Thursday, March 26, 2026
 

پنجاب حکومت کو دفاتر کیلیے ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی زمین لینے سے روک دیا گیا

 



عدالت عالیہ نے پنجاب حکومت کو سرکاری دفاتر کے لیے ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی اراضی لینے سے روک دیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد چوہدری اقبال نے سیالکوٹ کے رہائشی نوید خالد کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر اہم سماعت کی، جس میں عدالت نے پنجاب حکومت کو یونیورسٹی کی اراضی سرکاری دفاتر کے لیے واپس لینے سے روک دیا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت نے سن 2005 میں ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کے قیام کے لیے مجموعی طور پر 200 ایکڑ اراضی مختص کی تھی۔ میاں داؤد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ویمن یونیورسٹی کی اراضی پر تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور وہاں طالبات زیر تعلیم ہیں۔ یہ یونیورسٹی علاقے کی بچیوں کے لیے واحد اور بہترین تعلیمی ادارہ ہے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اب وزیر دفاع خواجہ آصف کی خواہش پر انتظامیہ یونیورسٹی کی 120 ایکڑ جگہ واپس لینا چاہ رہی ہے۔ اس حوالے سے خواجہ آصف کا بیان بھی درخواست کے ساتھ منسلک ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ مقامی انتظامیہ نے جھوٹ پر مبنی ریکارڈ کی بنیاد پر معاملہ پنجاب کابینہ کو بھیجا۔ جس کے بعد کابینہ نے اسی غلط ریکارڈ پر زمین واپسی کی منظوری دی۔ ریکارڈ کے مطابق پنجاب حکومت طالبات سے اراضی چھین کر وہاں کلرکوں کے لیے دفاتر تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ میاں داؤد نے اسے بنیادی آئینی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ سماعت کے دوران جسٹس چودھری محمد اقبال نے پنجاب حکومت کے وکیل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل چودھری تنویر اختر سے اہم مکالمہ کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یونیورسٹی کے لیے جگہ ہمیشہ کم ہی ہوتی ہے۔  حکومت سے کہیں کہ وہ اپنے سرکاری دفاتر کسی دوسری جگہ پر تعمیر کر لے۔ عدالت نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے پنجاب حکومت، ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ اور چانسلر یونیورسٹی (گورنر پنجاب) کو نوٹس جاری کر دیے۔ تمام فریقین کو 3 ہفتوں میں تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل