Tuesday, March 31, 2026
 

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی عالمی فضائی صنعت کیلئے بڑا چیلنج بن گئی

 



مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی فضائی صنعت کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جہاں ایئرلائنز ایندھن کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے اور طیاروں کی قلت سے دوچار ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی ایئرلائنز نے کرایوں میں اضافہ اور پروازوں میں کمی کر دی ہے جس سے سال 2026 میں متوقع 41 ارب ڈالر منافع کی پیشگوئی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ایوی ایشن ماہرین کے مطابق جیٹ فیول کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث ایئرلائنز اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں اور متعدد ایئرلائنز کی جانب سے فیول سرچارج بھی نافذ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئرلائنز کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ سپلائی چین کے مسائل کے باعث نئے طیاروں کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی سطح پر مسافروں کی ریکارڈ تعداد کے باوجود بحران برقرار ہے اور ایندھن کی مہنگائی و طیاروں کی کمی کے باعث ایئرلائنز کو مزید سخت فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل