Tuesday, March 03, 2026
 

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ؛ ناقص کارکردگی پر کوچ کیساتھ کپتان کی کرسی بھی ہلنے لگی

 



ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ میں بڑی تبدیلیوں کا امکان بڑھ گیا ، کوچ کے ساتھ کپتان کی کرسی بھی ہلنے لگی،ٹیم میں بابراعظم اور شاہین آفریدی سمیت کئی پلیئرز کی جگہ خطرے میں پڑ گئی، نوجوان باصلاحیت پلیئرز کو آزمانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، بنگلہ دیش کے خلاف آئندہ سیریز کئی کھلاڑیوں کے کیریئر کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ادھر شاہد آفریدی نے شاداب خان کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا دیا،سابق کپتان کے مطابق حالیہ فارم کو دیکھتے ہوئے شاداب خان ٹیم میں جگہ کے بھی مستحق نہیں، کپتانی تو بہت دور کی بات ہے،فخر زمان کو ذمہ داری سونپنی چاہیے۔  تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ایک بار پھر اہم موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے ، ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی بازگشت سنائی دینے لگی۔  ذرائع کے مطابق قیادت اور کوچنگ اسٹاف کے مستقبل پر سنجیدہ غور جاری ہے،آئندہ چند ہفتے کئی اہم فیصلوں کا تعین کر سکتے ہیں۔ قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا اور ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی پوزیشنز بھی زیر بحث ہیں جبکہ سلیکشن کمیٹی کارکردگی کی بنیاد پر اسکواڈ میں رد و بدل پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ بھارت اور سری لنکا میں منعقدہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں قومی ٹیم سپر ایٹ مرحلے تک تو رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی تاہم سیمی فائنل میں جگہ نہ بناسکی،روایتی حریف بھارت کے خلاف شکست اور پھر انگلینڈ کے ہاتھوں ہار نے پاکستان کی راہ مزید دشوار بنا دی۔ آخری میچ میں سری لنکا کے خلاف بڑے مارجن سے کامیابی درکار تھی لیکن مڈل آرڈر کی ناقص بیٹنگ کے باعث مطلوبہ ہدف حاصل نہ کیا جا سکا اور یوں گرین شرٹس کا سفر اختتام کو پہنچا۔ میگا ایونٹ میں ناقص اجتماعی کارکردگی کے بعد سینئر کھلاڑیوں کی جگہ بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض تجربہ کار کرکٹرز کو آرام دے کر نوجوان باصلاحیت پلیئرز کو موقع دینے کی تجویز زیر غورہے۔ اس تناظر میں بابر اعظم اور شاہین آفریدی سمیت چند نمایاں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بھی بحث جاری ہے۔  پی سی بی حکام ٹیم کی حکمت عملی، فیصلہ سازی اور دبائو میں کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ڈریسنگ روم کے ماحول اور قیادت کے انداز کو بھی زیر غور لایا گیا ہے۔دوسری جانب سابق کپتان شاہد آفریدی نے قومی ٹیم کی کارکردگی پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔  نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے اسپن بولنگ آل راونڈر شاداب خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ حالیہ فارم کو دیکھتے ہوئے شاداب خان ٹیم میں جگہ کے بھی مستحق نہیں، کپتانی تو بہت دور کی بات ہے،فخرزمان کو کپتان بنایا جا سکتا ہے، ہیڈ کوچ مسلسل شاداب کو مواقع دے رہے ہیں لیکن بار بار چانس ملنے کے باوجود وہ توقعات پر پورا نہیں اتر سکیشاداب خان نے 6 میچز میں 118 رنز بنائے، ان کی بیٹنگ اوسط 23.60 اور اسٹرائیک ریٹ 153.25 رہا۔ بولنگ میں وہ صرف 5 وکٹیں حاصل کر سکے، بولنگ اوسط 30.40 اور اکانومی ریٹ 8.44 رہی۔ ناقدین کے مطابق شاداب اہم مواقع پرمیچ کا رخ موڑ سکے نہ ہی ٹیم کو درکار کامیابیفراہم کر پائے، ورلڈ کپ میں اگر کوئی نمایاں مثبت پہلو سامنے آیا تو وہ اوپنر صاحبزادہ فرحان کی شاندار کارکردگی تھی۔  انہوں نے 6 اننگز میں 383 رنز اسکور کیے، ان کی اوسط 76.60 اور اسٹرائیک ریٹ 160.26 رہا۔ وہ پورے ایونٹ میں پاکستان کے سب سے مستقل مزاج بیٹر ثابت ہوئے اور مشکل حالات میں بھی ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ ذرائع کے مطابق ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور کپتان سلمان علی آغا کی پوزیشنز محفوظ نہیں رہیں اور آئندہ چند دن ان کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔ پی سی بی کے اعلی حکام ٹیم کی مجموعی حکمت عملی، فیصلہ سازی اور میدان میں کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں ، ڈریسنگ روم کے ماحول اور قیادت کے انداز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، قومی اسکواڈ میں ممکنہ رد و بدل کی بازگشت بھی تیز ہو چکی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ سلیکشن کمیٹی ٹیم کمبی نیشن میں بڑی تبدیلیاں کر سکتی ہے، بعض سینئر کھلاڑیوں کو آرام دینے اور نوجوانوں کو آزمانے کی تجویز زیر غور ہے، کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں گے ، جو پلیئرز تسلسل کے ساتھ نتائج دینے میں ناکام رہے انھیں ڈراپ کیے جانے کا امکان موجود ہے،اس تناظر میں بابراعظم اور شاہین آفریدی سمیت چند نمایاں نام بھی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں،مسلسل دبائو اور غیر یقینی فضا کے باعث فیصلہ سازی متاثر ہو رہی ہے، اہم مواقع پر غلط حکمت عملی اور ناقص عمل درآمد ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔  دوسری جانب بنگلہ دیش کے خلاف مجوزہ سیریز کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ، اسے کئی کھلاڑیوں کے کیریئر کے لئے فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل