Saturday, March 14, 2026
 

بھارت کا پانچواں خلائی مشن بھی ناکام؛ مالی نقصان جان کر آپ کے ہوش اُڑ جائیں گے

 



بھارت کے خلائی پروگرام کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے جب پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل مشن ایک بار پھر ناکام ہو گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی خلائی مشن PSLV-C62 آندھرا پردیش کے ستیش دھون اسپیس سینٹر سے پرواز کے تقریباً آٹھ منٹ بعد تکنیکی خرابی کا شکار ہوگیا۔ جس کے نتیجے میں زمین کے مشاہدے کے لیے تیار کیا گیا مرکزی سیٹلائٹ انویشا (EOS-N1) سمیت 16 سیٹلائٹس تباہ ہوگئے۔ 2021 کے بعد یہ اس راکٹ پروگرام کی پانچویں اور گزشتہ 8 ماہ میں دوسری بڑی ناکامی ہے جس کے بعد انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کی صلاحیت اور حکومت کی خلائی شعبے کو تیزی سے تجارتی بنانے کی پالیسی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس سے قبل 18 مئی 2025 میں تیسرے مرحلے کے سالڈ موٹر میں دباؤ کم ہونے کے باعث EOS-09 سیٹلائٹ مدار تک نہیں پہنچ سکا تھا۔ گزچتہ برس جنوری میں نیویگیشن سیٹلائٹ NVS-02 بھی مطلوبہ مدار تک نہیں پہنچ سکا کیونکہ انجن کا والو کام نہ کر سکا تھا۔   7 اگست 2022 کو سینسرز کی خرابی کے باعث سیٹلائٹس غیر مستحکم مدار میں چلے گئے اور بعد میں زمین کے ماحول میں جل کر ختم ہوگئے تھے۔  اس سے بھی ایک سال قبل 12 اگست 2021 کو کریوجینک اسٹیج میں ہائیڈروجن ٹینک والو لیک ہونے سے EOS-03 سیٹلائٹ مدار تک نہیں پہنچ سکا تھا۔ ماہرین کے مطابق ان ناکامیوں کے نتیجے میں بھارت کو مالی اور دفاعی دونوں سطحوں پر نقصان اٹھا جب کہ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کی ناقص کارکردگی بھی کھل کر سامنے آگئی۔ پی ایس ایل وی تین دہائیوں تک قابل اعتماد سمجھا جانے والا راکٹ تھا جو اب مسلسل ناکامیوں کے باعث تحقیقات کے لیے عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ صرف PSLV-C61 اور PSLV-C62 کی ناکامی سے تقریباً 1100 سے 1250 کروڑ بھارتی روپے کا نقصان ہوا جبکہ پانچ ناکامیوں سے مجموعی نقصان 2200 سے 2800 کروڑ روپے تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ عالمی چھوٹے سیٹلائٹ لانچ مارکیٹ میں بھارت کا حصہ 2017 میں تقریباً 35 فیصد تھا جو 2024-25 تک تقریباً ختم ہو چکا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل