Thursday, March 26, 2026
 

نئی ٹیموں کی آمد نے مقابلے کا رحجان بڑھا دیا ہے، شاداب خان

 



پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں نئی ٹیموں کی آمد نے مقابلے کا رحجان بڑھا دیا ہے، سب سے بڑی تبدیلی رواں سال کا پلیئرز آکشن ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان نے ایکسپریس ڈیجیٹل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کا نیا دور شروع ہو چکا، بہت سے نئی تبدیلیاں ہو چکی ہیں، 2 نئی ٹیمیں آ گئی ہیں، تیسری کے اونر تبدیل ہوئے، ایونٹ میں جوش وخروش بڑھ گیا ہے، جس طرح 10 سال لیگ نے ترقی کی اب نئے دور میں یہ مزید آگے بڑھے گی۔ شاداب خان نے کہا کہ پی ایس ایل اور فرنچائزز کے لیے معاملات مزید بہتر ہوں گے، نئی ٹیموں کے آنے سے مقابلے کا رجحان بڑھ جائے گا، 8 ٹیموں کی موجودگی میں مختلف کمبی نیشنز کے ساتھ ایونٹ میں حصہ لینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل میں سب سے بڑی تبدیلی رواں سال کا پلیئرز آکشن ہے، بطور کھلاڑی آپ کو خود بھی اپنی قدر و قیمت کا اندازہ ہونا چاہیے، مجھے بھی دوسری فرنچائز سے آفر آئی تھی لیکن میں نے شروع سے ہی ایک بات کہی ہے کہ جب تک اسلام آباد یونائیٹڈ والے خود نہیں نکالتے میں اس ٹیم کو نہیں چھوڑوں گا۔ شاداب خان نے کہا کہ ہماری ٹیم کا کمبی نیشن اچھا بن گیا ہے، اس بار ہم نے فاسٹ بولرز پر زیادہ انحصار کیا ہے تاکہ کسی کو اگر ریکوری کا وقت چاہیے تو مل جائے۔ ہمارے پاس نوجوانوں کے ساتھ تجربہ کار کھلاڑی بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور کھلاڑی میری ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ  پہلے سے اچھا پرفارم کروں، میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ بطور آل راؤنڈر جب بھی ٹیم کو میری ضرورت پڑے تو اس کے کام آؤں، کپتان کی حیثیت سے اگر میں اچھا کھیل پیش کروں گا تو اس سے ٹیم کو بھی میچ جیتنے میں مدد ملے گی۔ شاداب خان کا کہنا تھا کہ میری کوشش ہوتی ہے کہ کھلاڑیوں کو اتنی آزادی دوں کہ وہ اسے اپنی ٹیم سمجھتے ہوئے پرفارم کریں، انہیں اچھا ماحول اور اتنا اعتماد دیا جائے کہ اپنی مکمل صلاحیتوں کا اظہار کریں، جب کوئی پلیئر کسی ٹیم کو اپنا سمجھنے لگے تو اس سے کپتان کے لیے معاملات آسان ہو جاتے ہیں، اسے اتنی زیادہ مداخلت کی ضرورت نہیں پڑتی،کھلاڑیوں کا اعتماد بھی بہت بڑھ جاتا ہے۔ آخری 2 انٹرنیشنل میچز میں اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں شاداب خان نے کہا کہ بطور کرکٹر میں آخری 2 انٹرنیشنل میچز میں اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں، مجھے لگتا ہے کہ ورلڈکپ میں اگر انگلینڈ  اور سری لنکا کے خلاف میں بہتر پرفارم کرتا تو ٹیم کی ایونٹ میں پوزیشن مختلف ہوتی، امید ہے کہ دوبارہ جب موقع ملے گا اس میں سابقہ غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے فٹنس کا کوئی مسئلہ نہیں، معاملات اچھے انداز میں چل رہے ہیں، امید ہے آگے بھی ایسا ہی رہے گا۔ ہیسن کے ساتھ اچھا وقت گزرا، فرنچائز کرکٹ میں کسی کی کمی محسوس نہیں ہوتی شاداب خان نےکہا کہ اس بار ہمارے ہیڈ کوچ لیوک رونکی ہیں، جب کوئی کوچ انٹرنیشنل سلیکشن میں شامل ہو تو وہ پی ایس ایل فرنچائز کے ساتھ کام نہیں کر سکتا، اس لیے مائیک ہیسن اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ نہیں ہیں، مجھے حتمی طور پر تو نہیں پتا لیکن سنا یہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرنچائز کرکٹ میں کسی کی کمی محسوس نہیں ہوتی، البتہ ہیسن کے ساتھ ہمارا بہت اچھا وقت گزرا اور ہم چیمپئن بھی بنے، ان کے ساتھ اچھی وابستگی تو ہے، رونکی بھی بطور کھلاڑی کافی عرصے ہمارے ساتھ رہ چکے، ان کے ساتھ بھی اچھی ہم آہنگی ہے، میں رونکی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملنے پر بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں۔ میکس برائنٹ ٹیم کی بیٹنگ میں بہت اہم کردار ادا کریں گے شاداب خان نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے ڈیون کونوے اور مارک چیپمین ہمارے اسکواڈ کا حصہ ہیں، آندرے گوس بھی ہیں، میکس برائنٹ ہماری بیٹنگ میں بہت اہم کردار ادا کریں گے۔ اس کے ساتھ نوجوان کھلاڑیوں میں سمیر منہاس بہت باصلاحیت پلیئر ہیں، محمد فائق، حیدر علی اور مہران ممتاز بھی اچھے پلیئرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور قلندرز سے گزشتہ برس کوالیفائرز کی شکست کا بدلہ تو لینا ہے لیکن ہم لاہور میں جتنے بھی میچز کھیلتے ہیں وہاں ریکارڈ اچھا نہیں ہوتا،کوشش کریں گے کہ اگر لاہور میں میچز ہوں تو ٹیم میں ایسے پلیئرز رکھیں جن کی وہاں کارکردگی اچھی رہی ہو۔ لیگ میں راولپنڈیز کا اسلام آباد کے ساتھ اچھا ٹاکرا ہو گا شاداب خان نے کہا کہ پی ایس ایل میں اب اب راولپنڈی کی ٹیم بھی شامل ہو گئی ہے، اس کا اسلام آباد سے اچھا ٹاکرا ہو گا، راولپنڈیز کے کھلاڑیوں سے ابھی مقابلوں کے حوالے سے زیادہ بات نہیں ہوئی، پریکٹس وغیرہ میں ہی ملاقات ہو گی، جب ٹورنامنٹ کا آغاز ہو تو دوستوں کے ساتھ میچز پر باتیں ہوتی ہیں، بتدریج یہ سلسلہ مزید بڑھ جائے گا۔ نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ سے پی ایس ایل کی تیاریوں کا اچھا موقع ملا شاداب خان نے کہا کہ کھلاڑیوں کو نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ سے پی ایس ایل کی تیاریوں کا اچھا موقع ملا، سب نے بھرپور  میچ پریکٹس بھی کر لی، ایونٹ کے دوران مقابلے کا رجحان بھی بہت تھا، بطور کھلاڑی آپ کو جن شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان میچز سے لے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل جیسے سخت مقابلوں کے حامل ایونٹ سے قبل ایسے ٹورنامنٹس کھیل کر اعتماد بھی بڑھ جاتا ہے اور بطور کرکٹر فائدہ ہوتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل