Loading
افغان طالبان کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا پردہ چاک ہوگیا، جہاں اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف ہوا ہے۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے اس حوالے سے فیکٹ چیکٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔
افغان طالبان کا دعویٰ
افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ ایک فضائی حملے میں منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے قائم ’امید اسپتال‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
???? Fact Check | Ministry of Information & Broadcasting
◼️ Omid Hospital being claimed to be hit by Afghan Taliban regime in the tweet is actually multiple kilometres away from Camp Phoenix, the military terrorist ammunition and equipment storage site precisely targeted last… pic.twitter.com/60hu3m2JZf
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) March 17, 2026
حقائق سامنے آ گئے
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہ ایک عسکری تنصیب تھی، نہ کہ کوئی فعال اسپتال۔
حکام کا کہنا ہے کہ اصل ’امید اسپتال‘اس مقام سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے۔
دستیاب تصاویر کے مطابق اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جبکہ نشانہ بننے والا مقام کنٹینرز اور عارضی ڈھانچوں پر مشتمل تھا۔ نشانہ بننے والے مقام پر اسلحہ اور بارود موجود تھا۔
متنازع پہلو
افغان طالبان کے دعوے اور پروپیگنڈے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ:
اگر یہ مقام واقعی بحالی مرکز تھا، تو وہاں عسکری سرگرمیوں کی موجودگی ایک اہم سوال اٹھاتی ہے۔
دوسری جانب سرکاری مؤقف بھی مکمل طور پر غیر جانبدار بین الاقوامی تصدیق سے نہیں گزرا۔
???? Fact Check | Ministry of Information and Broadcasting
Why Afghan official handle has deleted this post / video? The first official post which claimed that some “ drug rehab” has been hit has been deleted !
Was this generated and AI clip that could not stand the multiple… pic.twitter.com/zz4ysOF8MC
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) March 17, 2026
مبینہ اے آئی پروپیگنڈا
ایک سرکاری افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے متعلقہ ویڈیو اور پوسٹ کو بعد میں حذف کیا گیا ہے، جس کی کوئی ٹھوس اور واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر غلط معلومات پر مبنی پوسٹ تھی، جس سے اس کی صداقت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
علاوہ ازیں مبینہ طور پر ویڈیو اے آئی (مصنوعی ذہانت) سے بنائی گئی تھی، جو فیکٹ چیکٹ اور تصدیق کے آزاد ذرائع پر دباؤ کا سامنا نہ کر سکی اور افغان حکام کو اسے ڈیلیٹ کرنا پڑا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل