Loading
تہران: ایران نے اپنے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ آئل ٹرمینل پر کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں سخت اور فیصلہ کن ردعمل دینے کا انتباہ جاری کیا ہے۔
ایرانی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا کسی ملک کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے خارگ جزیرے پر حملہ کرتا ہے تو ایران اس ملک کی تیل اور گیس تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران جب بھی کسی معاملے پر وارننگ دیتا ہے تو اس پر عمل بھی کرتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پڑوسی ممالک کو محتاط رہنا چاہیے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے ان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہو۔
ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ اگر کسی ملک نے امریکا کو خارگ جزیرے پر حملے کے لیے اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت دی تو ایران کے ردعمل میں اس کے توانائی کے مراکز خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل ایران کے خارگ جزیرے کو ممکنہ ہدف بنانے کا اشارہ دیا تھا۔
یاد رہے کہ خارگ جزیرہ ایران کے ساحل سے تقریباً 15 ناٹیکل میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اسے ملک کا سب سے بڑا تیل برآمدی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے ہوتی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل