Loading
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے لبنان میں غزہ جیسی تباہی مچانے کی تنبیہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سرحد کے قریب لبنانی دیہات میں تمام گھروں کو تباہ کر دیا جائے گا اور جنوب سے نقل مکانی کرنے والے 6 لاکھ افراد کو اس وقت تک واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک شمالی اسرائیل محفوظ نہیں ہو جاتا جبکہ حزب اللہ نے 5 ہزار ڈرونز اور میزائل حملے کیے ہیں۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان میں ایک بفر زون قائم کرنے کے اسرائیلی منصوبوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران کی حمایت تنظیم حزب اللہ کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد اسرائیل دریائے لیتانی تک کے علاقے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔
اسرائیلی وزیردفاع نےکہا آپریشن کے اختتام پر اسرائیلی فوج لبنان کے اندر ایک سیکیورٹی زون قائم کرے گی جو اینٹی ٹینک میزائلز کے خلاف دفاع کی لائن ہوگی اور لیتانی پل کے ساتھ ساتھ دریائے لیتانی تک کے پورے علاقے پر سیکیورٹی کنٹرول برقرار رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فورسز حزب اللہ کے خاص رادوان فائٹرز کو ختم کریں گی جو جنوب میں گھس آئے ہیں اور تمام ہتھیار تباہ کیے جائیں گے، بے گھر ہونے والے رہائشیوں کو لیتانی کے جنوب میں واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک کہ شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کی حفاظت اور سکیورٹی یقینی نہ ہو۔
اسرائیل کاٹز نے کہا کہ غزہ میں رافہ اور بیت حنون میں استعمال کیے جانے والے ماڈل کی طرح لبنانی سرحد کے قریب دیہات میں تمام گھروں کو تباہ کیا جائے گا تاکہ شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کے قریب موجود خطرات کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے ایک نئی حملوں کی لہر کا بھی اعلان کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ لبنان میں 2 مارچ کو اسرائیل کی جانب سے ایران کی حزب اللہ کے خلاف کارروائی شروع کیے جانے کے بعد12 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور مزید1,200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
خیال رہے کہ دریائے لیتانی بحیرۂ روم میں اسرائیل کی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹرشمال میں جا گرتا ہے اور اس دریا اور اسرائیلی سرحد کے درمیان کا علاقہ لبنان کے تقریباً 10 فیصد رقبے کے برابر بنتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے رواں ماہ کے اوائل میں حزب اللہ کے زیرانتظام علاقوں سمیت بیروت کے جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں اور مشرقی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے نام پر شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
حزب اللہ کے 5 ہزار ڈرونز اور میزائل حملے
اسرائیلی فوج کے ترجمان نیدو شوشانی نے کہا کہ حزب اللہ نے اس تنازع کے دوران تقریباً 5 ہزا ر راکٹ اور میزائل اسرائیل کی طرف داغے ہیں۔
یہ جنگ 2024 کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دوسرا بڑا تصادم ہے اور پچھلی جنگ میں اسرائیل نے حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچایا تھا اور ان کے سربراہ حسن نصراللہ اور ہزاروں افراد کو شہید کردیا گیا گیا تھا۔
لبنانی وزارتِ صحت نے رپورٹ میں بتایا کہ ایک ہزار 247 افراد اسرائیلی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں، جن میں 124 بچے اور 52 طبی عملے کے ارکان شامل ہیں، ذرائع نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ400 سے زائد حزب اللہ کے جنگجو مارے گئے۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اس کے 10 فوجی حزب اللہ کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل