Thursday, March 19, 2026
 

جنگی حالات اور کفایت شعاری مہم

 



پاکستان کی موجودہ حکومت نے امریکا ،اسرائیل اور ایران جنگ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر تیل بحران ، ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کے پیش نظر جنگی بنیاد پر ایک بڑی کفایت شعاری مہم مارچ 2026سے شروع کی ہے ۔اس مہم کے تحت سرکاری دفاتر میں چار روزہ ہفتہ وار اور جمعہ کو ورک فار ہوم ،سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50فیصد تک کمی ،نئی گاڑیو ں کی خریداریوں پر پابندی،وفاقی کابینہ کے اراکین کی دو ماہ کی کم سے کم تنخواہ ترک کرنا ،اعلی افسران کی تنخواہوں میں پانچ سے تیس فیصد کمی ،23مارچ کی تقریبات کی منسوخی ،تعلیمی اداروں کی بندش،حکومتی یا سرکاری اخراجات میں بیس فیصد کمی کا اعلان شامل ہے ۔اگرچہ یہ کام حکومت نے جنگی بنیاد پر کیا ہے مگر پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری حکومتیں غیر ترقیاتی اخراجات ، بے جا حکومتی اخراجات کی درست ترجیحات میں کیونکر ناکام رہتی ہیں ۔کیا وجہ ہے کہ ہمارا جیسا ملک جو معاشی طور پر کمزور ہے وہاں حکومتی اور انتظامی اداروں کا نظام بے جا اخراجات اور سرکاری وسائل کے ضیاع پر کھڑا ہے ۔ خیر حکومت نے موجودہ حالات میں جو اقدامات اٹھائے ہیں اس کی حمایت کی جانی چاہیے ۔ بظاہر یہ اقدامات سنگین بنیاد پر ہی کیے گئے ہیں ۔اس طرز کی پالیسیاں محض پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی اختیار کی جا رہی ہیں۔اگر جنگ کا ماحول فوری طور پر ختم نہیں ہوتا اور جنگ مزید آگے بڑھتی ہے تو پھر ہمیں یا حکومتوں کو مزید سخت سیاسی، انتظامی، قانونی اور معاشی فیصلے کرنے پڑیں گے اور ان فیصلوں کا براہ راست اثر جہاں مختلف اور بالخصوص کمزور معاشی ممالک پر پڑے گا وہیں ان ممالک کے کمزور عوام کو بھی اس کی بھاری قیمت معاشی  تنگدستی کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ہم حکومت کی کفایت شعاری کی مہم کو دیکھیں تو یہ حالات کے جبر کے تحت اول تو عارضی پالیسی تک محدود ہے، یہ حکومت کی مستقل پالیسی کا حصہ نہیں جو اصولی طور پر ہونا چاہیے۔ اگر جنگ فوری طور پر ختم ہوتی ہے تو کفایت شعاری کے نام پر یہ کھیل بھی ختم ہوجائے گا ۔اس کے بعد حکومت کا وہی پرانا اور شاہانہ انداز حکمرانی ہو گا۔کیونکہ اگر واقعی یہ کفایت شعاری اس حکومت کے لیے ضروری ہے تو پھر کیوں یہ حکمت عملی ہماری مستقل پالیسی کا حصہ نہیں بن سکتی، اس میں کیا رکاوٹ ہے ۔ایک بات سمجھنی ہوگی کہ اس ملک میں ماضی میں بھی مختلف حالات کی بنیاد پر حکومتی سطح پر کفایت شعاری مہم شروع ہوتی رہی ہیں، اول یہ محض کاغذی یا رسمی کارروائی تک محدود رہی ہے اور ہم نے اس کا کوئی بڑا مثبت اثر نہیں دیکھا ۔دوئم، اس طرز کی مہم میں عوام سے تو قربانی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے یا سرکاری ملازمین پر دباؤ ڈالا جاتا ہے مگر حکمران یا اس ملک کا طاقت ور طبقہ خود کسی بڑی قربانی دینے میں نہ تو نظر آتا ہے اور نہ ہی یہ اس کی بڑی ترجیحات کا حصہ دیکھنے کو ملتا ہے جو تضاد پر مبنی پالیسیوں کی واضح عکاسی کرتا ہے ۔ اصل میں تو اس طرز کی ہنگامی بنیادوں پر ہونے والی کفایت شعاری مہم میں سب سے زیادہ بوجھ طاقت ور اشرافیہ اور حکمران طبقات پر ڈالا جاتا ہے ۔ وزیر اعظم ،صدر، گورنرز، وزیر اعلی ، وزرا ،مشیر ،ججز اور بیوروکریسی کے اخراجات میں نمایاں کمی نظر آنی چاہیے۔لیکن اس وقت بھی ملک میں مختلف مباحث اور گفتگو میں اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ اور حکمران طبقات کے بڑے اخراجات پر تنقید ہو رہی ہے مگر اس کے باوجود ان کے اخراجات میں سالانہ بنیادوں پر مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ اس ملک کا طاقت ور طبقہ اپنے انداز حکمرانی کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔خود اس ملک میں سیاست دانوں یا بیوروکریسی کے اعلی افسران یا ججزکو ملنے والی بڑی تنخواہیں اور ان کو دیگر ملنے والی مراعات میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کیوں کھڑے ہیں۔کچھ عرصہ قبل اسی ملک میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی بھاری بھرکم تنخواہوں میں اضافہ اور اب چیئرمین سینیٹ کے لیے مہنگی ترین گاڑی کا خریدنا ایک تضاد پر مبنی پالیسی کا حصہ ہے ۔ ایک طرف حکومت نے جنگی بنیاد پر پورے ملک میں کفایت کو بنیاد بنا کر مہم چلانے کا فیصلہ کیا تو اسی دوران حکومت پنجاب نے صوبہ میں 52کروڑ 35لاکھ سے 42سیکیورٹی گاڑیاں خریدنے کی منظوری دی ہے جو یقینی طورپر وزیر اعظم کی پالیسی کے برعکس فیصلہ ہے۔اسی طرح ایک ادارے کے مقابلے میں دوسرا متبادل ادارہ بنانا اور بلاوجہ خود پر اداروں یا ان کے اعلی افسران کا حکومت پر بوجھ ڈالنا کہاں کی درست حکمت عملی ہو سکتی ہے ۔مختلف حکومتوں نے مختلف ادوار میں مختلف طرز کے کمیشن بنائے جن کا مقصد سرکاری بے جا اخراجات میں کمی کرنا تھا ۔مگر ان سامنے آنے والی رپورٹس پر کوئی عملی کام دیکھنے کو نہیں مل سکا ۔یہ یاد رکھیں کہ اس وقت بھی حکومت کی کفایت شعاری مہم کی بنیاد پر عام شہری ہی مہنگے پٹرول ،ڈیزل،تیل اور بجلی کی قیمتوں سے ،تعلیمی بندش اور روزگار کی کمی یا عدم تحفظ کا شکار ہورہے ہیں۔ہمیں اس وقت بھی وزیر اعظم کے ہی فیصلے کی بنیاد پر وفاق سے لے کر چاروں صوبوں اور صوبوں سے لے کر اضلاع تک کہیں بھی کفایت شعاری کی عملی شکل دیکھنے کو نہیں مل رہی البتہ یہ الگ بات ہے کہ اس مہم کی تشہیر پر بلاوجہ اشتہارات کی مدد میں سرکاری وسائل کو برباد کیا جارہا ہے یا ویسے ہی حکومتی کاموں کی تعریف میں جو اشتہارات کا مقابلہ چل رہا ہے اس میں زمینی حقایق وہ نہیں جو ہمیں اشتہارات کی دنیا میں دکھایا جارہا ہے ۔ اس کھیل میں محض وفاقی حکومت ہی نہیں بلکہ چاروں صوبائی حکومتیں بھی پیش پیش ہیں۔اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ حکومت جب اس طرز کے کفایت شعاری کی بنیاد پر منصوبے شروع کرتی ہے تو اس کی نگرانی ،جوابدہی اور شفافیت کا نظام کیا ہوتا ہے اور اس پر عمل کیوں نہیں نظر آتا۔اصل میں ہمارا حکمران طبقہ سمجھتا ہے کہ حکومتی وسائل پر عیاشی ان کا حق ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف جیسا مالیاتی ادارہ بھی بار بار حکومت کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرے اور اپنے اقدامات میں معاشی ڈسپلن کو پیدا کرے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ حکومتی سطح پر بیشتر اقدامات اپنی اہمیت اور ساکھ کھودیتے ہیں اور لوگوں میں یہ رائے بنتی ہے کہ اس کھیل کا مقصد ان ہی کی گردن پر چھری پھیرنا ہے ۔اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی سطح پر کمزور کمٹمنٹ کا ہونا یا ان کے داخلی تضادات یا بیوروکریسی کی سطح پر متضاد پالیسی ہوتی ہے ۔ حکومت دعویٰ تو کرتی ہے کہ وہ اس کفایت شعاری کی مہم سے عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے لیکن حالیہ پٹرول اور ڈیزل یا تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے معلوم ہو گیا ہے کہ بوجھ کس طبقہ پر ڈالا گیا ہے ۔کیونکہ جو حکومت کسی عمل سے بچت کرتی بھی ہے تو اسے عوام تک پہنچانے کی بجائے غیرترقیاتی اخراجات کی صورت میں خرچ کیا جاتا ہے ۔حکومت کی سطح پر علامتی اظہار یا اقدامات کرنا کفایت شعاری مہم میں سب کو اچھا لگتا ہے لیکن جب اس پر شفافیت کی بنیاد پر عمل ہی نہیں ہونا تو پھر اس سے کسی بڑے نتائج کی توقع بھی نہیں ہوگی ۔اس لیے حالیہ مہم دباؤ کا ردعمل ضرور ہے مگر یہ کوئی مستقل پالیسی کا حصہ نہیں بنی ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل