Loading
پنجاب بھر میں بسنت فیسٹیول منانے کے لیے دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔
جسٹس اویس خالد نے شہری اشبا کامران کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔ درخواست گزار نے عدالت میں خود درخواست کی قانونی حیثیت پر دلائل دیے تھے۔
عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے چیف سیکریٹری پنجاب کو بھجواتے ہوئے بسنت سے متعلق بلاتفریق پالیسی بنانے کی ہدایت کر دی۔
عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ اس سے متعلق درخواست گزار کو سن کر 60 روز میں پالیسی بنا کر عدالت کو آگاہ کریں۔
عدالت کے حکم پر ہوم ڈپارٹمنٹ نے رپورٹ ہائیکورٹ میں جمع کروا دی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ قانون کے مطابق ڈپٹی کمشنر حکومت سے منظوری کے بعد مختص کردہ دنوں میں بسنت منانے کی اجازت دے سکتا ہے، ڈپٹی کمشنر بسنت سے قبل شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور قانون میں دی جانے والی حفاظتی تدابیر کو ڈپٹی کمشنر شہریوں میں یقینی بنائے گا۔
رپورٹ کے مطابق پتنگ فروحت کرنے اور بنانے والوں کی رجسٹریشن لازمی ہوگی، قانون میں دھاتی ڈور سمیت دیگر خطرناک دھاگے کے استعمال پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے سیفٹی راڈز کے استعمال کو یقینی بنانا ہے، ڈی سی لاہور کی جانب سے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد بسنت کی اجازت دی گئی۔
رپورٹ میں استدعا کی گئی کہ عدالت درخواست کو خارج کرنے کا حکم دے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل