Tuesday, March 10, 2026
 

آج ایران پر حملوں کا سب سے شدید دن ہوگا؛ امریکا کی نئے سپریم لیڈر کو دھمکی

 



امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ابھی تو آغاز ہے تاہم ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پریس کانفرنس میں امریکی صدر کے جنگ کے جلد خاتمے کے بیان پر ابہام پیدا کردیا ہے۔ جب پیٹ ہیگستھ سے پوچھا گیا کہ گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے جلد خاتمے کا عندیہ دیا جب کہ آپ نے کہا تھا کہ ابھی تو آغاز ہے۔ امریکی وزیر دفاع نے جواب میں کہا کہ ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے لیکن یہ صدر ٹرمپ پر منحصر ہے کہ یہ جنگ کب تک چلتی ہے۔ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے صحافی نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کے امریکی حملے میں زخمی ہونے کی اطلاعات درست ہیں؟ جس پر امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے کہ مجتبی خامنہ ای زخمی ہیں یا نہیں۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ مجتبی خامنہ ای عقلمندی کا مظاہرہ کریں اور صدر ٹرمپ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں۔ جنگ کے نتائج کے حوالے سے پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ جنگ کے نتائج امریکا کے مفاد میں ہوں گے اور امریکا کو آئندہ ’نیوکلیئر بلیک میلنگ‘ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا کہ آپریشن ایپک فیوری کے مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور آج ایران پر حملوں کا سب سے شدید دن ہوگا۔ امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ آج پھر سے، ایران کے اندر حملوں کا ہمارا سب سے شدید دن ہوگا۔ سب سے زیادہ فائٹر، سب سے زیادہ بمبار، سب سے زیادہ حملے، پہلے سے کہیں بہتر انٹیلی جنس اور سب کچھ پہلے سے بہتراور شدید تر ہوگا۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کے سب سے کم میزائل فائر کیے ہیں۔ ایران تنہا اور کمزور ہوچکا ہے۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل