Tuesday, March 03, 2026
 

خرابات فرنگ۔عجائبات فرنگ

 



مصنف نے تو کتاب کا نام ’’خرابات فرنگ‘‘ رکھا ہے لیکن ہم نے اپنی طرف سے تھوڑا سا اضافہ کرکے اسے ’’عجائبات فرنگ‘‘ کا نام دیا ہے کیونکہ ہم نے ان میں خرابات فرنگ دیکھے ہیں اور بے اختیار جی چاہا کہ کاش ہم بھی وہاں موجود ہوتے ، ہم بھی چپ رہتے اور ہم بھی ہنس دیتے یا ڈاکٹر وحیدالرحمن ہوتے، ریٹائرڈ بریگیڈئر ہی سہی۔لیکن ہر مدعی کے واسطے داروسن کہاں۔یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا، یہ تھی ہماری قسمت۔نہ ہے اور نہ ہوسکے گی کہ ہمارا نصیبہ کسی نالائق پرائمری پاس بچے نے کوئلے سے لکھا ہے، پکی پٹوار سیاہی سے نہیں۔یہ درست ہے کہ اس کتاب میں ’’خرابات فرنگ‘‘ بھی بہت ہیں لیکن عجائبات بھی کم نہیں ہیں جن کے لیے ہم ترستے رہے ہیں، ترس رہے ہیں اور ترستے رہیں گے۔کچھ اور مت سوچیے بریگیڈئر صاحب اچھے خاصے پارسا تارسا آدمی ہیں۔اس لیے وہ باتیں اس میں نہیں ہیں جو عام طور پر سفرناموں اور سیاہ ناموں میں ہوتی ہیں۔وہ ایئرہوسٹس بھی اس میں نہیں ہیں جو صرف سفرنامہ لکھنے والوں کے انتظار میں ایئرہوسٹسیں بنی ہوتی ہیں کہ آئے گا، آنے والا۔ سب کی باراتیں آئیں میری بھی تم لانا دلہن بنا کے مجھے اپنے گھر لے جانا یا ہوٹلوں کی وہ ویٹرس جو اپنے اس ’’سیاہ‘‘ کو دیکھ کر یوں ریشہ خطمی ہوجاتی ہیں کہ جیسے زندگی میں پہلی بار کسی مرد کو دیکھاہو۔اور وہ بہت ساری جو صرف خود سپردگی پہنے ہوئے ہوتی ہیں حالانکہ ’’سیاہ صاحب ‘‘کی وہ تصویر جو کتاب میں چھپی ہوتی ہے اور فوٹوگرافی کی ناکامی کا بولتا ثبوت ہوتی ہے، دیکھ کر ایسا لگتا ہے جسے کسی نے کئی ریچھوں، بندروں اور گوریلوں کو مکس کرکے اور ان کا جوہرنکال کر آدمی کی شکل دی ہو۔اس کتاب میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے کہ ’’ویسا‘‘ بہت کچھ ہے کہ جسے پڑھ کر انسان خجل ہوکر خود سے پوچنے لگے کہ ہمارے سدھرنے میں اور کتنے سال یا صدیاں لگیں گی۔یا یوں محسوس کرتا ہے جیسے ہم ابھی تک وحشت کے دور میں جی رہے ہوں۔وہاں کی حکومت، وہاں کا نظام،حقوق و فرائض کا توازن۔وہ اخلاق جن سے ہم یکسر محروم ہیں، پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی ایسے جنگل کے باسی ہیں جس میں درندے ہی درنرے دندناتے پھر رہے ہوں یا کسی جنگ میں نہتے پھنس گئے ہوں۔جہاں کہیں کچھ خرابات کا ذکر آیا بھی ہے تو اس سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ جو کچھ ہوتے ہیں یا ہیں، وہ چھپاتے نہیں۔دراصل خرابات فرنگ میں ایک خرابی یہ ہے کہ وہاں’’پردے‘‘ کا رواج نہیں ہے۔اس لیے سب کچھ بے پردہ کرتے ہیں اور ہم چونکہ پردے کے بہت پابند ہیں، اس لیے سب کچھ پردے میں کرتے ہیں، صرف خواتین ہی نہیں مرد بھی پردہ کرتے ہیں، صرف کباڑیوں کے ہاں خالی بوتلوں سے تھوڑا بہت اندازہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ ’’پردہ‘‘ کبھی کبھی اتنا سخت ہوجاتا ہیکہ لوگوں کو پوچھنا پڑتا ہے، نیچے کیا ہے یا پیچھے کیا ہے۔ہمارے گاؤں کے ایک بزرگ پردے کے اتنے سخت تھے کہ لوگ ان کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ان کے گھر کے برتن سخت پردے میں رہتے ہیں، مجال ہے کہ اس کے گھر کی ’’پتیلی‘‘ بھی کسی غیر کے سامنے آئے۔یہ صرف پردے کا فرق ہے ورنہ وہ فارسی میں کسی نے کہا ہے کہ ہر کہ دانا کند نادان بعد از خرابی بسیار مطلب جو وہاں ہوتا ہے وہ یہاں بھی ہوتا ہے۔ پردے سے یاد آیا ایک مرتبہ ایک نامانوس شہر گئے تھے۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ایک جگہ ہم نے کچھ لوگوں کو گول دائرے میں بیٹھے دیکھا کہ کچھ کررہے ہیں۔لیکن کندھوں تک ایک پردے میں گھس کر۔ تجسس ہوا کہ صرف سر اور چہرہ چھپا کر یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟ کوئی کھیل کھیل رہے ہیں یا بٹیر وغیرہ لڑا رہے ،جھانکا تو وہ لوگ چنے کھارہے تھے۔ اب اس سے زیادہ پردے کی پابندی کیا ہوگی۔ خرابا فرنگ صرف کتاب ہی نہیں آئینہ بھی ہے بلکہ آئینہ جہاں نماں کہیے کہ اس میں صرف فرنگ کا ذکر نہیں بلکہ ان کے رنگوں کا بھی ذکر ہے۔ یوں ہم اسے ظاہر کا نہیں باطن کا سفرنامہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ رحمان بابا نے کہا ہے کہ نہ دزایہ چرتہ اوزم نہ سفر کڑم بے سفرہ مے غوسیگی لار د عمر ترجمہ۔میں نہ اپنی جگہ سے ہلتا ہوں نہ سفر کرتا ہوں لیکن سفر کیے بغیر بیٹھے بیٹھے عمر کا سفر طے ہورہا ہے۔ سفر طرح طرح کے ہوتے ہیں لٹو بھی سفر کرتا ہے لیکن اپنی جگہ سے ذرا بھی ہلے بغیر۔یا وہ بھی سفر ہوتا ہے جیسے عثمان ہارون کرتے تھے۔ سراپا پر سراپائے خودم از بے خودی قربان زگرد مرکز خود صورت پرکار می رقصم ترجمہ۔میرا وجود بے خودی میں خود اپنے وجود پر قربان ہورہا ہے کہ میں پرکار کی طرح اپنے مرکز کے گرد گھومتا ہوں۔ میں قلم فاونڈیشن کے علامہ عبدالستار عاصم کا ممنون ہوں کہ اکثر ایسی خاصے کی چیزیں بھجوادیتے ہیں۔ورنہ ہم تو کنویں کے مینڈک بن کر رہ جاتے، پتہ ہی نہ چلتا کہ دنیا کتنے’’ ڈانگ ‘‘ ہوگئی ہے جیسا کہ رحمان بابا نے کہا ہے ورنہ ہم تو بیٹھے بٹھائے اپنا سفر کررہے ہیں۔اب جناب وحیدالرحمن کی یہ کتاب لے لجیے اس میں انھوں نے ہمیں جتنے جہانوں کی سیر کرائی ہے، اتنی سیر ہم زرکثیر صرف کرکے بھی نہ کرپاتے ایک گھونٹ میں نے پی اور سیر دنیا کی دیکھو میں کرکے آگیا

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل