیا ہے کہ ایرانی معاشرت کئی ابتدائی مراحل سے گزر کر ایرانی تہذیب میں ڈھل گئی ہے۔جب کسی کلچر کو ایک لمبے عرصے کے لیے امن، سکون،پھلنا پھولنا اور ٹھہراؤ نصیب ہو جائے تو معاشرتی ثقافت ( کلچر) معاشرتی تہذیب میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایران مسلمانوں کے ہاتھوں میں آیا تو ایرانی معاشرت دھیرے دھیرے ایک اسلامی معاشرت کا منظر پیش کرنے لگی۔جب صفوی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو مسلکی بنیادوں پر استوار کیا تو ماضی کی یہ غالب قوت اولادِ رسول کی قربانیوں سے سبق لے کر مزاحمت کا استعارہ بننے لگی۔یوں مزاحمتی شعور نے تہذیبی شعور کو مہمیز کیا۔ہزاروں سال پر محیط ایرانی تہذیب نے جہاں ایرانیوں میں تفاخر کا جذبہ پیدا کیا وہیں اولادِ رسول کی قربانیوں سے نمو پانے والے معاشرے نے قربانی دینے کو اعلیٰ ترین انجام قرار دیا۔یہی سبب ہے کہ ایرانیوں میں ایک Decencyایک رکھ رکھاؤ کے ساتھ مرمٹنے کا جذبہ نظر آتا ہے۔ اس کے برخلاف چند سو سالہ تاریخ رکھنے والی امریکی معاشرت مار دھاڑ ،لوٹ مار اور دوسروں کے حقوق چھیننے پر پروان چڑھی ہے۔امریکا بنیادی طور پر جبراً بنائے گئے غلاموں کے آقاؤں کا ملک ہے جس نے غلاموں پر ظلم کے پہاڑ توڑے، امریکا کے اصلی باشندوں سے زبردستی زمینیں چھینیں اور آس پاس کی ریاستوں پر غیر قانونی قبضہ کر کے امریکا میں شامل کیا۔پوری امریکی تاریخ میں کوئی ایسی اچھی مثال نہیں ملتی جسے نیکی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے طور پر پیش کیا جا سکے۔امریکی معاشرہ ابھی شائستگی اور تہذیبی رکھ رکھاؤ سے دور ہے۔جناب ٹرمپ کی زبان اسی کی چغلی کھاتی ہے۔ 28فروری 2026کو نتن یاہو کے ایماء پر امریکا نے اسرائیل کی مدعیت میں ایران پر بالکل ناجائز حملہ کر دیا۔اس حملے کی امریکی ایوانِ نمائندگان یا اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے کوئی اجازت نہیں لی گئی۔ایسے میں یہ حملہ صرف ایک فرد یعنی امریکی صدر کا ذاتی فعل کہا جا سکتا ہے۔ماضی میں کسی امریکی صدر نے اتنی دیدہ دلیری سے ایوانِ نمائندگان اور اقوامِ متحدہ کو بے وقعت نہیں کیا۔امریکا دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر ایک سپر پاور کے طور پر اور برطانوی سلطنت کے جانشین کے طور پر سامنے آیا۔ایران پر حملہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے سامنے کوئی واضح اہداف نہیں تھے اور یہ کنفیوژن اس لیے تھی کیونکہ امریکا صرف نتن یاہو کی خواہش پر جنگ میں کود پڑا تھا۔ نتن یاہو نے امریکی صدر کو یہ سبز باغ دکھایا تھا کہ ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کو ٹھکانے لگاتے ہی موجودہ ایرانی حکومت گر جائے گی۔ایران امریکا کے پاؤں پڑ جائے گا اور صدر ٹرمپ کی واہ واہ ہو جائے گی۔ادھر اسرائیل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔ جنگ کے پہلے دس دنوں میں ہی یہ صاف نظر آنے لگا کہ امریکی و اسرائیلی منصوبہ فیل ہو چکا ہے اور جنگ ان کی مرضی کے مطابق نہیں جا رہی۔امریکا نے ایران کو دو دن کی جنگ بندی کی تجویز دی جس کو ایران نے منظور نہ کیا۔کئی اور تجاویزبشمول جی سی سی ممالک کی تجویز بھی آئی۔ایران نے اکثر تجاویز کو مسترد کر دیا لیکن جی سی سی ممالک کی تجویز کو درخورِ اعتنا ہی نہ سمجھا۔ پاکستان نے اس صورتحال میں دونوں فریقین سے رابطہ استوار رکھا۔انقرہ،قاہرہ اور ریاض کی input لی۔ اس کے فوراً بعد عوامی جمہوریہ چین سے مشاورت کی۔ پاکستان کی دن رات محنت رنگ لائی اور فریقین 15روزہ جنگ بندی پر راضی ہو گئے۔امریکا جنگ بندی کے لیے بے تاب تھا۔طے پایا کہ امریکا اور ایران، اسلام آباد میں مذاکرات کریں گے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اسلام آباد پہنچا،جب کہ جناب باقر قالیباف اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ کی قیادت میں ایرانی وفد ہریالی میں لپٹے پاکستانی دار الخلافہ آیا۔دونوں وفود کے درمیان 21گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے۔1979میں ایرانی انقلاب اور امریکیHostages crises کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ پہلا اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ تھا۔ پاکستان نے اپنی محنت، ساکھ اور کوششوں سے انہونی کو ہونی کر دکھایا۔مذاکرات میں دونوں جانب سے خاصی پیش رفت ہوئی لیکن چند معاملات حل طلب رہے اور اس وجہ سے دنیا کو بڑی خوش خبری نہ مل سکی۔ مذاکرات اسلام آباد اکارڈ پر تو منتج نہ ہو سکے لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے۔ بقول صدر ٹرمپ جنگ بندی برقرار ہے۔ بے نتیجہ رہنے والے مذاکرات کے فوراً بعد مایوسی کی جو فضا چھا رہی تھی اس میں اب خاصی کمی واقع ہو چکی ہے کیونکہ امریکا اور ایران دونوں اطراف سے یہ عندیہ ملا ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد سے روانگی سے پہلے اپنی مختصر پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے اپنی بات ایران کو کھول کر بتا دی ہے۔اب یہ ایران کی صوابدید پر ہے کہ وہ کیا کرتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال ایران نے ہماری شرائط پر راضی ہونا قبول نہیں کیا۔ جے ڈی وینس کے واپس واشنگٹن پہنچنے کے بعد صدر ٹرمپ نے بھی کچھ ایسی گفتگو کی جس سے بظاہر یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ ان میں ایک وقفہ آیا ہے اور یہ کسی لمحے بھی دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔چونکہ جنگ بندی ختم ہونے کی تاریخ 22اپریل ہے اس لیے یا تو جنگ بندی میں توسیع ہوگی یا یہ مذاکرات 22اپریل سے پہلے منعقد ہوں گے۔دراصل امریکیوں کو مذاکرات کرنے کی عادت نہیں۔وہ اپنی Brute forceکی وجہ سے ہر مذاکراتی ٹیبل پر من مانی کرتے رہے ہیں۔ امریکی و اسرائیلی حملے سے صرف چند دن پہلے ایرانی وزیرِخارجہ نے جی سی سی ممالک کا دورہ کرکے وہاں کے حکمرانوں کو خبردار کر دیا تھاکہ اگر امریکا و اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ایران مجبور ہو گا کہ خلیج میں قائم امریکی اڈوں و رہائش گاہوں کو نشانہ بنائے۔ جی سی سی ممالک کی درخواستوں اور امریکا کو دی گئی بے تحاشہ دولت کے باوجود صدر ٹرمپ نے ان کی ایک نہیں سنی اور حملہ کر دیا۔حملے کے ابتدائی چند دنوں کے بعد امریکی افواج کی اعلیٰ ترین قیادت نے جرات کر کے صدر ٹرمپ پر جیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے آگاہ کر دیا۔ہر کوئی توقع رکھتا تھا کہ ایران مزاحمت کرے گا لیکن ایران نے جو کمال کر دکھایا وہ حیران کن اور لاجواب ہے۔ گیارہ اپریل کے مذاکرات کے نتیجے میں امریکا اور صدر ٹرمپ کو فیس سیونگ مل گئی تھی لیکن صدر ٹرمپ نتن یاہو کے دباؤ کے آگے پھر ڈھیر ہو گئے۔ صدر ٹرمپ نے بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں بندشیں لگا کر ایران کو جھکانے کی کوشش کی ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ ایرانی بندر گاہوں کو خطرہ ہوا تو خلیج کی کوئی بندرگاہ بھی فنکشنل نہیں رہے گی۔ ایران حوثیوں کے ذریعے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو مشکل بنا سکتا ہے۔اگر ایسا ہوا تو دنیا تیل ،گیس اور کھاد کے بہت بڑے بحران سے دوچار ہو جائے گی۔ صدر ٹرمپ کے بلاکیڈ کو کہیں سے بھی مدد ملتی نظر نہیں آرہی۔ نیٹو، چین، برطانیہ،آسٹریلیا سب اس بلاکیڈ سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے پوری دنیا بشمول امریکا کو مہنگائی کے طوفان میں جھونک کر امریکی ری پبلکن پارٹی کو غیر مقبول بنا دیا ہے۔ مشہور جریدے دی اکانومسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا اب ایران پر حملہ نہیں کرے گا،جنگ ختم ہو گئی ہے۔ امن معاہدے کی تکمیل کے لیے بدھ کو فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک وفد لے کر تہران پہنچے جہاں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ان کا استقبال کیا۔ خدا کرے کہ امریکی قیادت نتن یاہو کی خواہشات کے اسیر ہونے کے بجائے اپنے ہوشمند افراد کی سن کر ایسے حکیمانہ فیصلے کرے جس سے انسانیت کا بھلاہو۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل