Tuesday, March 03, 2026
 

سچ کی گواہی کون دے گا

 



کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ ہمارے عہد کی سب سے بڑی محرومی غربت یا بے روزگاری نہیں بلکہ سچ کی کمی ہے۔ سچ جو کہیں دب جاتا ہے، کہیں ڈرا دیا جاتا ہے اورکہیں خرید لیا جاتا ہے۔ ہم سب اپنے اپنے دائروں میں بہت سی حقیقتوں سے واقف ہوتے ہیں مگر انھیں زبان دینے کا حوصلہ کم ہی لوگوں میں رہ گیا ہے۔ ایسے میں سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ سچ کیا ہے بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ سچ کی گواہی کون دے گا؟ اپنے ملک کی طرف دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک عجیب سی اخلاقی تھکن کا شکار ہیں۔ دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو،کسی سیاسی کارکن کی گرفتاری ہو، کسی صحافی کی زبان بندی ہو یا کسی اقلیت کے ساتھ ناانصافی، ہم چند لمحے افسوس کرتے ہیں، چند سطریں لکھتے ہیں اور پھر اپنی روزمرہ زندگی میں لوٹ جاتے ہیں۔ شاید ہمیں اپنی بے بسی کا احساس ہے، شاید ہمیں قیمت کا اندازہ ہے، شاید ہم ڈرتے ہیں۔ مگر یہ ڈر جب اجتماعی عادت بن جائے تو سچ تنہا ہو جاتا ہے۔یہ وہی سرزمین ہے جہاں کبھی فاطمہ جناح نے آمریت کے سامنے کھڑے ہو کر اختلاف کی گواہی دی تھی۔ یہ وہی سماج ہے جہاں حبیب جالب نے ایوانِ اقتدار کے سامنے نظم پڑھ کر سچ کو الفاظ میں ڈھالا تھا، مگر آج ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنے مفاد، اپنی سیاسی وابستگی یا خوف سے بلند ہو کر یہ کہہ سکیں کہ غلط غلط ہے، خواہ وہ کتنا ہی کڑوا سچ ہو۔ ہمارے ہاں سچ اکثر سیاسی وابستگیوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ جو بات ہمارے پسندیدہ رہنما کے حق میں ہو، وہ ہمیں سچ محسوس ہوتی ہے جو اس کے خلاف ہو وہ سازش قرار پاتی ہے۔ ہم دلیل سے پہلے شناخت دیکھتے ہیں، بات سے پہلے بولنے والے کا نام۔ یوں سچ ایک اخلاقی قدرکے بجائے ایک سیاسی ہتھیار بن جاتا ہے۔ میڈیا کا ایک حصہ طاقت کے قریب جا بیٹھتا ہے دوسرا حصہ سنسنی کی دوڑ میں حقیقت کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے۔ عدالتوں پر بوجھ ہے، پارلیمان کمزور ہے اور عام آدمی کے پاس صرف اس کی خاموشی بچتی ہے۔مگر کیا خاموشی واقعی غیر جانبداری ہے یا یہ بھی ایک طرح کی شرکت ہے، جب ہم کسی ظلم پر خاموش رہتے ہیں تو کیا ہم غیر متعلق رہتے ہیں یا غیر محسوس طریقے سے اس کی توثیق کرنے لگتے ہیں؟ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ظلم صرف ظالم کے سبب نہیں پھیلتا بلکہ اس لیے بھی کہ تماشائیوں کی اکثریت اسے معمول سمجھ لیتی ہے۔ یہ مسئلہ صرف ہمارے ملک تک محدود نہیں۔ عالمی منظرنامہ بھی اسی تضاد سے بھرا ہوا ہے۔ بڑی طاقتیں انسانی حقوق کا پرچم اٹھائے پھرتی ہیں مگر جب مفادات کا سوال آتا ہے تو اصول پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ کسی خطے میں جنگ ہو تو اسے آزادی کی جنگ کہا جاتا ہے کسی اور جگہ ہو تو دہشت گردی۔ ایک ملک کے پناہ گزینوں کو ہمدردی ملتی ہے، دوسرے کے مہاجرین کو سرحدوں پر روک دیا جاتا ہے۔ سچ یہاں بھی یکساں نہیں رہتا بلکہ جغرافیہ اور سیاست کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ عالمی ادارے قراردادیں منظورکرتے ہیں، مذمتی بیانات جاری ہوتے ہیں مگر زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ طاقتور ممالک کی خارجہ پالیسیاں اکثر انسانی جانوں کے بجائے معاشی مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔ میڈیا کے بڑے ادارے بھی مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں۔ کسی سانحے کو گھنٹوں نشرکیا جاتا ہے کسی اورکو چند لمحوں میں سمیٹ دیا جاتا ہے۔ یوں عالمی سطح پر بھی سچ ایک مقابلہ بن جاتا ہے کون سا بیانیہ زیادہ طاقتور ہے، کون سی تصویر زیادہ اثر انگیز ہے۔اس صورتِ حال میں عام انسان الجھن کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر متضاد خبریں دیکھتا ہے، مختلف تجزیے سنتا ہے اور فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کس پر یقین کرے۔ سچ جیسے دھند میں لپٹ جاتا ہے مگر کیا واقعی سچ اتنا کمزور ہے یا ہم نے اسے پہچاننے کی صلاحیت کھو دی ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ سچ ہمیشہ بہت شور کے ساتھ نہیں آتا۔ وہ اکثر دھیمے لہجے میں بولتا ہے، وہ کسی ماں کی آنکھ میں آنسو بن کر جھلکتا ہے ،کسی مزدور کے پسینے میں چمکتا ہے، کسی طالب علم کے سوال میں زندہ رہتا ہے۔ سچ کبھی کبھی ایک تنہا صحافی کی رپورٹ میں ہوتا ہے جو دباؤ کے باوجود قلم نہیں روکتا۔ کبھی وہ ایک جج کے اختلافی نوٹ میں ملتا ہے، کبھی ایک استاد کے سبق میں جو بچوں کو سوال کرنا سکھاتا ہے۔ قومی سطح پر اگر ہم واقعی سچ کی گواہی دینا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر دیانت پیدا کرنا ہوگی۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہمارا پسندیدہ شخص بھی غلطی کرسکتا ہے اور ہمارا مخالف بھی درست ہو سکتا ہے۔ ہمیں اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھنا ہوگا۔ سوال پوچھنے والے کو غدار کہہ کر خاموش کردینا آسان ہے مگر یہ رویہ سماج کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جب سوال ختم ہو جائیں تو ترقی بھی رک جاتی ہے۔ عالمی سطح پر بھی ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ انسانی جان کی حرمت سرحدوں سے بڑی ہے، اگر ہم ایک خطے کے مظلوم کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو دوسرے کے لیے بھی اٹھانی چاہیے، اگر ہم ایک جنگ کی مذمت کرتے ہیں تو دوسری کی بھی کریں۔ اصول اگر انتخابی ہوجائیں تو وہ اصول نہیں رہتے محض مفاد بن جاتے ہیں۔ سچ کی گواہی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے معیار کو یکساں رکھیں۔ سچ کی گواہی دینا ہمیشہ انقلابی نعرہ لگانا نہیں ہوتا۔ کبھی یہ اپنے گھر میں انصاف کرنا ہے، اپنے دفتر میں دیانت داری برتنا ہے، اپنے بچوں کو سچ بولنے کی تربیت دینا ہے۔کبھی یہ کسی کمزور کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے، چاہے اس سے ہمیں وقتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ سچ کا راستہ آسان نہیں مگر یہ واحد راستہ ہے جو سماج کو باوقار بناتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کا عہد عارضی ہوتا ہے۔ تخت بدلتے ہیں حکومتیں بدلتی ہیں، پالیسیاں بدلتی ہیں مگر سچ کی بازگشت باقی رہتی ہے۔ وہ لوگ جو اپنے وقت میں تنہا سمجھے گئے بعد میں انھی کے نام عزت سے لیے گئے اور وہ جو اپنے عہد میں بہت طاقتور تھے مگر سچ کے خلاف کھڑے تھے تاریخ کے حاشیوں میں چلے گئے۔ آج ہمارا امتحان یہی ہے۔ کیا ہم اپنے وقت کے سچ کو پہچان سکیں گے؟ کیا ہم اپنی سہولت اپنے خوف اور اپنے مفاد سے اوپر اٹھ سکیں گے؟ یا ہم بھی ان تماشائیوں میں شامل ہو جائیں گے جنھوں نے سب کچھ دیکھا مگر کچھ نہ کہا؟یہ سوال قومی بھی ہے اور عالمی بھی۔ یہ سوال سیاست کا بھی ہے اور اخلاق کا بھی۔ اور شاید اس کا جواب کسی اورکے پاس نہیں، ہمارے اپنے ضمیر میں ہے۔ سچ کی گواہی دینے والا کوئی دیو مالائی کردار نہیں ہوتا۔ وہ ہم میں سے ہی کوئی ہوتا ہے، ایک عام انسان جو یہ طے کر لیتا ہے کہ وہ خاموشی کو اپنی تقدیر نہیں بنائے گا۔ سو آج پھر وہی سوال ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے، سچ کی گواہی کون دے گا؟ اگر ہم نے یہ ذمے داری قبول نہ کی تو آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ جب وقت نے ہمیں پکارا تھا تو ہم کہاں تھے۔ اور اگر ہم نے حوصلہ دکھایا تو شاید تاریخ ہمیں ان لوگوں میں شمار کرے گی جنھوں نے اندھیرے میں چراغ جلانے کی جسارت کی تھی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل