Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب نہ تو بحریہ، نہ فضائیہ اور نہ ہی ریڈار بچے ہیں بلکہ ان کے میزائل لانچرز بھی تیزی سے ختم کیے جا رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار امریکی صدر ٹرمپ نے اخبار پولیٹیکو کو انٹرویو میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ اپنے اسلحے کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے دفاعی کمپنیوں کو ہنگامی حکم کے تحت ہتھیار بنانے کا حکم دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایرانی حکومت کے زندہ بچ جانے والے کچھ رہنماؤں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی نئے لوگ بھی ابھر کر سامنے آ رہے ہیں اور بہت سے لوگ ایرانی سپریم لیڈر کا عہدہ چاہتے ہیں۔ان میں سے کچھ لوگ بہت اچھے بھی ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی نئی قیادت کے کسی فرد کے ساتھ کام کرنے کے بارے میں کہا کہ ابھی دیر نہیں ہوئی۔ اس کا امکان موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ بات نہ بھولیں کہ 49 سینئر ایرانی رہنما مارے جا چکے ہیں۔ ان کی نیوی، ایئر فورس اور ریڈار سسٹم کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے اسرائیل کو زبردستی ایران پر حملے کے لیے آگے کیا کیوں کہ میرے خیال میں وہ پاگل (ایران ) پہلے حملہ کرنے والے تھے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے عرب ممالک پر حملوں پر کہا کہ ایران اب اُن خلیجی ممالک پر بھی حملے کررہا ہے جو غیر جانبدار تھے۔ اب وہ تمام ممالک ایران کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل