Tuesday, March 03, 2026
 

ہانیہ عامر کا ڈرامہ پُرتشدد مردوں کو رومانوی انداز میں پیش کرنے پر تنقید کا نشانہ

 



پاکستانی ڈرامہ شائقین اس وقت بحث میں مصروف ہیں کہ اسکرین پر دکھایا جانے والا ’’صحت مند محبت‘‘ کا تصور آخر کیسا ہونا چاہیے۔ ایسے میں ڈرامہ سیریل ’’میری زندگی ہے تو‘‘ اپنی کہانی اور کرداروں کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔ سیریل میں مرکزی کردار بلال عباس اور ہانیہ عامر ادا کر رہے ہیں کہانی ایک بااصول میڈیکل اسٹوڈنٹ آئرا کے گرد گھومتی ہے، جس کی زندگی میں ایک امیر اور بااثر نوجوان کامیار داخل ہوتا ہے۔ کامیار محبت کو اختیار اور ضد کے امتزاج کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں انکار کو چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ ناظرین کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ ڈرامے میں وہی پرانا فارمولا دہرایا گیا ہے: ایک طاقتور اور مالدار مرد مسلسل کسی خاتون کا تعاقب کرتا ہے، اس کے انکار کو نظرانداز کرتا ہے، بغیر اجازت اس کی زندگی میں مداخلت کرتا ہے، مگر کہانی اسے رومانوی رنگ میں پیش کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ آئرا کی مزاحمت کمزور پڑتی دکھائی جاتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ کامیار کی طرف مائل ہوجاتی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ضد اور مسلسل دباؤ ہی محبت کا ثبوت ہیں۔ سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ مسئلہ صرف ایک کردار کے رویے تک محدود نہیں بلکہ ڈرامے کی تحریر اور آئرا کے کردار کی محدود نشوونما بھی سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مطابق سیریل نہ صرف زہریلے رویوں کو دکھاتی ہے بلکہ انہیں معمول اور قابلِ قبول بنا کر پیش کرتی ہے۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ کہانی میں ایک ایسے شخص کو، جو جارحانہ مزاج اور نشے کی عادت کا حامل دکھایا گیا ہے، کسی نہ کسی انداز میں جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض مناظر میں مذہبی حوالوں کو بھی اخلاقی برتری ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس پر بھی اعتراض اٹھایا جا رہا ہے۔ ’’میری زندگی ہے تو‘‘ نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہمارے ڈرامے غیر صحت مند تعلقات کو محبت کا نام دے کر نئی نسل کے ذہنوں میں غلط تصورات کو تقویت دے رہے ہیں؟

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل