Loading
گھروں میں روزمرہ کھانا پکانے کے لیے کوکنگ آئل کا استعمال معمول کی بات ہے، تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کی زیادتی صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ تیل کھانے کا ذائقہ اور خوشبو بہتر بناتا ہے اور پکانے کے عمل کو آسان کرتا ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ استعمال دل کے امراض سمیت کئی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہارٹ اٹیک اور دیگر قلبی مسائل میں اضافے نے بھی اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی مناسب مقدار ہر فرد کے وزن، عمر اور طرزِ زندگی پر منحصر ہوتی ہے، تاہم عمومی طور پر ایک صحت مند شخص کے لیے روزانہ تقریباً دو کھانے کے چمچ، یعنی 25 سے 30 ملی لیٹر تیل کافی سمجھا جاتا ہے۔
ہفتہ وار بنیاد پر یہ مقدار 150 سے 170 ملی لیٹر کے درمیان ہونی چاہیے۔ یہ حد صرف کھانا پکانے میں استعمال ہونے والے تیل کے لیے ہے، جبکہ تلی ہوئی اشیاء اور پراسیسڈ فوڈ اس میں شامل نہیں ہوتے۔
زیادہ تیل کے استعمال سے جسم میں خراب کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے، جو شریانوں کی بندش، دل کے دورے اور فالج کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ موٹاپا، پیٹ کی چربی، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے مسائل کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، اور ایک بار چربی جمع ہو جائے تو اسے کم کرنا آسان نہیں رہتا۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ایک ہی قسم کے تیل پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف صحت بخش تیلوں کو متوازن انداز میں استعمال کیا جائے۔ زیتون، سرسوں، مونگ پھلی، سورج مکھی اور سویا بین کے تیل نسبتاً بہتر سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان میں دل کے لیے مفید چکنائیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ کولڈ پریسڈ آئل کے استعمال کو ترجیح دینے اور ٹرانس فیٹس سے بھرپور تیل سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔
جہاں تک گھی کا تعلق ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے مکمل طور پر ترک کرنا ضروری نہیں، تاہم اسے محدود مقدار میں اور کبھی کبھار استعمال کرنا ہی بہتر ہے تاکہ صحت کے خطرات سے بچا جا سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل