Loading
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے خطے کی صورت حال پر ان کیمرہ بریفنگ کے لیے دعوت پر اپوزیشن کا مؤقف سامنے آ گیا ہے اور محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں بلکہ پوری پارلیمنٹ کو دی جائے۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی نے سکیورٹی بریفنگ پارلیمنٹ میں دینے کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے کوئی بریفنگ بلائی ہے، ہمارا مؤقف ہے کہ بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا گیا کہ یہ بات آپ وہاں وزیراعظم کے سامنےکر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بہتر ہو گا بریفنگ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس یا کم از کم سینیٹ میں دیں، خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ کل صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے۔
قبل ازیں وفاقی وزیر رانا ثنااللہ اور طارق فضل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کل ساڑھے گیارہ بجے تمام پارٹی سربراہان اور پارلیمانی لیڈرز کو مدعو کیا ہے۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کے لیے سب کو دعوت دی ہے، وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق اپوزیشن لیڈران اور پارٹی سربراہان کو دعوت دینے آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری ان سے بات چیت ہوئی ہے اور انہیں کہا ہے کہ ذاتی اور جماعتی سیاست سے بالاتر ہو کر مشورے کی ضرورت ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل