Thursday, March 19, 2026
 

چشم نَم سے آپ کو کہتے ہیں الوداع ۔۔۔۔۔!

 



رمضان الکریم کی آمد سے ذرا پہلے ہم سب ایک ناقابل بیان روحانی کیفیت میں مبتلا اس ماہِ مقدس کا انتظار کرتے ہیں، پھر رمضان آتے ہیں، ہم بھی دیدہ و دل فرش راہ ہوتے ہیں لیکن پھر احساس ہوتا ہے کہ رب تعالی کا یہ مہینا تو واقعی مہمان تھا، آیا اور پھر کس تیزی سے گزر گیا اور پھر ہم پھر سے ایک ناقابل بیان کیفیت کا شکار ہوجاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہم سے کچھ کھو سا گیا ہے، وہ ماہ مبین آیا، اس نے ہمیں سرشار کیا اور دبے پاؤں رخصت بھی ہوگیا، الوداع۔۔۔۔۔۔۔! رمضان کی آخری چند گھڑیاں ہی باقی ہیں جو ہمیں اپنے محاسبے اور جائزے کے لیے ملے ہیں۔ رمضان المبارک ہمارے گناہوں کو جلا ڈالتا اور ہمیں نئے سرے سے زندگی و توانائی دینے آتا ہے، تو کیا ہم اس میں کام یاب ہوئے۔۔۔ ؟ روزے کا اجر صرف رب تعالی کو معلوم ہے اور یہ بھی کہ ہمارے روزے قبول ہوئے کہ خدا نہ خواستہ ہم صرف بھوکے پیاسے رہ کر محروم ہوجانے والوں میں تو نہیں۔ آئیے! اس امید کے ساتھ کہ اﷲ تعالی توبہ کرنے والوں سے خوش ہوتا اور ان سے درگزر کرتا ہے، اپنا احتساب و جائزہ لیں لیکن کیا جائزہ لیا جائے۔۔۔۔ ؟ اگر چند جملوں میں روزے کا مقصد سمیٹا جائے تو وہ یہ ہے کہ روزہ قُرب الہی کا ذریعہ ہے تو کیا ہم اﷲ کے قریب ہونے میں کام یاب ہوئے۔۔۔؟ اﷲ کے قُریب ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بس تسبیح کے دانے گرتے رہیں، تلاوت جاری رہے، سجدوں سے پیشانی سیاہ ہوجائے، یہ سب تو قرب الہی کے ذرائع ہیں اور ان اعمال کا بجا لانا ازحد ضروری ہے، قُرب کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اﷲ کی محبّت میں اپنے نفس کی خواہشات کو مار ڈالا ہے۔۔ ؟ اگر ہماری خواہشات اﷲ کے حکم سے ٹکراتی ہیں تو ہم نے رب کی محبت میں اسے قربان کرنا سیکھا یا نہیں ؟ اور سب سے اہم یہ کہ یہ محبت چند روزہ ہے یا دائمی ؟ رمضان ختم ہوتے ہی کہیں ہم دوبارہ تو ان امور میں مبتلا تو نہیں ہوجائیں گے جس سے رب نے منع کیا ہے۔ رمضان میں تو اﷲ تعالی حلال کاموں پر بھی پابندی لگاتے ہیں، لوگ رک جاتے ہیں لیکن جو ممنوعات ہیں ان میں پورا سال مبتلا رہتے ہیں اور احساس بھی نہیں ہوتا کہ شریعت میں تو یہ ویسے ہی منع ہیں۔ تو اپنا جائزہ لیں کہ ہم خود کو روک پائے ہیں کہ نہیں؟ روزہ محنت کی عادت ڈالتا ہے تو کیا ہم نے آرام طلبی کو اپنی زندگی سے نکالا ؟ ہم نے محنت و مشقت کرنا سیکھا ؟ روزہ ہم دردی ایثار پیدا کرتا ہے تو اپنا جائزہ لیں کہ ہمارے اندر یہ صفات پیدا ہوئیں؟ روزہ برائیوں سے روکتا ہے تو کیا ہم رک گئے، آنکھ کان زبان کے گناہ سے خود کو بچا پا رہے ہیں ؟ اگر ہم ایسا کرنے میں کام یاب ہوئے تو ہمارے لیے مقام شکر ہے کہ اﷲ نے ہمیں توفیق دی اور شُکر کے نوافل و سجدے ادا کریں کہ شُکر اجر کو بڑھاتا ہے اور اگر ان مقاصد کے حصول میں کمی رہی، سستی و کاہلی دکھائی ہے جو کام اﷲ کو ناپسند ہیں وہ نہیں چھوڑے ہیں تو اب بھی وقت ہے یہ چند گھڑیاں بھی سچے دل سے مانگنے والوں کے لیے نعمت عظمی ہیں، سچے دل سے توبہ کی جائے اﷲ کی مدد و مغفرت طلب کی جائے، رحم مانگا جائے کہ ہمارا عمل تو نہیں اس قابل آپ دینے و عطا کرنے والے ہیں ہمیں خوش نصیبوں میں شامل فرما لیجیے۔ رمضان المبارک برکتیں لایا تھا تو جائزہ لیجیے اپنا کہ ہم نے ایسا کیا کچھ کِیا ہے جو بارگاہ الہی میں قبول ہو ؟ کہیں ہماری عبادت جھوٹ، دھوکا دہی، بددیانتی، دکھاوے و نمود و نمائش سے آلودہ تو نہیں ہیں ؟ اگر ایسا نہیں ہ ہے تو اترائیے بھی نہیں کہ یہ بھی بس توفیق الہی کے بنا ناممکن تھا، بس شکر کیجیے اور شُکر بھی خوف کے ساتھ کہ کہیں نیّت میں کوئی کھوٹ تو نہ تھی کہ رب کو ریا کاری و خودنمائی قبول نہیں۔ اب کمر کس لیجیے، جسمانی و مالی کسی عبادت سے نہ رکیے، ہاتھ تنگ کیجیے نہ دل کہ رب کو یہی مقصود ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل