Monday, March 09, 2026
 

سلیکٹرز پر بھی جرمانہ کریں

 



’’ برا نہ مانیے گا آپ نے جس طرح ورلڈکپ میں پاکستان کی شکست کا تمام تر ملبہ کوچ مائیک ہیسن پر ڈالا وہ مجھے اچھا نہیں لگا، اس شکست کے اصل ذمہ دار تو کھلاڑی اور سلیکٹرز ہیں، ان کو بھی تو کچھ کہیں‘‘ امریکا سے ایک دوست نے فون پر مجھ سے یہ شکوہ کیا تو میں نے انھیں بتایا کہ وہ میری ذاتی رائے نہیں بلکہ ایک رپورٹ تھی، میں اس بات سے بالکل متفق ہوں کہ صرف کوچ نہیں بلکہ کپتان ، تمام کھلاڑی اور سلیکشن کمیٹی بھی اس ناکامی کے یکساں ذمہ دار ہیں۔  کوچ صرف بتا سکتا ہے پلانز پر عمل کرنا تو کھلاڑیوں کا ہی کام ہوتا ہے،البتہ یہ بھی درست ہے کہ ہیسن نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، من مانیاں کیں،میدان کے فیصلوں اور سلیکشن میں مداخلت بھی کرتے رہے۔  ان کے نزدیک اسلام آباد یونائٹیڈ سے اچھے کرکٹرز کہیں اور ہیں ہی نہیں، اسی لیے اب وہ بورڈ حکام کی نظروں سے اتر چکے ہیں، بنگلہ دیش سے سیریز کیلیے اسکواڈ کی تشکیل میں بھی انھوں نے دخل اندازی کی کوشش کی لیکن اس بار انھیں اہمیت نہیں ملی۔  ویسے ہر شکست کے بعد ہم کوچ، کپتان اور کھلاڑیوں کو تو برا بھلا کہتے ہیں لیکن سلیکشن کمیٹی کو بھول جاتے ہیں،درحقیقت چند روز قبل تک تو مجھے بھی یاد نہیں رہا تھا کہ اب سلیکٹرز کون ہیں۔  جب پی سی بی کی ویب سائٹ پر دیکھا تو علیم ڈار اور اسد شفیق کے نام ہی موجود تھے،علیم بھائی کی بطور امپائر قابلیت پر کسی کو کوئی شک نہیں،انھوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا لیکن وہ سلیکٹر بن کر غلطی کر گئے، شاید دنیا میں پہلی بار کوئی امپائر سلیکشن کمیٹی میں شامل ہوا ہو۔ اسد شفیق خاموش طبع قسم کے ’’یس مین‘‘ ہیں، کیا ان دونوں نے اکیلے ورلڈکپ اسکواڈ منتخب کیا تھا؟ یقینی طور پر ایسا نہیں تھا، ہیسن نے بعض تبدیلیاں کروائیں، بابر اعظم شامل نہیں تھے کوچ کے اصرار پر انھیں لیا گیا۔ گوکہ کمیٹی کا کوئی چیئرمین نہیں لیکن عاقب جاوید وہ چہرہ ہیں جو پس پردہ کافی متحرک رہتے ہیں، چند روز قبل علیم ڈار مستعفی ہو گئے، ان کے ’’قریبی ذرائع‘‘ یہ دعوے کر رہے ہیں کہ رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی، وہ اکثر کوچ سے بحث کرتے تھے اور تنخواہ وصول نہیں کی۔  البتہ اگر ایسا تھا تو ان کو پہلے ہی عہدہ چھوڑ دینا چاہیے تھا جیسا کہ ماضی میں صلاح الدین صلو،اقبال قاسم اور عبدالقادر مرحوم نے کیا تھا،ویسے تنخواہ تو علیم ڈار کو ملتی تھی، ان کے جانے پر اب عاقب کا نام بھی باقاعدہ طور پر سلیکشن کمیٹی میں شامل ہو گیا، اسد شفیق برقرار رہے، مصباح الحق اور سرفراز احمد بھی باضابطہ طور پر سلیکٹر بن گئے، پہلے بھی وہ سلیکشن کے عمل میں موجود رہتے تھے۔ میں آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ مصباح اور سرفراز فلاپ چیمپئنز کپ پروجیکٹ میں دیگر مینٹورز کی طرح 50،50 لاکھ روپے ماہانہ لینے والوں میں شامل تھے، باقی کو تو فارغ کر دیا گیا یہ دونوں نظرثانی شدہ تنخواہ پر پی سی بی کے پے رول پر برقرار رہے۔ سرفراز تو پھر بھی جونیئر لیول کی ٹیموں کے ساتھ مصروف نظر آتے تھے لیکن مصباح کو کہیں نہیں دیکھا گیا،وہ ماضی میں بھی مختلف حیثیتوں میں بورڈ کے ساتھ وابستہ رہ چکے لیکن کامیابیاں ہاتھ نہیں آئیں۔  چیئرمین کو چھوڑ کر شاید ہی کوئی ایسی پوسٹ ہو جو انھیں نہیں ملی، ایک وقت میں تو وہ چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ دونوں پوزیشنز پر قابض تھے جس پر عاقب خوب شور مچایا کرتے تھے، یہ اور بات ہے کہ بعد میں وہ بھی ایک وقت سلیکٹر کے ساتھ عبوری کوچ بنے۔ اب وہ ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ہیں،مصباح پر لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنے ڈپارٹمنٹ کے پلیئرز کو خاص ترجیح دیتے ہیں، انھیں اس حوالے سے محتاط رہنا ہوگا،ویسے اب ان کا بیٹا بھی کرکٹ کھیل رہا ہے ایسے میں انھیں سلیکشن کمیٹی سے دور ہی رہنا چاہیے تھا۔  سرفراز کی شمولیت بہتر فیصلہ ہے، ان کے پاس کرکٹنگ دماغ موجود ہے،البتہ ان کو بھی مصلحت پسندی سے دور رہنا ہوگا، اگر بطور سلیکٹر آپ کو کوئی بات پسند نہ آئے، رائے کو اہمیت نہ ملے تو ماہانہ چیک کی رقم دیکھے بغیر اسی وقت احتجاج ریکارڈ کرائیں بعد میں شہیدوں میں نام لکھوانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔  عاقب بھائی جب بورڈ میں نہیں تھے تب بڑے دلیر لگتے تھے، ان کے دوٹوک تبصروں کی وجہ سے لاہور قلندرز کو کئی بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، البتہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ کیریئر کے اس دور میں وہ بھی اب سکون چاہتے ہوں گے۔ خیر اب نئی سلیکشن کمیٹی بن ہی گئی ہے تو پی سی بی کو چاہیے کہ اسے جوابدہ بھی بنائے، پلیئرز کی طرح تمام سلیکٹرز سے بھی الگ معاہدے کریں، جس طرح ورلڈکپ میں خراب کارکردگی پر کھلاڑیوں پر50،50 لاکھ روپے جرمانہ ہوا ویسے ہی اگر ٹیم ہارے تو جس نے ناکام کرکٹرزکو منتخب کیا ان پر بھی جرمانہ ہونا چاہیے، کوئی آئی سی سی یا اے سی سی ٹورنامنٹ جیتیں تو انعام بھی دیں،اس سے بہتری آ سکتی ہے۔  بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں اب اتنا ٹیلنٹ باقی نہیں رہا لیکن میں اس سے متفق نہیں ہوں،257 ملین پاکستانیوں میں سے اگر 15 باصلاحیت کرکٹرز تلاش نہیں کر سکتے تو اس میں قصور آپ کا ہی ہے۔ موجودہ ٹیم پورے پاکستان کے ٹیلنٹ کی نمائندگی نہیں کرتی، ہر گلی محلے میں آپ کو اچھے کھلاڑی مل سکتے ہیں، انھیں تلاش کریں اور تراش خراش کر ہیرا بنائیں،اس کے لیے ہمیں صرف اپنے کام سے ایماندار سلیکٹرز کی ضرورت ہے۔  سلیکشن کمیٹی سے یہ درخواست ہے کہ پلیز کسی ایک فارمیٹ میں اچھا کھیل پیش کرنے والے کو زبردستی دوسرے میں نہ لائیں، یہاں کوئی ٹیسٹ میں اچھا کھیلے تو ٹی ٹوئنٹی میں لے آتے ہیں،اسی طرح ٹی ٹوئنٹی میں بہتر کھیلنے والا ٹیسٹ کیپ پا لیتا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔  سلیکٹرز کی خوش قسمتی ہے کہ محسن نقوی جیسا چیئرمین ملا جو انھیں فری ہینڈ دیتا ہے، سلیکشن میں ان کا کردار نہیں ہوتا مگر ٹیم ہارے تو تنقید چیئرمین پر ہی ہوتی ہے، اب کوئی اسکواڈ منتخب ہو تو سلیکٹرز باقاعدہ پریس کانفرنس میں بتائیں کہ کسے کیوں منتخب کیا یا کیوں ڈراپ کیا۔ اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری سلیکشن کمیٹی خود لے،آف سیزن میں ٹیلنٹ ہنٹ کریں، کب تک وہی چند گنے چنے فلاپ کھلاڑی متواتر مواقع پاتے رہیں گے، اگر اگلے ورلڈکپ میں ہمیں بہتر نتائج چاہیئں تو ابھی سے کوشش کرنا ہوگی، آغاز حقدار کرکٹرز کو موقع دینے سے ہی ہو سکے گا، ورنہ سلیکٹرز کو پھر کوئی نئی نوکری ڈھونڈنا پڑے گی۔ (نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل