Thursday, March 05, 2026
 

پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور سپلائی چین کی مسلسل نگرانی کا فیصلہ

 



پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر پر صورتحال کی مسلسل نگرانی کے لیے قائم کمیٹی نے روزانہ اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور طے کیا ہے کہ پیٹرولیم ذخائر اور سپلائی چین کی نقل و حرکت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں توانائی کے شعبے میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے خطے کی صورتحال کے تناظر میں قومی سطح پر تیاریوں اور اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ قومی ذخائر اطمینان بخش سطح پر موجود ہیں اور اہم مصنوعات کے لیے مناسب مقدار میں ذخیرہ دستیاب ہے، اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کے حوالے سے فوری طور پر تشویش کی کوئی وجہ نہیں ہے، صورتحال بدستور غیر یقینی اور متغیر ہے، جس کے باعث مسلسل نگرانی اور محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے، عالمی سپلائی چینز اور بحری راستے بڑھتے ہوئے خطرات اور لاگت کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اجلاس کو بین الاقوامی تیل منڈی کی صورتحال، عالمی تیل منڈی میں نرخوں کے اتار چڑھاؤ، فریٹ اور انشورنس اخراجات میں اضافے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بحری راستوں میں تبدیلی اور اہم گزرگاہوں پر سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خطرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ وار پریمیم کے باعث عالمی توانائی منڈی میں لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے، ایشیائی منڈیوں میں توانائی کارگو کے لیے بڑھتا مقابلہ برقرار رہا تو بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ کمیٹی نے سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے جاری اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ دوست ممالک اور سپلائر کے ساتھ سفارتی اور تجارتی سطح پر رابطے جاری ہیں ایسے راستوں کی کوششیں جارہی جو زیادہ خطرناک سمندری گزرگاہوں سے باہر ہوں۔ کمیٹی نے شپنگ اور آپریشنل اقدامات پر بھی غور کیا جن کے ذریعے وقت کے ضیاع کو کم کیا جا سکے، پٹرولیم مصنوعات کی رسد برقرار رکھنے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف اقدامات سے متعلق بھی غور کیا گیا، صوبائی حکومتوں کی جانب سے اوگرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے مشترکہ نفاذی کارروائیوں پر زور دیا گیا۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ سرحد پار اسمگلنگ کی روک تھام اور ملک کے اندر بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہے گی، فیلڈ انٹیلی جنس کی مدد سے مسلسل نگرانی اور خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا اولین مقصد ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانا ہے، حکومت ایک منظم گورننس نظام کے تحت صورتحال کو ذمہ داری کے ساتھ سنبھال رہی ہے، حکومت  روزانہ کی بنیاد پر نگرانی، منصوبہ بندی اور مربوط فیصلے کررہی ہے، اگر عالمی قیمتوں میں تبدیلیوں کے باعث ناگزیر دباؤ پیدا ہوا تو حکومت قائم شدہ اور قابل پیش گوئی نظام کے تحت ردعمل دے گی ، ایسا اس لیے ضروری ہو گا تاکہ مارکیٹ میں بگاڑ سے بچا جا سکے اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ اجلاس میں ایل این جی اور ایل پی جی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سپلائی چین کے خطرات، جہازوں کی آمد و رفت کے شیڈول اور ٹرمینل آپریشنز سے متعقل امور  بھی زیر غور آئے۔ شرکا نے کہا کہ اگر رکاوٹیں برقرار رہیں تو طلب کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کے لیے متبادل اقدامات اختیار کیے جائیں، ترجیحی شعبوں کا تحفظ اور منڈی کا نظم برقرار رکھا جائے۔ اجلاس میں ایندھن کے استعمال میں بچت کے مرحلہ وار اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی اپنی سفارشات کل تک حتمی شکل دے کر وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ کمیٹی سفارشات کے ساتھ ایک جامع عمل درآمدی منصوبہ بھی وزیر اعظم کو پیش کیا جائے گا۔ منصوبے میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کی یقین دہانی اور مؤثر نفاذی اقدامات شامل ہوں گے، قیمتوں کے تعین اور گورننس کے نظام کو مستحکم بنانے کی تجاویز بھی منصوبے کا حصہ ہوں گی، ضرورت پڑنے پر ایندھن کے تحفظ اور استعمال میں بچت کے اقدامات بھی شامل کیے جائیں گے۔ صورتحال کی مسلسل نگرانی کے لیے کمیٹی نے روزانہ اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور طے کیا کہ پیٹرولیم ذخائر اور سپلائی چین کی نقل و حرکت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا،  متعلقہ اداروں کے درمیان بروقت اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر علی پرویز ملک، رانا تنویر حسین، جام کمال وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، وفاقی سیکریٹریز، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور سینئر سیکریٹریز سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل