Loading
سانحہ گل پلازہ سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے روبرو ممتاز آرکیٹیکٹ اور سٹی پلانر عارف حسن پیش ہوئے جہاں انہوں نے تعمیرات کے بنیادی اصولوں اور خصوصی طور پر گل پلازہ کے حوالے سے اپنی ماہرانہ رائے پیش کی۔
کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے عارف حسن نے کہا کہ عام طور پر فائر ایکسٹینگویشر کی مدت ایک سال ہوتی ہے اور ایک سال بعد انہیں دوبارہ تبدیل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمارتوں میں ایمرجنسی لائٹس اور بیک اپ پاور کا ہونا لازمی ہے جو جنریٹر یا سولر پینل کے ذریعے فراہم کی جا سکتی ہے۔
عارف حسن کے مطابق عمارتوں میں آگ بجھانے کے لیے مخصوص واٹر ٹینک بھی ہونا چاہیے جو چھت پر صرف فائر فائٹنگ کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ ہنگامی صورتحال میں محفوظ راستوں سے نکلنے کے بارے میں آگاہ ہوں۔
سماعت کے دوران کمیشن کے رکن جسٹس آغا فیصل نے عارف حسن کے گجر نالہ سے متعلق ایک آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ان کے خیال میں سب سے بنیادی اقدام کیا ہونا چاہیے۔ اس پر عارف حسن نے جواب دیا کہ اگر مؤثر قوانین موجود ہوں تو ان پر عملدرآمد کروانا آسان ہو جاتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل