Loading
جنوبی بھارت کی ملیالم فلم انڈسٹری ایک بار پھر تنازعے کی زد میں آگئی ہے جہاں معروف فلم ساز رنجیت بالاکرشنن کو ایک اداکارہ کو ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی اداکارہ کی شکایت پر عمل میں آئی، جس میں انہوں نے شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔
شکایت کے مطابق فلم کی شوٹنگ کے دوران رنجیت نے اداکارہ کو ایک کارواں میں بلا کر مبینہ طور پر نامناسب رویہ اختیار کیا اور ہراسانی کی کوشش کی۔ اس بیان کی بنیاد پر پولیس نے فوری مقدمہ درج کرتے ہوئے مختلف سنگین دفعات شامل کیں، جن میں جنسی ہراسانی، خواتین کی عزت مجروح کرنے، ناجائز قید اور غیر اخلاقی حرکات جیسے الزامات شامل ہیں۔
پولیس نے ملزم کو حراست میں لینے کے بعد مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا، جہاں عدالت نے انہیں 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ دوسری جانب رنجیت کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ جلد ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب رنجیت بالاکرشنن اس نوعیت کے الزامات کا سامنا کر رہے ہوں۔ اس سے قبل 2024 میں بھی ایک بنگالی اداکارہ نے ان پر ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد انہیں کیرالہ چلاچترا اکیڈمی کی چیئرمین شپ چھوڑنا پڑی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل