Loading
انگریزوں اور ہندوؤں کا مسلمانوں کے ساتھ رویہ دیکھنے کے بعد قائد اعظم نے ایک علیحدہ ریاست کی تحریک شروع کر دی۔
قائد اعظم نے کہا تھا کہ مسلمان علیحدہ قوم ہیں ، جن کا رنگ، نسل اور تہذیب ہندوؤں سے جدا ہے
تحریک پاکستان کے کارکن قاضی فضل الرحمنٰ کا کہنا تھا کہ قائد اعظم کوئٹہ تشریف لائے میں اس وقت بہت چھوٹا تھا،میں نے قائد اعظم کو دیکھا
قاضی فضل الرحمنٰ نے کہا کہ وہ (قائد اعظم )بلند قامت اور باوقار شخصیت کے مالک تھے، میں ان سے بہت متاثر ہوا۔
قاضی فضل الرحمنٰ کا کہنا تھا کہ ہمارے گھر کے قریب ہی سیاسی جماعتوں کے جلسے ہوتے تھے۔
قاضی فضل الرحمنٰ نے کہا کہ اس زمانے میں سیاسی پختگی زیادہ نہیں تھی لیکن عوام کا جوش و خروش بہت زیادہ ہوتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں مسلمانوں کی اکثریت پاکستان کے حق میں تھی، اگر پاکستان نہ بنتا تو آج بھی ہم ہندوؤں یا غیر مسلموں کے غلام ہوتے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل