Tuesday, March 31, 2026
 

: 190 ملین پاؤنڈ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستوں پر سماعت

 



اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے کی۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر جاوید اشرف اور رافع مقصود بھی پیش ہوئے۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خانم، عظمیٰ خان اور نورین خانم بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔ نیب اسپیشل پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا معطلی درخواستوں کی قابل سماعت سے متعلق دو متفرق درخواستیں دائر کی گئی ہیں، اپیلوں پر نوٹس کے بغیر سزا معطلی درخواستیں نہیں سنی جا سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں ترمیم کے بعد اپیلوں پر نوٹس کے بغیر سزا معطلی نہیں سنی جا سکتی اور اگر دفاع اپیلوں پر دلائل دینا چاہتا ہے تو آج سے شروع کرے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 17 جنوری 2025 کو سزائیں ہوئیں، تقریباً 14 ماہ گزر چکے ہیں اور اس دوران پراسیکیوشن کی جانب سے التوا مانگا جاتا رہا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ وہ مرکزی اپیل پر نہیں بلکہ سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی چاہتے ہیں، بشریٰ بی بی ٹرائل کے دوران ضمانت پر تھیں جبکہ میڈیکل گراؤنڈ بھی موجود ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر ہفتے میں دو دن دیے جائیں تو کیا اپیلوں پر دلائل دیے جا سکتے ہیں۔ سلمان صفدر نے کہا کہ پانچ ماہ سے اپنے مؤکلین سے ملاقات نہیں ہوئی اور اپیلوں پر دلائل کے لیے ہدایات لینا ضروری ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ ملاقات کر لیں، عدالت آئندہ ہفتے کی تاریخ دے دیتی ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر یہ دس منٹ کا کیس ہے تو اپیل پر دلائل کیوں نہیں دیے جا رہے، جبکہ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر اپیل مقرر ہو گئی تو سزا معطلی درخواستیں نہیں سنی جائیں گی۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب کیسز میں خواتین کو جلد ضمانت دی جاتی ہے، کیس کو لٹکایا جا رہا ہے اور پہلے سزا معطلی درخواستیں سنی جائیں۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ہدایات لینے کے لیے مہلت مانگ لی۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ توشہ خانہ ون میں اپیلیں نہیں لگ رہیں، پچھلی اپیلیں پڑی ہوئی ہیں وہ پہلے سنی جانی چاہئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اپیل مقرر ہو گی تو سزا معطلی نہیں سنی جائے گی ، سلمان صفدر  نے مؤقف اپنایا کہ میں بانی اور بشری بی بی سے ملاقات کے بغیر کچھ نہیں کہ سکتا۔ چیف جسٹس نے سلمان صفدر سے مکالمہ کیا کہ آپ ملاقات کا وقت لے لیں میں آپ کو آئندہ ہفتے کی تاریخ دے دیتا ہوں۔ سلمان صفدر نے کہا کہ ساری باتیں ان کی تو نہیں مانیں جائیں گی میری بات بھی مانیں ،  نیب کیسز میں خواتین کو پندرہ پندرہ دن میں ضمانتیں دے دی جاتی ہیں، نیب کی جانب سے کیس لٹکانے پر آپ ہماری سزا معطلی کی درخواستیں سنیں، اگر عدالت میرے کلائنٹس سے ملاقات کرانے کی یقین دہانی کرا دے تو میں چلا جاتا ہوں، میں پروفیشنل وکیل ہوں میں اسی متعلق بات کروں گا۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ یہ نیب جو آپشن آپ کو دے رہا ہے یہ بہتر آپشن ہے ،  چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سلمان صفدر سے مکالمہ کیا کہ آپ ہفتے میں دو دن لے لیں۔ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اپیلوں پر دلائل دیں گے یا نہیں ؟ سلمان صفدر نے بانی اور بشری بی بی سے ہدایات لینے کے لئے لئے مہلت کی استدعا کر دی،  عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل