Loading
نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں بڑے پیمانے پر تطہیر کے لیے نئی پالیسیوں کی منظوری دے دی گئی۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے "مینٹیننس" کے نام پر ہونے والے بھاری اخراجات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ٹوٹ پھوٹ کے کاموں کی آڑ میں قانونی طور پر کرپشن کی اجازت نہیں دے سکتے۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت این ایچ اے کا اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس ہوا، وفاقی سیکرٹری مواصلات اور چیئرمین این ایچ اے نے وفاقی وزیر کو اہم امور پر بریفنگ دی۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ چئیرمین این ایچ اے فوری طور پر محکمانہ اصلاحات کا مربوط پلان وضع کریں، ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم ایک ایک پیسہ بچائیں اور نیچے "کھابے" چل رہے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ این ایچ اے نجی شعبے سے اہل اور ایماندار ایگزیکٹوز کی خدمات حاصل کرے، وفاقی وزیر مواصلات نے این ایچ اے منصوبوں کی زیر التواء تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ خرچ ہونے والے فنڈز کی جوابدہی، سخت مانیٹرنگ ہونی چاہیے، مرمتی کاموں کا موقع پر سروے، چیک اینڈ بیلنس کا مؤثر نظام بنانا ہو گا۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ شفافیت کے لیے این ایچ اے تھرڈ پارٹی ایویلیویشن کرائے، عبدالحکیم موٹروے این 3 پر تعمیراتی شکایات کو جلد از جلد دور کریں، تعمیراتی منصوبوں میں خرابی کے ذمہ داران کا واضح تعین ہونا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ محنت سے کمائے ہوئے پیسے کو ضائع نہیں ہونے دیں گے، چیئرمین این ایچ اے ادارے میں نیا میکنیزم لائیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل