Loading
سوشل میڈیا کے بڑھتےاثرورسوخ کے پیشِ نظرمتعدد ممالک آزادیٔ اظہارِ رائے سے متعلق قوانین کے نفاذ اور عملداری میں سختی اختیار کررہے ہیں۔
بالخصوص جنگی صورتحال سے دوچار ممالک فیک نیوز اور پروپیگنڈا کی روک تھام کیلئے سخت پالیسی اختیار کرتے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارہ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے غیر مصدقہ معلومات یا مواد کے بارے میں عوامی وارننگ جاری کردی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ڈرون یا میزائل کی تصاویر یا اس سے ہونے والے نقصان کی ویڈیو لگانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
خلاف ورزی کرنے والوں کو دو سال قید تک کی سزا دی جائے گی۔ دبئی میں حالیہ کشیدگی کے دوران میزائلز کی ویڈیو بنانے کے الزام برطانوی شخص سمیت 20 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارہ کو انٹرویو میں متحدہ عرب امارات کی وزیر مملکت برائے خارجہ لانا نسیبہ کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم قوانین عوام کے تحفظ کیلئے ہیں اوراس پرسختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے۔
اماراتی وزیر نے کہا کہ سوشل میڈیا قوانین کی اس سے قبل بھی متعددخلاف ورزیاں ہو چکی ہیں، حالیہ صورتحال میں معلومات معتبر اور قابل اعتماد ذرائع سے حاصل کرنی چاہیئں۔
متحدہ عرب امارات نے متعدد فرانسیسی شہریوں کو بھی قانون کی خلاف ورزی پر 48 گھنٹے کیلئے قید رکھا ، برطانوی نشریاتی ادارہ
اسی طرح پاکستان میں بھی آئین کے آرٹیکل 19 میں اظہار رائے کی حدودوقیود بالکل واضح ہیں، ماہرین نے کہا ہے کہ ہر شخص کو آزادیٔ رائے کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ اس کا اظہار ملکی دفاع اور قومی سلامتی کے خلاف نہ ہو۔
پاکستان میں بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح سائبر قوانین کی سخت اور مؤثر عملداری ناگزیر ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل