Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے دودن حیران کن ہوں گے، جنگ ختم ہونے کے قریب ہے، واشنگٹن تہران کے ساتھ بہترین معاہدہ کرسکتا ہے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ کوئی چھوٹی ڈیل نہیں بلکہ بہت بڑااور جامع معاہدہ کرنا چاہتے ہیں،ایران اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے تو امریکا اس کی ترقی اور خوشحالی میں مدد کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے کہاہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے مگر ہتھیار بھی نہیں ڈالیں گے ۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ ہوئے تو اسلام آباد میں ہی ہوں گے کیوں کہ پاکستان اس معاملے میں واحد ثالث ہے۔ان خیالات کا اظہار وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے پُرہجوم میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی جب کہ خطے میں امن کے قیام کے حوالے سے اقدامات زیر بحث آئے۔پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایران کے اعلیٰ سطح کے دورے پر تہران پہنچے اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔اس موقع پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی اور ثالثی کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی تازہ کشیدگی نے عالمی سیاست کو ایک بار پھر اس نہج پر لاکھڑا کیا ہے جہاں طاقت، مفاد اور سفارت کاری ایک پیچیدہ مثلث کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی ریاست محض رد عمل کے بجائے فعال اور متوازن کردار کے ساتھ سامنے آئے تو یہ اس کی خارجہ بصیرت اور داخلی استحکام دونوں کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان اس وقت اسی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اس کی سفارتی کاوشیں نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نمایاں حوالہ بنتی جا رہی ہیں۔ حالیہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا دورہ اور واشنگٹن کی جانب سے اسلام آباد کو مذاکراتی مرکز کے طور پر تسلیم کرنا،ایک ایسی سفارتی ہم آہنگی کا پتا دیتے ہیں جسے محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔
خطے میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں جب ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ اپنی انتہاؤں کو چھو رہا تھا، تو اس وقت یہ خدشہ غالب تھا کہ صورتحال ایک وسیع تر جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکیاں، بحیرہ احمر اور خلیج عمان میں جہازرانی کے خطرات اور مختلف علاقائی قوتوں کے بیانات نے عالمی معیشت کو بھی لرزا کر رکھ دیا تھا۔ اسی دوران ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا یہ کہنا کہ’’ ہم جنگ نہیں چاہتے مگر ہتھیار بھی نہیں ڈالیں گے‘‘اس توازن کی عکاسی کرتا ہے جو تہران اپنے مؤقف میں برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے’’ بڑی اور جامع ڈیل‘‘کی خواہش اور نائب صدر جے ڈی وینس کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن بھی محض عسکری دباؤ کے ذریعے نہیں بلکہ سفارتی راستے سے حل چاہتا ہے، اگرچہ اس کے تقاضے اپنی جگہ سخت ہیں۔یہی وہ خلا تھا جسے پاکستان نے نہایت مہارت سے پُر کیا۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات، دوسری جانب ایران کے ساتھ ہمسائیگی اور تاریخی روابط، اور تیسری طرف امریکا کے ساتھ پیچیدہ مگر فعال تعلق،ان تینوں کو بیک وقت متوازن رکھنا آسان نہیں تھا، مگر اسلام آباد نے اس نازک توازن کو برقرار رکھتے ہوئے خود کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر منوایا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کا یہ بیان کہ آیندہ مذاکرات بھی اسلام آباد میں ہی ہوں گے، دراصل اسی اعتماد کا مظہر ہے۔
یہ پیش رفت محض سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی کو محض ردعملی انداز سے نکال کر ایک فعال اور کثیرالجہتی رخ دیا ہے۔ چین کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری، خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی تعاون اور مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات میں توازن،یہ سب عوامل اس نئی سفارتی سوچ کا حصہ ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے ایران کو ہتھیار نہ بیچنے کا عندیہ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے مذاکراتی عمل کی حمایت، اس وسیع تر سفارتی ماحول کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں پاکستان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ اسلام آباد نے نہ صرف اپنے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کیا ہے بلکہ نئے مواقع کی تلاش بھی جاری رکھی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ بڑھتا ہوا اقتصادی تعاون، جس میں حالیہ مالی معاونت بھی شامل ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات محض رسمی نہیں بلکہ عملی اور اسٹرٹیجک نوعیت کے ہیں۔
یہ تعاون پاکستان کی معیشت کے لیے بھی ایک سہارا فراہم کرتا ہے، جو کسی بھی سفارتی کامیابی کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔دوسری جانب ایران کے ساتھ تعلقات کی نوعیت ہمیشہ حساس رہی ہے۔ سرحدی مسائل، علاقائی سیاست اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ روابط کو مکمل طور پر منقطع نہیں ہونے دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورہ تہران اسی تسلسل کی کڑی ہے، جس میں نہ صرف سلامتی کے امور بلکہ وسیع تر علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہنا اور اسے’’قابل تحسین‘‘ قرار دینا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران اسلام آباد کے کردار کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔خطے کی موجودہ صورتحال میں ترکیہ، چین اور دیگر ممالک کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ رجب طیب اردوان کی جانب سے مذاکراتی عمل کی حمایت اور شی جن پنگ کی جانب سے توازن پر زور دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی برادری جنگ کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دینا چاہتی ہے۔ یہ ایک مثبت اشارہ ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ ہر ملک اپنے مفادات کو بھی مدنظر رکھے ہوئے ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اور مختلف مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیاں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ صورتحال ابھی مکمل طور پر قابو میں نہیں آئی۔ اگرچہ جہازرانی کی بحالی ایک مثبت قدم ہے، مگر کسی بھی وقت حالات دوبارہ کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ان چند ممالک میں شامل ہے جو تمام فریقوں کے ساتھ بیک وقت بات چیت کر سکتے ہیں۔
عالمی توانائی کی سیاست بھی اس پوری صورتحال کا ایک اہم جزو ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی کی شہ رگ تصور کی جاتی ہے، جہاں سے گزرنے والی تیل کی ترسیل عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ ایران کی جانب سے اس گزرگاہ کو بند کرنے کی دھمکی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث بنی، ایسے میں اگر پاکستان جیسے ملک کی کوششوں سے کشیدگی میں کمی آتی ہے تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
موجودہ حالات میں پاکستان کا کردار ایک ایسے پل کی مانند ہے جو متحارب قوتوں کو مذاکرات کی میز تک لانے میں مدد دے رہا ہے۔ یہ کردار نہ صرف خطے کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثبت مثال قائم کر سکتا ہے کہ کس طرح ایک درمیانی طاقت اپنے وسائل اور تعلقات کو بروئے کار لا کر امن کے قیام میں موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
اگر آنے والے دنوں میں واقعی کوئی جامع معاہدہ طے پاتا ہے اور کشیدگی میں کمی آتی ہے تو اس میں پاکستان کا کردار تاریخ کے صفحات میں ایک اہم باب کے طور پر درج ہوگا، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ رفتار کو برقرار رکھا جائے، سفارتی کوششوں کو تسلسل دیا جائے اور ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے، کیونکہ امن کی راہ ہمیشہ نازک ہوتی ہے، اور اس پر چلنے کے لیے صرف نیت ہی نہیں بلکہ حکمت، صبر اور بصیرت بھی درکار ہوتی ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی سفارتی کاوشیں اسے عالمی منظرنامے میں ایک نئی شناخت دے سکتی ہیں۔ یہ موقع بھی ہے اور امتحان بھی، اگر اس موقع کو دانشمندی سے استعمال کیا گیا تو پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ذمے دار اور موثر ریاست کے طور پر اپنی جگہ مستحکم کر سکتا ہے اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ ایک نئے باب کے آغاز کی منتظر ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل