Loading
ایران کی پارلیمنٹ کے رکن علاالدین بروجردی نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے متعدد جہازوں سے تقریباً 20 لاکھ ڈالر بطور ٹرانزٹ فیس وصول کی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن علا الدین بروجردی نے ایک ٹی وی پروگرام میں بتایا کہ ہیں ایران نے 47 سال بعد آبنائے ہرمز پر خودمختاری کا ایک نیا تصور قائم کیا ہے اور اب چند جہازوں سے گزرنے کے لیے 20 لاکھ ڈالر وصول کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض جہازوں سے 20 لاکھ ڈالر کی ٹرانزٹ فیس وصول کرنا ایران کی طاقت کی عکاسی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے مارچ کے آغاز سے ہی مؤثر طور پر آبنائے ہرمز کو زیادہ تر جہازوں کے لیے بند کر دیا ہے، جو تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور جہاں سے عام طور پر روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اور دنیا کی ایل این جی کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔
ایران کی جانب سے اس بندش کے باعث شپنگ اور انشورنس کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور عالمی معیشت کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع کیے گئے حملوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں تعطل آیا ہے جبکہ ایران پر حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامہ ای اور پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز سمیت اہم شخصیات کی شہادت بھی ہوئی ہے اور اب تک 1300 سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں، ان میں ایک اسکول پر ہونے والی بمباری میں ڈیڑھ سو زائد بچوں کی شہادت بھی شامل ہے۔
ایران نے جواب میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات، اردن، عراق اور سمیت خلیجی ممالک ممالک میں قائم امریکی مراکز پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں، جس سے جانی نقصان، انفرا اسٹرکچر بھی تباہ ہوا ہے، اس کے علاوہ عالمی منڈیوں اور فضائی سفر میں بھی خلل پیدا ہوا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل