Loading
وزیراعظم شہباز شریف نے کل ساڑھے گیارہ بجے تمام پارٹی سربراہان اور پارلیمانی لیڈرز کو مدعو کرلیا۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے وزیراعظم کی جانب سے مدعو کیے جانے کی تصدیق کی اور بتایا کہ یہ اجلاس خطے کی موجودہ صورتحال اور ایران پر ہونے والے حملے کے بعد کے حالات پر طلب کیا گیا ہے جس میں بریفنگ دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق اپوزیشن لیڈران اور پارٹی ہیڈز کو دعوت دینے آئے ہیں، ہم نے ان سے بات چیت کی ہے، انہیں کہا ہے کہ ذاتی اور جماعتی سیاست سے بلاتر ہو کر مشورے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم کی دعوت پر اپوزیشن کا موقف
اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے سیکیورٹی بریفنگ پارلیمنٹ میں دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے کوئی بریفنگ بلائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دی جائے، ہمیں کہا گیا کہ یہ بات آپ وہاں (وزیراعظم کے سامنے) کردیں جس پر میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بہتر ہو گا بریفنگ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس یا کم از کم سینیٹ میں دیں اور خطے کے حالات خطرناک ہیں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کل صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل