Loading
کچھ دن پہلے پاکستان کو اطلاع ملی کہ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو پاکستان کے اندر وزیرستان اور بنوں پر قبضہ کرنے کا کہا۔ٹی ٹی پی نے کہا کہ ایسا ہو جائے گا، یہ ہمارے لیے بہت آسان ہے۔اسی طرح افغان طالبان نے انڈیا کی شہ پا کر پاکستان کو دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے قبائلی علاقوں کا خیبر پختون خواہ میں انضمام ختم کر کے واپس آزاد علاقے نہ بنایا اور ٹی ٹی پی کو وہاں کھلی چھٹی نہ دی تو ان کے پاس دس ہزار خود کش بمبار ہیں۔
طالبان ان خود کش بمباروں کو پاکستان کے طول و عرض میں کارروائیوں کے لیے پھیلا دیں گے۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نے اپنی دھمکی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ترلائی شیعہ مسجد میں خود کش دھماکہ کر کے اور معصوم عبادت گزاروں کو شہید کر کے اپنی سنجیدگی کا ثبوت پیش کر دیا۔انھوں نے ایک اور ایسے ہی دھماکے میں پاک فوج کے ایک کرنل شہزادہ گلفراز کو بھی شہید کر دیا۔ان حالات میں پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور پاک فضائیہ نے افغانستان کے اندر دہشت گرد ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا جہاں سے پاکستان پر حملے ہو رہے تھے۔
افغانستان نے بدلہ لینے کے بہانے ایک ہفتہ پہلے پاک افغان سرحد کے ساتھ ساتھ کم و بیش 53 مقامات پر گولہ باری کی۔پاکستانی افواج اس حملے کے جواب کے لیے تیار تھیں۔پاک فضائیہ اور زمینی دستوں نے کابل، قندھار، خوست، پکتیا اور پکتیکا میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور فوجی کمین گاہوں و ہیڈکوارٹروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔پاکستان کے ان حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں خوارج ہلاک و زخمی ہوئے۔بہت سے افغان ٹینک ، بکتر بند گاڑیوں اور اسلحہ ڈپوؤں کو ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔پاکستان نے کئی افغان چیک پوسٹوں کو تباہ کیا اور کئی ایک کے اوپر قبضہ کر لیا۔
پاکستان کی مسلح افواج اپنے ملک کے دفاع کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ہر افسر اور جوان شہادت کا متمنی ہے۔شہادت کے جذبے سے لبریز ہونے کے ساتھ بہترین تربیت یافتہ بھی ہے لیکن کسی بھی افغان پر حملہ کرنا اسے پسند نہیں کیونکہ فریقِ مخالف مسلمان ہے۔بہر حال اس کا کیا کیا جائے کہ افغان، مملکت پاکستان کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں۔ان کے دل میں پاکستان کے لیے نفرت اور ہاتھوں میں اسلحہ ہے۔پاکستان نے افغانوں کی سوویت یونین کے خلاف مدد کی۔امریکا اور اتحادیوں کے خلاف سیاسی،سفارتی اور جنگی مدد فراہم کی۔
چالیس لاکھ کے قریب افغان مہاجرین کو کئی دہائیوں تک پاکستان میں رکھا البتہ افغانوں کو جب بھی موقع ملا وہ انڈیا کی گود میں جا بیٹھے تاکہ انڈیا اور پاکستان دونوں کو ایکسپلائٹ کرسکیں۔ پاکستان نے بہت لمبے عرصے کے بعد دیر آید درست آید پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا کہ افغان دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس رکھنی ہے۔آپریشن غضب للحق ابھی تک جاری ہے۔خدا کرے اس مرتبہ یا تو افغان طالبان سمجھ جائیں کہ پاکستان کے ساتھ اچھی ہمسائیگی سے رہنے میں بھلائی ہے اور یہ کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے،یا پھر پاکستان کسی وقتی مصلحت کا شکار نہ ہو اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔
جنیوا میں امریکا ایران مذاکرات ہورہے تھے۔ بظاہر اچھی پیش رفت ہو رہی تھی۔ایران کے پاس اس وقت 60فی صد یورینیم افزودگی کی صلاحیت ہے۔ابتدا میں افزودگی بہت مشکل ہوتی ہے لیکن 60فی صد سے ویپن گریڈ افزودگی صلاحیت حاصل کرنے میں سالوں نہیں بلکہ چند ہفتے درکار ہوتے ہیں۔ایرانی قیادت نے شاید یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ ویپن گریڈ صلاحیت حاصل نہیں کرنی۔اسی لیے ایران جنیوا مذاکرات میں یہ تجویز دے رہا تھا کہ وہ پیچھے ہٹتے ہوئے یورینیم افزودگی کو 30فی صد پر لے جائے گا لیکن یہ دوسری بار ہوا ہے کہ ایران کو مذاکرات میں الجھا کر جنگ شروع کر دی گئی۔
صدر ٹرمپ نے بارہا یہ کہا کہ وہ کوئی نئی جنگ نہیں شروع کریں گے اور پرانی جنگوں کو ختم کریں گے۔ صیہونی یہودی لابی امریکا میں اتنی طاقتور اور اتنی با اثر ہے کہ امریکی انتظامیہ اس کے سامنے بے بس ہے۔ ٹرمپ خود اس جنگ سے ہچکچا رہے تھے لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو نے زور دیا کہ 2025کی جنگ کے نامکمل ایجنڈے کو ضرور پورا کیا جائے۔جنگ شروع ہوتے ہی ٹرمپ کے پہلے بیان کو دیکھیں تو وہ نتن یاہو کی زبان بولتا نظر آتا ہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم اس جنگ میں سپریم لیڈر جناب خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد ایران کی نیوکلیئر صلاحیت کو ختم کرنا،ایرانی میزائل پروگرام کو ملیامیٹ کرنا اور ایران میں امریکا و اسرائیل کی مرضی کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔
اسرائیل اور امریکا نے اپنا پہلا ہدف بآسانی حاصل کر لیا ہے۔جناب خامنہ ای اپنی فیملی کے کچھ افراد کے ساتھ شہید ہو گئے ہیں۔وہ اپنے رہائشی کمپاؤنڈ میں شہید ہوئے۔ان کے ساتھ ایرانی آرمی،انقلابی گارڈز کے اعلیٰ عہدیدار بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ٹرمپ کے بقول ایران کی تمام اعلیٰ قیادت موت کے گھاٹ اتار دی گئی ہے۔ایران نے پچھلے سال کی جنگ سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہر شعبے کی Chain of Command کو کافی نیچے تک آرگنائز کر دیا اور کہا جا رہا ہے کہ اعلیٰ قیادت کے مارے جانے کے بعد اب متبادل قیادت فیصلے کر رہی ہے۔اس ایک ہدف کے حصول کے علاوہ امریکا و اسرائیل ابھی تک کچھ اور حاصل نہیں کر سکے۔ان کا خیال تھا کہ جناب خامنہ ای کی شہادت کے ساتھ ہی ایرانی عوام موجودہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور امریکا و اسرائیل کی مرضی کی قیادت اقتدار سنبھال لے گی لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا اور ہوتا نظر بھی نہیں آتا۔
صدر ٹرمپ نے جون 2025 کی جنگ میں امریکی بی ٹو بمبار طیاروں سے بم باری کروا کے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام صفحہء ہستی سے مٹ چکا ہے۔یہ اس وقت بھی ایک دیوانے کی بڑ لگتی تھی اور چند دن پہلے ایران،امریکا مذاکرات نے ثابت کر دیا کہ وہ دعویٰ بالکل غلط تھا۔اگر بقول ٹرمپ ایران کی نیوکلیئر صلاحیت ختم ہو چکی ہے تو پھر کاہے کے مذاکرات اور ایران سے کیا مطالبہ۔ بہرحال نتن یاہو اپنے Un finishedایجنڈے یعنی ایران میں رجیم چینج اور ایران کو بے دست و پا کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔نتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو ہیمر لاک لگایا ہوا ہے۔نتن یاہو کے سامنے جتنا بے بس ٹرمپ ہے اتنا کوئی دوسرا امریکی صدر نہیں تھا۔امریکا اور اسرائیل کو ادراک ہونا چاہیے کہ اسرائیل کے مقابلے میں ایران ایک وسیع رقبے والا بڑا ملک ہے۔ایران پر جتنے بھی بم مار لیں پھر بھی ایران کا ایک بہت بڑا حصہ محفوظ رہے گا جب کہ اسرائیل چند بموں سے ہی شدید زخمی ہو جائے گا۔
اسرائیل کے اندر ایرانی حملوں سے جو تباہی ہو رہی ہے وہ رپورٹ نہیں ہو رہی۔آبنائے ہرمز وقتی طور پر کچھ بند ہے جس سے تیل کی آزادانہ نقل و حرکت رک گئی ہے۔اس سے پوری دنیا کی اسٹاک مارکیٹیں متاثر ہو رہی ہیں۔امریکا و اسرائیل آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے جتن میں ایرانی نیوی کو تباہ کر رہے ہیں۔خلیجی ممالک میں نظامِ زندگی مفلوج ہے۔ مارکیٹوں میں اشیاء صرف کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ان کالموں میں بارہا لکھا گیا ہے کہ ایران کی سب سے بڑی کمزوری اس کے انٹیلی جنس ادارے کی ناکامی ہے۔جناب خامنہ ای کو بھی اسی کمزوری نے مروایا۔پاکستان کو بھی اپنی انٹیلی جنس کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا۔ہمارے ہاں بھی کمزوریاں ہیں۔دہشت گرد افغانستان یا قبائلی علاقوں سے چل کر اسلام آباد اور کراچی تک پہنچ رہے ہیں۔وہ کئی چیک پوسٹوں سے گزر کر پہنچتے ہیں ۔آج ٹیکنالوجی بھی بہت احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ایران اور پاکستان دونوں ممالک اپنی صفوں میں گھسے فارن ایجنٹوں سے پاک ہو جائیں تو بہت محفوظ اور طاقتور ملک بن سکتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل