Loading
پشاور ہائیکورٹ نے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی کیجانب سے انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کےخلاف دائر رٹ پٹیشن کو خارج کردیا۔
ہائیکورٹ نے رٹ پٹیشن خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس کیس میں ابھی انکوائری فائنل ہوئی نہ ہی کوئی ایسا مواد پیش کیا جاسکے، جس سے ثابت ہو کہ اسپیکر کیس پر اثرانداز ہورہے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ عوامی مفاد کے کیس میں پارلیمنٹ اور ایگزیکٹیو انکوائری کراسکتے ہیں، درخواست گزار اس کیس میں متعلقہ فورم سے قانون کے مطابق ریلیف حاصل کرسکتے ہیں۔
پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی رٹ پر سماعت جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل بنچ نے کی جبکہ عدالت نے9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا جو جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے تحریر کیا ہے۔
رٹ میں موقف اختیار کیاگیاتھا کہ ریڈیو پاکستان کی عمارت پر 9 اور 10 مئی کے پر تشدد واقعات کے دوران حملہ کرکے شدید نقصان پہنچایا گیا اورعمارت کو آگ لگائی گئی جسکے بعد ملزمان کےخلاف انسداد دہشتگردی کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جبکہ مقدمے میں نامزد ملزمان میں موجودہ اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں۔
اس ضمن میں اسپیکر نے 12 دسمبر کو اعلامیہ جاری کرتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس میں اراکین اسمبلی شامل ہیں جو درست نہیں کیونکہ وہ انکوائری پر اثراندازہوسکتے ہیں۔
عدالت نے قراردیا تھا کہ صوبائی اسمبلی نے کمیٹی بنائی ہے لیکن ابھی تک عدالت کو کوئی ڈائریکشن نہیں دیئے ہیں پھر کس طرح ہم اس میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
عدالت کے مطابق اس مرحلے پر ہم اس میں کوئی آرڈر نہیں کرسکتے اور درخواست قبل از وقت ہے کمیٹی اپنا کام کرے۔
تاہم وکیل درخواست گزار کا موقف تھا کہ چونکہ کمیٹی میں اراکین اسمبلی بھی پہلے سے ملزمان نامزد ہیں اسلئے ممبران اسمبلی اپنے خلاف کیس میں جج نہیں بن سکتے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر کے نوٹیفکیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، عدالتی کاروائی میں مداخلت کا اختیارسپیکر کو حاصل نہیں ہے۔
عدالت نے رٹ خارج کرتے ہوئے قراردیا کہ یہ درخواست اس اسٹیج پر قبل ازوقت ہے ۔اگر آئین کے تناظر میں مختلف نوعیت کے معاملات میں آئینی تصادم پیدا کیے بغیر عدالتی ٹرائل کیساتھ ساتھ مقننہ (پارلیمنٹ) کی جانب سے انکوائری چل سکتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ ٹینشن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان میں سے ایک دوسرے پر فوقیت حاصل کرنےکی کوشش کرے تاہم اس کیس میں ایسا نہیں لگ رہا ہے اور اب تک کوئی مداخلت سامنے نہ آسکی نہ ہی انکوائری فائنل ہوئی ہے جبکہ عدالت میں اس حوالے سے کوئی موادبھی پیش نہیں کیاجاسکا جس کی بنا پر انکوائری روکی جائے۔
عدالت نے مزید قراردیا کہ مقننہ اور ایگزیکٹیو باڈیز آئینی اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ اندرونی معاملات کو ریگولیٹ کرسکیں اور جہاں عوامی مفاد کے کیسز میں ضرورت پڑے وہ وہاں انکوائری کرسکتے ہیں اوریہ انکے آئینی حدود میں آتا ہے ۔ عدالت نے انہیں ابزرویشن کے ساتھ رٹ خارج کردی ہے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل