Loading
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں ایڈیشن میں دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز کی ٹیم ایک نئے تنازعے کی زد میں آ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس نے لاہور قلندرز کی ٹیم پر سیکیورٹی پروٹوکول کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
پولیس کی جانب سے لکھے گئے ایک خط کے مطابق ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی اور ایک غیر ملکی کھلاڑی سکندر رضا نے مبینہ طور پر ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے چار غیر مجاز افراد کو ہوٹل کے اس فلور تک پہنچایا جہاں ٹیم قیام پذیر تھی۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ یہ افراد ایک کھلاڑی کے کمرے میں تقریباً تین گھنٹے تک موجود رہے۔
رپورٹ کے مطابق پہلے ٹیم کے لائژن افسر نے متعلقہ حکام سے ان افراد کو داخلے کی اجازت دینے کی درخواست کی، تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر اسے مسترد کر دیا گیا۔
بعد ازاں فرنچائز کی انتظامیہ کی جانب سے بھی اجازت لینے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بھی ناکام رہی۔
اس کے باوجود مبینہ طور پر کھلاڑیوں نے سیکیورٹی عملے کی مزاحمت کے باوجود مہمانوں کو اندر لے جانے میں کامیابی حاصل کی۔
پولیس نے اس عمل کو سیکیورٹی پروٹوکول کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ٹیم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معاملے پر لیگ حکام سے رابطہ جاری ہے اور جلد وضاحت پیش کی جائے گی۔
سکندر رضا نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں سکندر رضا نے کہا کہ شاہین نے کوئی من مانی نہیں کی، میں نے اس سے کہا تھا کہ میری فیملی آئی ہے، وہ میری درخواست پر انہیں لے کر آیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ میرا پی ایس ایل میں یہ پانچواں سال ہے، پہلے چار سالوں میں ایسا کبھی نہیں ہوا، اب اگر پروٹوکول بنے ہیں تو اس سے میں اور شاہین لاعلم تھے۔
شاہین شاہ آفریدی نے کوئی من مانی نہیں کی وہ میری درخواست پر گیا تھا میں نے ہی اسے کہا تھا کہ میری فیملی آئی ہے۔ پہلے 4 سال میں ایسا کچھ نہیں تھا اگر کوئی تبدیلی ہوئی تو مجھے علم نہیں اس سارے معاملے کا مجرم آپ کے سامنے بیٹھا ہے، سکند رضا pic.twitter.com/0mn56VAgss
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) March 29, 2026
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل